نیوز ویک نے خبر واپس لے لی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی رسالے نیوز ویک نے اپنی اس خبر کو واپس لینے کا اعلان کیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ گوانتا نامو بے میں قرآن کی بے حرمتی بھی کی جاتی تھی۔ اس رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ امریکی گوانتانامو بے میں قیدیوں کو ذہنی اذیت پہنچانے اور ان کی اعصاب شکنی کے لیے قرآن کو بیت الخلا میں رکھ دیتے تھے اور ایک بار ایسا بھی ہوا کے قرآن کو بہا بھی دیا گیا۔ نیوزویک نے کہا ہے کہ اس نے ایک امریکی افسر کے بیان کے حوالے سے یہ خبر دی تھی جس کا نام ظاہر نہیں کیا گیا۔ میگزین کے ایڈیٹر کا ایک مختصر سا بیان آیا ہے جس میں خبر کو واپس لینے کی وجہ نہیں بتائی گئی۔ نیوز ویک اس سے پہلے یہ تسلیم کرچکا تھا کہ یہ خبر ناقص تھی اور خبر کا ذریعہ ناقابل اعتبار ثابت ہوا تھا۔ ایڈیٹر نے کہا تھا کہ جس شخص نے انہیں یہ خبر دی تھی وہ یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ اسے یہ اطلاع کہاں سے ملی تھی۔ قرآن کی مبینہ بے حرمتی کے الزامات نیوزویک کے نو مئی کو چھپنے والے شمارے میں پہلی مرتبہ شائع ہوئے جس سے پوری مسلم دنیا میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی اور اس کے خلاف افغانستان، پاکستان، اور غزہ سے انڈونیشیا تک احتجاج ہوا۔ نیوز ویک اس کے علاوہ غلطی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے احتجاج کرنے اور اس کی وجہ ہلاک اور زخمی ہونے والوں سے افسوس کا اظہار کرتا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||