خلفان کی گرفتاری سے منصوبے کا علم ہوا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان نے کہا ہے کہ 25 جولائی کو گرفتار ہونے والے تنزانیہ کے باشندے احمد خلفان غیلانی کے کمپیوٹر سے امریکہ میں ممکنہ حملوں کے منصوبے کا علم ہوا تھا۔ پنجاب میں سکیورٹی ایجنسیوں کے ساتھ ایک جھڑپ کے بعد گرفتار ہونے والے غیلانی کی ایم میل میں اس طرح کی تجاویز تھیں۔ اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار ظفر عباس کا کہنا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ امریکی حکام کمپیوٹر سے ملنے والی معلومات کو یکجا کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں اور اسی سے حملے کے منصوبوں کا علم ہوا ہے۔ غیلانی 1998 میں مشرقی افریقہ میں امریکی سفارت خانوں پر بمباری میں ملوث ہونے کے شبہے میں بھی مطلوب تھے۔ دریں اثناء امریکہ میں القاعدہ کی طرف سے دہشت گرد حملوں کے ’مصدقہ‘ خطروں کے باوجود وہاں کے بڑے اقتصادی اداروں کے ملازمین کو کہا گیا ہے کہ وہ کام پر آئیں۔ واشنگٹن ڈی سی اور نیو یارک کے کئی علاقوں میں سکیورٹی الرٹ کو بڑھا کر دوسرے درجے پر کر دیا گیا ہے۔ امریکی ہوم لینڈ سکیورٹی کے انچارج ٹام رِج نے کہا ہے کہ انہیں قابل بھروسہ معلومات ملی ہیں کہ نومبر میں صدارتی انتخابات سے پہلے القاعدہ نے ان شہروں میں اقتصادی اداروں کی عمارتوں پر حملے کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا ’ یہ عام افواہیں قیاس آرائیاں نہیں ہیں، ہمیں یہ اطلاعات کئی ذرائع سے ملی ہیں۔‘ نیویارک اور واشنگٹن میں جن عمارتوں پر حملے کے بارے میں خبردار کیا گیا ہے ان میں نیو یارک یارک سٹاک ایکسچینج، آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کی عمارتیں سر فہرست ہیں۔ ٹام رج نے کہا کہ یہ واضح نہیں ہوسکا ہے کہ یہ حملے کب کیے جائیں گے لیکن یہ صدارتی انتخابات کی مہم کے دوران اگلے تین ماہ کے دوران کسی بھی وقت ہوسکتے ہیں۔ ٹام رج کے مطابق امریکی حکام کے خیال میں القاعدہ یہ حملے کار اور ٹرک میں بم کے ذریعے کرنے کی کوشش کرسکتی ہے۔ انہوں نے یہ بتانے سے انکار کیا کہ امریکہ کو یہ اطلاعات کس طرح ملی ہیں۔ تاہم امریکی اخبارات کے مطابق ان کا تعلق پاکستان میں ایک ہفتہ قبل القاعدہ کے ایک سیل پر ہونے والے چھاپے سے ہے۔ پاکستان نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ 25 جولائی کو گرفتار ہونے والے تنزانیہ کے باشندے احمد خلفان غیلانی کے کمپیوٹر سے امریکہ میں حملوں کے منصوبے کا علم ہوا تھا۔ غیلانی 1998 میں مشرقی افریقہ میں امریکی سفارت خانوں پر بمباری میں ملوث ہونے کے شبہے میں بھی مطلوب تھے۔ پاکستان کے وزیرِ اطلاعات شیخ رشید نے کہا کہ ملنے والی معلومات کا تبادلہ امریکی حکام سے کیا گیا ہے لیکن انہوں نے یہ کہنے سے انکار کیا کہ امریکہ میں دہشت گردی کا وارننگ کا ان معلومات سے کوئی تعلق ہے۔ نیویارک کے میئر مائیکل بلومبرگ نے شہریوں سے اپیل کہ وہ معمول کے مطابق کام کرتے رہیں۔ انہوں نے کہا کہ خاص مقامات پر سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||