گوانتامو: قیدیوں کا محافظوں پر حملہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کیوبا کی خلیج گوانتاموبے میں قائم امریکی حراستی مرکز میں قیدیوں نے امریکی محافظوں پر اس وقت حملہ کر دیا جب یہ محافظ ایک قیدی کو بظاہر اقدام خودکُشی سے روکنے کے لیے اس کے سیل میں داخل ہوئے۔ امریکی فوجی ترجمان کے مطابق یہ واقعہ جمعرات کو پیش آیا۔ دس قیدیوں نے برقی آلات کو بطور ہتھیار استعمال کیا۔ گارڈز نے قیدیوں پر قابو پانے کے لیے مخصوص سپرے اور شاٹ گن کے غیر مہلک فائر کئے۔ ان قیدیوں کی دیکھا دیکھی دوسرے قید بھی مشتعل ہوگئے اور انہوں نے اپنی کوٹھریوں میں توڑ پھوڑ شروع کردی۔ ترجمان کے مطابق پچیس محافظ ایک گھنٹے کی تگ و دو کے بعد کہیں ان مشتعل قیدیوں پر قابو پاسکے۔ اس دوران چند قیدیوں کو معمولی چوٹیں بھی آئیں۔ اسیران گوانتاناموبے کا یہ سب سے پرتشدد واقعہ بتایا گیا ہے۔ فوج کے مطابق جمعرات کو دو دوسرے قیدیوں نے بھی دوا کی زیادہ خوراک کھا کر خودکشی کی کوشش کی تھی۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ سنہ دو ہزار دو سے اب تک اقدام خودکشی کے اکتالیس واقعات ہوچکے ہیں جبکہ مقدمہ چلائے بغیر قید میں رکھے جانے کے خلاف بھوک ہڑتال معمول کی بات ہے۔ یہ واقعات ایسے وقت میں رونما ہوئے ہیں جب تشدد کے خلاف اقوام متحدہ کی کمیٹی نے جمعہ کے روز امریکہ سے کہا ہے کہ وہ گوانتاناموبے کے حراستی مرکز کو بند کردے۔ کیونکہ قیدیوں کے ساتھ کیا جانے والا بعض سلوک اذیت کے زمرے میں آتا ہے۔ تاہم امریکہ نے اس مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی کمیٹی نے تمام حقائق کو پیش نظر نہیں رکھا ہے۔ اور یہ کہ گوانتاناموبے میں انتہائی خطرناک قیدیوں کو رکھا گیا ہے۔ | اسی بارے میں ’امریکہ گوانتانامو کو بند کرے‘19 May, 2006 | آس پاس ’گوانتانامو ناانصافی کی مثال بن گیا ہے‘11 May, 2006 | آس پاس ’گوانتاناموجیل بند کرسکتا ہوں‘07 May, 2006 | آس پاس قیدیوں پر تشدد نہیں کرتے: امریکہ05 May, 2006 | آس پاس گوانتانامو: قیدیوں کی پہلی فہرست20 April, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||