BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 07 May, 2004, 22:30 GMT 03:30 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پولینڈ کے دو صحافی ہلاک
والڈرمار مائلوز
والڈرمار مائلوز جو ایک بہترین جنگی نمائندہ کی حیثیت سے جانے جاتے تھے۔
عراق میں مسلح افراد نے پولینڈ سے تعلق رکھنے والے صحافی اور ان کے ایک(مدیر) پکچر ایڈیٹر کو ہلاک کر دیا ہے۔

سینتالیس سالہ ٹی وی رپورٹر والڈرمار مائلوز کا تعلق پولینڈ سے تھا اور وہ صحافی کی حیثیت سے جانے جاتے تھے۔

انہوں نے دنیا کے بڑے بڑے تنازعات و واقعات کو دنیا کے سامنے پیش کیا ہے۔

ایک عراقی جو کہ علمے کے ساتھ سفر کر رہا تھا اس کا کہنا ہے کہ مسلح افراد ایک کار پر سوار تھے جنہوں نے پشت سے حملہ کیا اور ان کی گاڑی پر گولیاں برسانی شروع کر دیں۔

اس حملے میں والڈرمار مائلوز کے علاوہ ان کے ساتھی مونر بوامرن بھی ہلاک ہوگئے ہیں۔ ان دونوں کا تعلق پولینڈ اور الجیریا سے تھا۔ جبکہ ان کے ہمراہ جرزی ارنسٹ زخمی ہو گئے تھے۔

جرزی ارنسٹ نے پولینڈ ٹی وی پی کے ہسپتال کے بستر پر سے بتایا ہے کہ ’بڑی شاہراہ کے بند ہونے کے سبب ان کے ڈرائیور نے ایک مضافاتی روڈ کو محفوظ ہونے کی وجہ سے چنا۔

مائلوز اور مونر کار کی پچھلی سیٹ پر بیٹھے تھے اور وہ (جرزی ارنسٹ) خود کار کی اگلی سیٹ پر اپنے کیمرہ کے ساتھ بیٹھے تھے کہ اچانک بلکل پیچھے سے گولیوں کے چلنے کی آوازیں سنیں دینے لگیں اور کار کی کھڑکی پاش پاش ہو گئی۔

اس کے بعد خاموشی طاری ہو گئی اور پھر مونر بوامرن نے چلانا شروع کر دیا۔ وہ (مونر اور جرزی ارنسٹ) گاڑی سے اترے اور انہوں نے دیکھا کہ مائلوز اوندھا پڑا ہے اور اس کی ناک سے خون بہہ رہا ہے۔

انہوں نے اسے گاڑی سے نکالنے کی کوشش کی لیکن دوبارہ گولیاں چلنا شروع ہو گئیں جس کے بعد مونر بوامرن بھی ہلاک ہو گئے اور وہ (جرزی ارنسٹ) زخمی ہو گئے۔

ٹی وی پی نے والڈرمار مائلوز سے متعلق ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں اُن کو پندرہ منٹ کا خراجِ تحسین پیش کیا گیا ہے۔

نیوز ریڈر ڈاونٹا کا کہنا ہے کہ وہ ہر اُس جگہ گئے جہاں سے انہوں نے تنازعات کو دنیا کے سامنے پیش کیا۔ انہوں نے ہمارے لیے اپنی جان خطرہ میں ڈالی تاکہ ہم دنیا کو اصل صورتحال سے باخبر رکھ سکیں۔

اس رپورٹ میں ان کا ایک پرانا انٹرویو بھی شامل ہے جس میں انہوں نے جنگی نمائندہ ہونے کے خطرات کو مسترد کر دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہم کسی قصبے یا علاقے میں بھی ہلاک ہو سکتے ہیں۔

والڈرمار مائلوز ٹی وی پی کے ساتھ انیس سو چوراسی سے کام کر رہے تھے۔ وہ ایک تجربہ کار نمائندہ کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں جنہوں نے بلکنان، چیچینیا اور روانڈا کے اہم تنازعات کو دنیا کے سامنے پیش کیا۔

ان کو چیچینیا میں اعلیٰ نمائندگی کی وجہ سے انیس سو پچانوے میں جان ہوپکنس یونیورسٹی کی جانب سے ایوارڈ سے نوازا گیا۔

اس کے علاوہ چھتیس سالہ مونر بوامرن جو والڈرمار جو مائلوز کے ساتھ ہلاک ہوئے ہیں انہوں نے تقریباً پندرہ سال ٹی وی پی کے ساتھ نمائندے کی حیثیت سے کام کیا۔

یہ تین آدمیوں پر مشتمل عملہ عراق میں صرف تین دن قبل پہنچا تھا جب بغداد کے جنوبی حصے میں حملے ہوئے تھے۔

تاہم اُن کی لاشوں کو لطیفیہ کے سردخانہ میں بھیج دیا گیا ہے جو کہ بغداد سے تقریباً تیس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد