BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 28 June, 2006, 11:56 GMT 16:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
صحافیوں پر بش انتظامیہ کی تنقید
صدر بش
صدر بش کا کہنا ہے کہ نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ سے دہشت گردوں کا فائدہ ہوگا
امریکہ میں بش انتظامیہ نے روزنامہ ’دی نیو یارک ٹائمز‘ کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

انتظامیہ نے اخبار کے خلاف یہ جارحانہ رویہ اس لیئے اختیار کیا ہے کہ اس نے حکومت کے اس خفیہ پروگرام کی تفصیل چھاپی تھی جس کے ذریعے وائٹ ہاؤس مشتبہ دہشتگردوں کی مالی کارروائی پر نظر رکھتا ہے۔

صدر جارج بش نے اخبار کی رپورٹنگ کے بارے میں کہا ہے کہ یہ ذلت آمیز اور شرمناک ہے۔

ادھر نائب صدر ڈِک چینی نے کہا ہے کہ نیو یارک ٹائمز کی اس حرکت سے وہ اس لیئے خفا ہیں کہ اس رپورٹ کی وجہ سے ممکنہ دہشت گرد حملوں کے خلاف دفاع کرنا اور مشکل ہو گیا ہے۔

نیو یارک ٹائمز یہ کہانی چھاپنے والا واحد اخبار نہیں ہے البتہ یہ رپورٹ اسی نے سب سے پہلے چھاپی تھی۔ اخبار کے ایگزیکیٹو ایڈیٹر بِل کیلر نے اخبار میں ایک ’اوپن لیٹر‘ میں اس رپورٹ کو چلانے کے فیصلے کا دفاع کیا ہے لیکن جواب میں وزیر خزانہ جان سنو نے اخبار کو ایک انتہائی تنقیدی خط لکھا ہے۔

خط میں وہ کہتے ہیں کہ اخبار نے اپنے اپ کو یہ اختیار دے دیا ہے کہ وہ کسی بھی خفیہ کارروائی پر سے پردا اٹھادے چاہے وہ کارروائی کتنی ہی قانونی اور ذمہ دار کیوں نہ ہو۔

’ناراضگی ہمیشہ رہتی ہے‘
یہ تنازع بش انتظامیہ اور نیو یارک ٹائمز کے درمیان کشیدگی کا پہلا موقع نہیں ہے اور انتظامیہ اور صحافیوں کے درمیان اس طرح کی ناراضگی نئی نہیں ہے۔

ٹاؤسن یونیورسٹی کی پروفیسر مارتھا جوئنٹ کمار پچھلے تیس برس سے امریکی صدر اور پریس کے دمیان تعلقات پر تحقیق کرتی رہی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ہر صدر صحافیوں سے ناراض رہتا ہے کیونکہ اس کا ہمیشہ یہ خیال ہوتا ہے کہ صحافی غلط چیزوں کو اہمیت دیتے ہیں اور صحیح اور مثبت پہلؤوں پر توجہ نہیں دیتے۔

صدر رچرڈ نِکسن کے دور میں وائٹ ہاؤس نے نیو یارک ٹائمز اور واشنگٹن پوسٹ میں ’پینٹاگون پیپرز‘ کے اشاعت کو روکنے کی پوری کوشش کی تھی۔

پینٹاگون پیپرز ویت نام جنگ کے بارے میں خفیہ دستاویزات تھے۔

لیکن پروفیسر کمار کہتی ہیں کہ موجودہ تنازع کی نوعیت پینٹاگون پیپرز کے کیس سے مختلف ہے۔ وہ کیس امریکہ کی سب سے اونچی عدالت سپریم کورٹ تک پہنچ گیا تھا اور اس کا فیصلہ صحافیوں کے حق میں ہوا تھا۔ پروفیسر کمار کہتی ہیں کہ پینٹاگون پیپرز تاریخی دستاویزات تھے جبکہ ’ٹیرورِسٹ فائنانس ٹریکنگ پروگرام‘ یعنی دہشت گردوں کے مالی کارروائیوں کا پتہ رکھنے والا پروگرام ایک جاری منصوبہ ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ یہی وجہ ہے کہ صدر بش اتنے ناراض ہیں ’ان کا رد عمل سیاسی فائدے کے لیئے نہیں ہے، وہ واقعی یہ سمجھتے ہیں کہ اخبار کے اس انکشاف سے اس پروگرام کو خطرے میں ڈال دیا گیا ہے۔‘

