BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 07 July, 2006, 21:25 GMT 02:25 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نیو یارک ’ٹنل کو اڑانے کامنصوبہ‘

حالیہ دنوں میں امریکہ سے اس طرح کے ’منصوبوں‘ کی اطلاعات آتی رہی ہیں
امریکی اخبار نیو یارک ڈیلی نیوز کے مطابق ایف بی آئی نے نیویارک کو نیو جرسی سے ملانے والی ٹنل کو بم سے اڑانے کے ایک منصوبے کا پتہ لگایا ہے۔ اس سلسلے میں لبنان کی حکومت کے تعاون سے بیروت میں ایک شخص کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔

نیویارک شہر ایک جزیرہ ہے۔ اس تک پہنچنے کے لیے یا تو ہڈسن دریا پر کوئی پل پار کرنا پڑتا ہے، یا دریا کے پانیوں کے نیچے سے گزرنے والی کسی ٹنل یا خندق سے گزرنا پڑتا ہے۔ حکام کے مطابق منصوبہ یہ تھا کہ جنوبی نیو یارک کو پڑوسی صوبے نیو جرسی سے ملانے والی ’کسی‘ ٹنل کو ٹرک میں بھرے دھماکہ خیز مواد کے ذریعے اڑا دیا جائے اور شہر کی فنانشل ڈسٹرکٹ کو پانی میں ڈبو دیا جائے۔

جنوبی نیو یارک شہر کا وہ علاقہ ہے جہاں مشہور وال سٹریٹ اور نیو یارک سٹاک ایکسچینج واقع ہیں، ستمبر 2001 میں تباہ ہونے والا ورلڈ ٹریڈ سنٹر بھی اسی علاقے میں تھا۔

 منصوبہ یہ تھا کہ جنوبی نیو یارک کو پڑوسی صوبے نیو جرسی سے ملانے والی ’کسی‘ ٹنل کو ٹرک میں بھرے دھماکہ خیز مواد کے ذریعے اڑا دیا جائے اور شہر کی فنانشل ڈسٹرکٹ کو پانی میں ڈبو دیا جائے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ اگر یہ بم پھٹ بھی جاتا تو یہ منصوبہ پوری طرح کامیاب نہیں ہو سکتا تھا کیونکہ ایک تو شہر کے لیے بنائی گئی ٹنلز بے حد مضبوط ہیں، اور دوسرے یہ کہ دریا کی سطح شہر سے نیچے ہے اس لیے اگر ٹنل تباہ بھی ہو جاتی تو شہر پانی میں نہ ڈوبتا۔

امریکی خفیہ ایجنسیوں کو مہینوں سے اس منصوبے کا پتہ تھا اور وہ اس بارے میں تحقیقات میں مصروف تھیں۔ لبنان کی حکومت نے امریکی درخواست پر بیروت میں جس شخص کو گرفتار کیا ان کا نام امیر اندلوسلی بتایا جا رہا ہے۔ الزام ہے کہ وہ ٹنل کو اڑانے کی منصوبہ بندی میں شامل تھے۔ لیکن امریکی حکام کے مطابق اس منصوبے میں اور بھی کئی افراد شامل تھے جو امریکہ میں نہیں ہیں اور اس معاملے کی تحقیقات ابھی تک جاری ہیں۔

یہ منصوبہ ابھی تکمیل کے مراحل سے دور تھا۔ ایک امریکی افسر کے مطابق ایف بی آئی کو اس منصوبے کا پتہ انٹرنیٹ چیٹ رومز کی نگرانی کے دوران لگا۔ امریکی حکومت نے اس بات پر ناراضگی ظاہر کی ہے کہ ذرائع ابلاغ نے ایک دفعہ پھر دہشت گردی کے خلاف ان کی کارروائیوں کی تفصیل شائع کر دی ہے۔

حال ہی میں جب اخبارات میں یہ خبر چھپی تھی کہ امریکی حکام سوئفٹ نامی بین الاقوامی ادارے کے تعاون سے لاکھوں لوگوں کی ایک ملک سے دوسرے ملک رقوم بھیجنے کی نگرانی کر رہے ہیں، تو امریکی صدر جارج بش اور نائب صدر ڈک چینی نے خاص طور پر روزنامے نیو یارک ٹائمز کا نام لے کر الزام لگایا تھا کہ ذرائع ابلاغ، دہشت گردوں کو یہ معلومات فراہم کر کے دہشت گردی کے خلاف ان کی جنگ کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔

اس الزام کی امریکی ذرائع ابلاغ نے تردید کی تھی اور نیو یارک ٹائمز کے مدیر نے کہا تھا کہ وہ کوئی بھی خبر چھاپنے سے پہلے قومی سلامتی کو مد نظر رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ ماہرین نے بھی یہ کہا تھا کہ دہشت گرد پہلے ہی امریکی حکومت کی اکثر کاروائیوں سے واقف ہوتے ہیں اور اپنے طریقہ کار بدلتے رہتے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد