فرانسیسی صحافیوں کا پرتپاک استقبال | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں چار ماہ یرغمال رہنے والے دو فرانسیسی صحافی رہائی پانے کے بعد فرانس واپس پہنچ گئے جہاں ان کا سرکاری سطح پر استقبال کیا گیا۔ فرانس کے صدر ژاک شیراک نے پیرس کے ہوائی اڈے پر ان دونوں صحافیوں کو خیر مقدم کیا۔ سینتیس سالہ کرسچین چیسناٹ جن کا تعلق فرانسیسی ریڈیو سے ہے اور اکتالیس سالہ جارج میلبروناٹ جن کا تعلق اخبار’ لی فگارو‘ سے ہے کو اگست میں نجف کے قریب سے اغوا کیا گیا تھا۔ دریں اثناء فرانس نے ان خبروں کی تردید کی ہے کہ اس نے دونوں صحافیوں کی رہائی کے لیے تاوان ادا کیا ہے۔ فرانس کے وزیر خارجہ مشل بارنئر بغداد سے ان دونوں کے ساتھ سفر کر کے آئے۔ فرانس کے وزیراعظم یاں پیر ریفرین نے مغویوں کی رہائی کا اعلان منگل کے روز پارلیمنٹ کے اجلاس کے دوران کیا۔ اغوا کاروں نے کہا ہے کہ دونوں کو فرانس کی عراق میں جنگ کی مخالفت کی وجہ سے رہا کیا گیا ہے۔ فرانس کے صدر یاک شیراک نے مراکش میں اپنی چھٹیاں کم کر دی تھیں تاکہ وہ خود پیرس کے قریب ایک ہوائی اڈے پر صحافیوں کا خیر مقدم کر سکیں۔ صحافیوں کے خاندانوں کا کہنا ہے کہ ’ان کی رہائی ان کے لیے کرسمس کا سب سے خوبصورت تحفہ ہے‘۔ قوم سے خطاب کے دوران صدر شیراک نے صحافیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’انہوں نے آزادی اظہار خیال اور معلومات تک رسائی کے حق کے لیے اپنی جانوں کو خطرے میں ڈالا اور بہت مشکل حالات سے دو چار ہوئے‘۔ فرانسیسی میڈیا نے صحافیوں کی رہائی کے لیے مستقل تحریک چلائی۔ تا ہم میڈیا کا کہنا ہے کہ رہائی کے لیے تاوان ادا کیے جانے کے امکان کے بارے میں سوالات اٹھیں گے۔ پہلے تو اغوا کاروں نے مطالبہ کیا تھا کہ فرانس حجاب سے متعلق متنازعہ قانون ختم کرے لیکن بعد میں انہوں نے رہائی کے لیے تاوان مانگا۔ الجـزیرہ ٹی وی پر اغواکاروں کے گروہ ’اسلامک آرمی ان عراق‘ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ صحافیوں کو سیاسی بنیادوں پر رہا کیا گیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||