’گوانتانامو قیدخانہ بند کر دیں گے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی صدر جارج بش نے یورپی یونین کے رہنماؤں سے ملاقات کے بعد خلیج گوانتانامو کے فوجی حراستی مرکز کو بند کر نے کی بات کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اس حراستی مرکز کو بند کرکے کچھ قیدیوں کو واپس ان کے وطن واپس بھیجنا چاہے گا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ تمام قیدیوں کو واپس نہیں بھیجا جا سکتا کیونکہ بہت سے ان کے بقول قاتل ہیں اور ان پر امریکہ میں مقدمات چلائے جائیں گے۔ اس حراستی مرکز میں چار سوساٹھ افراد قید ہیں۔ اس کی وجہ سے امریکہ کو عالمی سطح پر خاصی تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ حال ہی میں اس حراستی مرکز میں قید چار قیدیوں کی خودکشی کے واقعہ کے بعد امریکی حکومت پر تنقید نے شدت اختیار کر لی تھی۔ آسٹریا کے چانسلر ولفگینگ شوسل جو ان مذاکرات کی میزبانی کے فرائض انجام دے ہے ہیں پہلے ہی واضح کرچکے ہیں کہ صدر بش سے گوانتانامو کو بند کرنے کے معاملے پر واضح طور پر بات کی جائے گی۔ یورپی ممالک اور امریکہ کے درمیان کئی بین الاقوامی معاملات پر شدید اختلافات پائے جاتے ہیں جن میں اسرائیل، فلسطین تنازعہ، ایران کے جوہری پروگرام کا معاملہ اور گوانتانامو کے قید خانے کو بند کرنے کا معاملے اہم ہیں۔ امریکی صدر یورپی رہنماؤں سے ملاقات کے اس موقع پر ایران کے خلاف اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کے لیے راہ ہموار کرنے کی کوشش کریں گے۔ صدر بش کے آسٹریا کے شہر ویانا پہنچنے پر ہزاروں لوگوں نے احتجاج کیا۔
پولیس نے ان متوقع مظاہروں کے پیش نظر پہلے سے احتیاطی تدابیر اختیار کر لی تھیں۔ صدر بش کی امداد سے پہلے انہیں بموں کی کئی افواہوں پر کارروائی کرنی پڑی۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق یورپی یونین کے رہنماؤں سے ملاقات میں امریکہ اور یورپ میں تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کا موقع ملے گا۔ نامہ نگاروں کے مطابق اس ملاقات میں گوانتانامو کے حراستی مرکز کو بند کرنے کے معاملے کے علاوہ کئی ایک متنازع معاملات پر بات ہو گی۔ واشنگٹن سے بی بی سی کے نامہ نگار جوناتھن بیل نے کہا ہے کہ ان مذاکرات میں امریکہ اور یورپ کے درمیان تجارتی اختلافات کو بھی سلجھانے کا موقع ملے گا۔ یورپی رہنما صدر بش سے ان گیارہ ملکوں کے شہریوں کے لیئے امریکہ میں ویزا کے بغیر داخلے کا مطالبہ کریں گے جو اس وقت ویزا سے مستثنٰی نہیں ہیں۔ آسٹریا کے شہر ویانا میں ایک ہزار سے زیادہ مظاہرین نے بدھ کے روزشہر کی سڑکوں پر گشت کیا۔ ان مظاہرین نے بینر اور کتبے اٹھا رکھے تھے جن پر لکھا تھا ’دنیا کا نمبر ون دہشت گرد۔‘ یہ لوگ ’وی ول وی ول فائٹ بش‘ یعنی بش سے لڑیں گے لڑیں گے ۔۔۔کے نعرے بھی لگا رہے تھے۔ | اسی بارے میں ایران: مراعاتی پیکج پر اتفاق01 June, 2006 | آس پاس اقوام متحدہ:امریکہ کی ناراضگی08 June, 2006 | آس پاس ایران کا رد عمل مثبت ہے: بش07 June, 2006 | آس پاس امریکہ سے عالمی امن کو خطرہ ہے 14 June, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||