ایران: مراعاتی پیکج پر اتفاق | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ویانا میں سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان اور جرمنی کے وزراء خارجہ کے اجلاس کے بعد برطانوی وزیر خارجہ مارگیٹ بیکٹ نے اعلان کیا ہے جوہری پروگرام بند کرنے کے عوض ایران کو دی جانے مراعات کے پیکج پر اتفاق ہو گیا ہے۔ ویانا میں برطانوی وزیر خارجہ نے یہ اعلان ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس کے بعد ہونے والی اس پریس کانفرنس میں امریکی وزیر خارجہ کنوڈولیزارائس بھی موجود تھیں۔ امریکی خبر رساں ادارے کے مطابق برطانوی وزیر خارجہ نے کہا کہ ’ مجھے یہ اعلان کرتے ہوئے مسرت ہورہی ہے کہ ہم بڑی دور رس تجاویز پر متفق ہو گئے ہیں۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ انہیں یقین ہے کہ ان تجاویز سے ایران کو اس مسئلہ کا مذاکرات کے ذریعے حل نکالنے کا موقع ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایران نے ان تجاویز کو منظور نہ کیا تو پھر مذید اقدامات کیئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ’ہم مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیئے تیار ہیں بشرط کہ ایران یورینیم کی افزودگی اور ری پراسپسنگ سے متعلق تمام کارروائیاں معطل کر دے۔ انہوں نے کہا ہم ایران پر زور دیتے ہیں کہ وہ مثبت راستہ اختیار کرے اور ہماری ٹھوس تجاویز پر سنجیدگی سے غور کرے جو اس کے لیے فائدہ مند ثابت ہو گی۔
تاہم انہوں نے اس مختصر بیان میں ان اقدامات کی کوئی تفصیل نہیں بتائی۔ انہوں نے کہا کہ اس پیکج کی تفصیلات سے پہلے ایران کو آگاہ کیا جائے گا اور اس کے بعد انہیں منظر عام پر لایا جائے گا۔ امریکی صدر جارج بش نے جمعرات کو خبردار کیا کہ اگر ایران نے حساس نوعیت کی جوہری کارروائیاں ختم نہ کئیں تو وہ سلامتی کونسل کے ذریعے اس کے خلاف کارروائی کرنے کی کوشش کریں گے۔ صدر بش ایرانی وزیر خارجہ منوچہر متقی کے بیان پر اپنے رد عمل کا اظہار کر رہے تھے جس میں انہوں نے یورینیم کی افزودگی ختم نہ کرنے کی بات کی تھی۔ ’اور اگر ایران نے ایسا ہی کیا تو ظاہر ہے اگلا قدم ہمارے اتحادیوں کے پاس یہی ہو گا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے رجوع کریں اور اس کا درآرومدار ایران پر ہے۔‘ صدر بش نے اس بارے میں روس اور چین کے متوقع ردعمل پر زیادہ بات نہیں کی اور انہوں نے چین اور روس کے ایران پر سلامتی کونسل کے ذریعے پابندیاں لگانے کے بارے میں متفق ہونے کی بابت بھی کچھ نہیں کہا۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے امریکہ کی حکمت عمل سے روس صدر ولادمیر پوتن کو آگاہ کیا ہے اور ان کی طرف سے انہیں مثبت جواب ملا ہے۔ امریکی صدر نے جمعرات کو چینی صدر ہو جن تاؤ سے بھی ٹیلی فون پر بات کی تھی۔ صدر بش نے کہا کہ ان کی چینی صدر سے بات چیت کا مثبت پہلو یہ ہے سب اس بات پر متفق ہیں کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہونے چاہیں۔ ’ہم طریقے کار اور حکمت عملی پر بات کریں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ اگر ایران قابل تصدیق انداز میں جوہری پروگرام ختم نہیں کرتا تو بین الاقوامی برادری یک زبان ہو کر بات کرئے۔‘ صدر بش نے کہا کہ ’ایران کے بہترین مفاد میں ہے کہ وہ یہ سمجھنے کی کوشش کرے کہ اگر اس نے جوہری پرگروام کو مکمل اور قابل تصدیق انداز میں بند نہ کیا تو دنیا یک جا ہو کر اس کے خلاف اقدام کرے گی اور یک جا ہو کر اقدام کرنے کے اگلے مرحلے میں سلامتی کونسل سے رجوع کیا جائے گا۔‘ بدھ کو امریکی انتظامیہ کے ایک سینیئر اہلکار نے اس اعتماد کا اظہار کیا تھا کہ اگر ایران یورینیم کی افزودگی بند نہیں کرتا تو روس اور چین اس کے خلاف پابندیاں لگانے پر غور کریں گے۔ ویانا میں امریکہ، یورپ، چین اور روس کے وزرا خارجہ ’ کیرٹ اور اسٹک‘ کی پالیسی یعنی ایک طرف تو مراعات کا لالچ اور دوسری پابندیوں کی دھمکی دینے کی پالیسی اختیار کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ خیال کیا جارہا ہے کہ مراعات کے اس پیکج میں تجارت، دفاع، ٹیکنالوجی سے لے کر ایران کو جوہری بجلی بنانے کے لیے ہلکے پانی کے جوہری ری ایکٹر تیار کے لیےتعاون فراہم کرنے کی تجاویز شامل ہیں۔ اس پیکج کے ابتدائی مسودے کے مطابق ایران کے خلاف ممکنہ پابندیوں میں ایران پر ہتھیاروں کی فروخت پر پابندی عائد کرنے کی تجویز شامل تھی جو کہ روس اور چین کے لیے قابل قبول نہ ہوں۔ روس ایران کو ہتھیار فروخت کرنے والا بڑا ملک ہے جبکہ چین ایرانی تیل کا بڑا خریدار ہے۔ | اسی بارے میں مشروط مذاکرات پر تیار ہیں: امریکہ31 May, 2006 | آس پاس ایران مذاکرات کے لیئے تیار مگر۔۔01 June, 2006 | آس پاس امریکی تجویز ’پراپیگنڈہ‘ ہے: ایران31 May, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||