وائٹ ہاؤس اور صحافیوں میں تناؤ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون کے نیوز ویک پر سارا الزام ڈالنے کے خلاف اخباری نمائندوں نے مزاحمتی رویہ اختیار کر لیا ہے۔ نیوز ویک کے واشنگٹن بیورو کے تمام سٹاف نے عہد کیا ہے کہ وہ قرآن کی بےحرمتی کی رپورٹ لکھنے والے نمائندے اساکوف کی بھرپور حمایت کریں گے اور ان کو نوکری سے نکلنے نہیں دیں گے۔ مائیکل اساکوف نے مستعفی ہونے کی پیشکش کی تھی۔ مائیکل اساکوف کا کہنا ہے کہ ان کی رپورٹ کے چھپنے کے دس دن بعد تک پینٹاگون کو کوئی اعتراض نہیں تھا۔ جس کا یہ مطلب لیا جا سکتا ہے کہ یہ رپورٹ پینٹاگون کو دکھا کر چھاپی گئی تھی۔ امکانات یہ ہیں کہ واشنگٹن کے اخباری حلقوں کو یقین ہے کہ نیوز ویک پر دباؤ ڈال کر اسے ساری ذمہ داری قبول کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سترہ مئی کی وائٹ ہاؤس کی روزانہ کی پریس کانفرنس میں بڑے بڑے اخباری نمائندے صدر بش کے ترجمان سکاٹ میکلیلن پر پل پڑے۔ یہ مڈبھیڑ ذیل میں دیئے گئے سوالات و جوابات سے ظاہر ہے۔ ایک خاتون نمائندہ نے وائٹ ہاؤس کے ترجمان سکاٹ میکلیلن سے پوچھا: سوال: آپ کو نیوز ویک کا ایڈیٹر کس نے بنایا ہے؟ کیا آپ کے لیے یہ مناسب ہے کہ اس ممبر پر کھڑے ہو کر اور صدر امریکہ جیسے اختیار استعمال کرتے ہوئے ایک امریکی رسالے سے کہیں کہ وہ کیا چھاپیں اور کیا نہ چھاپیں؟ مکلیلن: میں ان کو ایسا کرنے کے لیے کہہ نہیں رہا، میں یہ کہہ رہا ہوں کہ ان سے کہا جائے کہ وہ اس سلسلے میں مدد کریں۔ سوال: آپ ان پر دباؤ ڈال رہے ہیں؟ میکلیلن: میں کہہ رہا ہوں کہ ان کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ سوال : یہ دباؤ نہیں تو کیا ہے؟ میکلیلن: دیکھیے اس رپورٹ سے امریکہ کے امیج کو بہت نقصان پہنچا ہے۔ نیوز ویک نے خود کہا ہے کہ اس سے غلطی ہوئی ہے اور انہیں اپنی ذمہ داری کا احساس ہے۔ ہم ان کی رپورٹ واپس لینے کی تعریف کرتے ہیں۔ اب انہیں اگلا قدم اٹھاتے ہوئے اس کی تلافی کرنا چاہیے۔ سوال: کیا آپ ان سے یہ کہہ رہ رہے ہیں کہ وہ ایک رپورٹ لکھیں جس میں وہ یہ کہیں کہ امریکی فوج کتنی عظیم ہے؟ کیا آپ یہ کہہ رہے ہیں؟ میکلیلن: الیزبیتھ ۔۔۔ مجھے جملہ مکمل کرنے دیجیئے، ہماری فوج ۔۔۔ سوال: آپ پہلے ہی بتا چکے ہیں کہ آپ کیا ہیں۔۔۔ میں یہ جانتی ہوں۔۔۔ میں جانتی ہوں یہ (معاملہ کہاں جارہا ہے۔۔۔) اس کے بعد جناب میکلیلن کی لمبی تشریح کے بعد ان سے پھر کہا گیا کہ سوال: جہاں تک نیوز ویک کی رپورٹ کا تعلق ہے یہ بتائیے کہ یہ رپورٹ کہاں سے آئی؟ اور کیا یہ تحقیق بھی کوئی کرنے کے لیے تیار ہے کہ یہ واقعات فوجی اڈے میں ہوئے یا نہیں کیونکہ کسی نے (ایسے ہی) رپورٹ تو نہیں لکھی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||