امریکی صحافی کو رہا کر دیا گیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ میں نیویارک ٹائمز کی صحافی جوڈتھ ملر جنہیں اپنی خبر کا ذریعہ نہ بتانے پر جیل کی ہوا کھانی پڑی تھی، رہا کر دیا گیا ہے۔ ملر کو اس وقت رہا کر دیا گیا کہ جب ان کے ذرائع نے انہیں اجازت دی کہ وہ ان کے درمیان ہونے والی بات چیت پر گفتگو کر سکتی ہیں۔ اس سلسلے میں امید کی جا رہی ہے کہ وہ جمعہ کی صبح گرینڈ جیوری کے سامنے پیش ہوں گی۔ یہ کیس دو ہزار تین میں سی آئی اے کی ایک ایجنٹ ولیری پلام کے نام کے پلام کے شوہر سابق سفارت کار تھے جہنوں نے عراق کے بارے میں امریکی صدر بش کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ اس دوران الزام لگایا گیا کہ مبینہ طور پر وائٹ ہاؤس کے کسی ذرائع نے ملر کا نام ظاہر کر دیا۔ امریکہ میں سی آئی اے کے ایجنٹ کے نام کا منظر عام پر آنا وفاق کی جانب سے سزا کا سبب بن سکتا ہے۔ بعد ازاں جوزف نے الزام لگایا کہ ان کی بیوی کا نام انتقاماً ظاہر کیا گیا۔ سپیشل کاؤسنل پیٹرک فٹزگیرلڈ نیویارک ٹائمز کی صحافی جوڈتھ ملر اور لیکن جولائی کے آغاز میں کوپر نے اپنا ذہن تبدیل کر لیا اور اس حوالے سے گواہی دینے پر راضی ہو گئے جبکہ ملر نے یہ کرنے سے انکار کر دیا جس کے بعد انہیں جیل ہوگئی۔ انہیں چھیاسی دن جیل کی سلاخوں کے پیچھے گزارنے پڑے۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق ملر کے ذرائع نےان کو اجازت دے دی ہے کہ وہ اب بطور گواہ کے انہیں لے سکتی ہیں۔ ملر نے ایک بیان میں کہا کہ ’ان کے ذریعہ نے رضاکارانہ اور ذاتی طور پر پراپنا نام خفیہ رکھنے کا وعدہ توڑتے ہوئے ملر کے ساتھ کی جانے والی بات چیت کو بتانے کی اجازت دے دی ہے‘۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||