BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 11 June, 2006, 07:52 GMT 12:52 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
خودکشیاں ’پی آر‘ کے لیئے: امریکہ
گوانتانامو بے
قیدیوں نے اپنے کپڑوں اور بیڈ شیٹوں سے پھندے بنا کر خودکشی کی
امریکی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ خلیج گوانتامو کے قید خانے میں تین قیدیوں کی خودکشی ایک سوچا سمجھا جنگی حربہ ہے۔

گوانتامو کیمپ کے کمانڈر ایڈمرل ہیری ہیرس کا کہنا ہے کہ انہیں یقین ہے کہ قیدیوں نےخود کشی مایوسی کی وجہ سے نہیں کی بلکہ وہ اسے ان کے خلاف ایک جنگی حربے کے طور پر استعمال کرنا چاہتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ’ یہ چالاک لوگ ہیں۔ ان کا مقصد واضح ہے اور انہیں نہ ہی اپنی اور نہ ہماری زندگی کی کوئی فکر ہے‘۔

تعلقات عامہ
 خودکشیاں توجہ حاصل کرنے کی ایک کوشش ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بظاہر اسلامی شدت پسندی کو فروغ دینے کے لیئے کی گئیں
امریکی اہلکار

دریں اثنا ایک امریکی اہلکار کولین گریفی نے ان خودکشیوں کو توجہ حاصل کرنے کی ایک کوشش قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ بظاہر اسلامی شدت پسندی کو ہوا دینے کی کوشش ہے۔

خود کشی کرنے والے قیدیوں میں سے دو کا تعلق سعودی عرب جبکہ ایک کا تعلق یمن سے تھا اور یہ سب ماضی میں قید خانے میں ہونے والی بھوک ہڑتال میں بھی شریک ہو چکے تھے۔

امریکی فوجی حکام نے کہا کہ قیدیوں نے اپنے کپڑوں اور بیڈ شیٹوں سے پھندے بنا کر خودکشی کی۔ حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ قیدیوں کی لاشوں کے پاس سے خط بھی ملے ہیں تاہم انہوں نے ان خطوط کی تفصیل نہیں بتائی۔

خود کشی جنگی حربہ ہے
 قیدیوں نےخود کشی مایوسی کی وجہ نہیں کی بلکہ وہ اسےایک جنگی حربے کے طور پر استعمال کرنا چاہتے تھے۔ یہ چالاک لوگ ہیں۔ ان کا مقصد واضح ہے اور انہیں نہ ہی اپنی اور نہ ہماری زندگی کی کوئی فکر ہے۔
ایڈمرل ہیری ہیرس

حکام کا کہنا کہ گوانتاموبے کے قید خانے میں خود کشی کا یہ پہلا واقعہ ہے۔خلیج گوانتانامو میں قید افراد ماضی میں بھی متعدد بار خودکشی کی کوششیں کر چکے ہیں لیکن ان میں سے کوئی بھی کامیاب نہیں ہوئی تھی۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ امریکی صدر جارج بش نے قیدیوں کی خود کشی پرگہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ترجمان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ خودکشی کرنے والے افراد کی میّتوں سے احترام اور ان کے ثقافتی پس منظر کے حساب سے سلوک کیا جائے۔

افغانستان میں طالبان کی حکومت گرائے جانے کے بعد امریکہ نےالقاعدہ سے مبینہ طور پر تعلق رکھنے والے سینکڑوں لوگوں کو خلیج گوانتامو کے فوجی اڈے پر بنائے گئے جیل خانے میں بغیر کوئی مقدمہ چلائے بند کر رکھا ہے۔

امریکہ میں حقوق انسانی کی تنظیم ہیومین رائٹس واچ کے ایکزیکیٹو ڈائریکٹر، کینتھ راتھ کے مطابق یہ اقدام قیدیوں کی شدید مایوسی کا مظہر ہے۔ کینتھ راتھ کا کہنا ہے کہ خلیج گوانتامو جیل کے قیدی مایوسی کا شکار ہیں کیونکہ انہیں غیرقانونی طور پر وہاں رکھا گیا ہے جہاں آج تک ان کو کسی غیر جانبدار جج کے سامنے پیش نہیں گیا نہ ہی کسی جرم میں انہیں سزا سنائی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ’انہیں دہشتگردی کے خلاف نام نہاد جنگ کے خاتمے تک قید رکھنے کی باتیں کی جا رہی ہیں جو ہمارے خیال میں کبھی ختم نہیں ہوگی‘۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد