خودکشیاں ’پی آر‘ کے لیئے: امریکہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ خلیج گوانتامو کے قید خانے میں تین قیدیوں کی خودکشی ایک سوچا سمجھا جنگی حربہ ہے۔ گوانتامو کیمپ کے کمانڈر ایڈمرل ہیری ہیرس کا کہنا ہے کہ انہیں یقین ہے کہ قیدیوں نےخود کشی مایوسی کی وجہ سے نہیں کی بلکہ وہ اسے ان کے خلاف ایک جنگی حربے کے طور پر استعمال کرنا چاہتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ’ یہ چالاک لوگ ہیں۔ ان کا مقصد واضح ہے اور انہیں نہ ہی اپنی اور نہ ہماری زندگی کی کوئی فکر ہے‘۔
دریں اثنا ایک امریکی اہلکار کولین گریفی نے ان خودکشیوں کو توجہ حاصل کرنے کی ایک کوشش قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ بظاہر اسلامی شدت پسندی کو ہوا دینے کی کوشش ہے۔ خود کشی کرنے والے قیدیوں میں سے دو کا تعلق سعودی عرب جبکہ ایک کا تعلق یمن سے تھا اور یہ سب ماضی میں قید خانے میں ہونے والی بھوک ہڑتال میں بھی شریک ہو چکے تھے۔ امریکی فوجی حکام نے کہا کہ قیدیوں نے اپنے کپڑوں اور بیڈ شیٹوں سے پھندے بنا کر خودکشی کی۔ حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ قیدیوں کی لاشوں کے پاس سے خط بھی ملے ہیں تاہم انہوں نے ان خطوط کی تفصیل نہیں بتائی۔
حکام کا کہنا کہ گوانتاموبے کے قید خانے میں خود کشی کا یہ پہلا واقعہ ہے۔خلیج گوانتانامو میں قید افراد ماضی میں بھی متعدد بار خودکشی کی کوششیں کر چکے ہیں لیکن ان میں سے کوئی بھی کامیاب نہیں ہوئی تھی۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ امریکی صدر جارج بش نے قیدیوں کی خود کشی پرگہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ترجمان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ خودکشی کرنے والے افراد کی میّتوں سے احترام اور ان کے ثقافتی پس منظر کے حساب سے سلوک کیا جائے۔ افغانستان میں طالبان کی حکومت گرائے جانے کے بعد امریکہ نےالقاعدہ سے مبینہ طور پر تعلق رکھنے والے سینکڑوں لوگوں کو خلیج گوانتامو کے فوجی اڈے پر بنائے گئے جیل خانے میں بغیر کوئی مقدمہ چلائے بند کر رکھا ہے۔ امریکہ میں حقوق انسانی کی تنظیم ہیومین رائٹس واچ کے ایکزیکیٹو ڈائریکٹر، کینتھ راتھ کے مطابق یہ اقدام قیدیوں کی شدید مایوسی کا مظہر ہے۔ کینتھ راتھ کا کہنا ہے کہ خلیج گوانتامو جیل کے قیدی مایوسی کا شکار ہیں کیونکہ انہیں غیرقانونی طور پر وہاں رکھا گیا ہے جہاں آج تک ان کو کسی غیر جانبدار جج کے سامنے پیش نہیں گیا نہ ہی کسی جرم میں انہیں سزا سنائی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ’انہیں دہشتگردی کے خلاف نام نہاد جنگ کے خاتمے تک قید رکھنے کی باتیں کی جا رہی ہیں جو ہمارے خیال میں کبھی ختم نہیں ہوگی‘۔ | اسی بارے میں گوانتاموبے: قیدیوں کی خود کشی10 June, 2006 | آس پاس گوانتانامو: 75 قیدی بھوک ہڑتال پر29 May, 2006 | آس پاس گوانتانامو: قیدیوں کی پہلی فہرست20 April, 2006 | آس پاس گوانتانامو: ڈاکٹروں کی مذمت10 March, 2006 | آس پاس ’گوانتانامو ناانصافی کی مثال بن گیا ہے‘11 May, 2006 | آس پاس ’گوانتاناموجیل بند کرسکتا ہوں‘07 May, 2006 | آس پاس قیدیوں پر تشدد نہیں کرتے: امریکہ05 May, 2006 | آس پاس امریکہ کا گوانتانامو بے بند کرنےسے انکار16 February, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||