 موجودہ تنازع میں ایسا لگتا ہے کہ انتظامیہ پریس کو ہی اپنا نشانہ بنائے رکھے گی۔ کانگیرس کے رکن پیٹر کِنگ نے کہا ہے کہ نیو یارک ٹائمز کے خلاف مقدمہ قائم ہونا چاہیے۔

وہ کہتی ہیں کہ واشنگٹن میں بیشتر افراد اس معاملے میں نیو یارک ٹائمز کی حمایت نہیں کریں گے۔ لیکن حکومت کو یہ بھی معلوم ہے کہ اخبار کو یہ معلومات اس کے ہی کسی فرد نے دی ہوں گی اور اب اسے یہ فیصلہ بھی کرنا ہے کہ کیا وہ اخبارات اور میڈیا پر اپنا حملہ جاری رکھے یا پھر وہ معلومات ’لیک‘ کرنے والے شخص کی شناخت کرنے کی کوشش کرے۔

پروفیسر کمار کے مطابق ماضی میں بھی کئی صدر معلومات ’لیک‘ کرنے والوں کی شناخت کرنے میں لگے تھے لیکن یہ کارروائی زیادہ تر نا کام رہی ہے۔ حال میں اس طرح کے معاملے میں وائٹ ہاوس خود بدنام ہوا جب یہ معلوم ہوا کہ انتظامیہ نے اس پر تنقید کرنے والے ایک سابق سفیر اور ان کی اہلیہ کے بارے میں معلومات لیک کی تھیں۔ اس معاملے میں نائب صدر ڈِک چینی کے چیف آف سٹاف کو مستعفی ہونا پڑا تھا۔

لیکن موجودہ تنازع میں ایسا لگتا ہے کہ انتظامیہ پریس کو ہی اپنا نشانہ بنائے رکھے گی۔ کانگرس کے رکن پیٹر کِنگ نے کہا ہے کہ نیو یارک ٹائمز کے خلاف مقدمہ قائم ہونا چاہیئے۔

 پروفیسر کمار کے مطابق ماضی میں بھی کئی صدر معلومات ’لیک‘ کرنے والوں کی شناخت کرنے میں لگے تھے لیکن یہ کارروائی زیادہ تر نا کام رہی ہے۔ حال میں اس طرح کے معاملے میں وائٹ ہاوس خود بدنام ہوا جب یہ معلوم ہوا کہ انتظامیہ نے اس پر تنقید کرنے والے ایک سابق سفیر اور ان کی اہلیہ کے بارے میں معلومات لیک کی تھیں۔ اس معاملے میں نائب صدر ڈِک چینی کے چیف آف سٹاف کو مستعفی ہونا پڑا تھا۔

نیو یارک ٹائمز کے بل کیلر نے کچھ دیر پہلے کہا تھا کہ موجودہ انتظامیہ صحافیوں کو مسلسل دھمکاتی رہتی ہے۔ واشنگٹن کے ہفتہ وار اخبار ’دی نیشنل جرنل‘ کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ انتظامیہ صحافیوں کے خلاف ایک بہت جارحانہ اور بدلے لینے والا لہجہ استعمال کرتی ہے۔ وہ ان کے خلاف مقدمات کی دھمکی دیتی ہے اور جو صحافی حکومت کی کارروائی پر زیادہ تفتیش کرے، انتظامیہ کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ انہیں غدار قرار دے۔

اس تنازع کا انجام جو بھی ہو وائٹ ہاوس اور پریس کے تعلقات میں کشیدگی برقرار رہے گی۔ بقول پروفیسر کمار ’یہ ایک بہت نازک رشتہ ہوتا ہے۔‘

اسی بارے میں
بیرونی لِنک
بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد