پاکستانی شہری مجرم: عدالت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نیویارک کی ایک جیوری نے ایک پاکستانی کو سن 2004 میں ایک سب وے یا زیر زمین ٹرین سٹیشن کو بم سے اڑانے کے منصوبے میں حصہ لینے کا مجرم قرار دیا ہے۔ جیوری نے وکیل صفائی کی یہ دلیل رد کر دی کہ پولیس کے ایک انفارمر نے ان کو مسلمانوں کے خلاف ابو غریب میں امریکی تشدد کی تصویریں دکھا کر بھڑکایا اور اس منصوبے میں پھنسایا۔ شہوار متین سراج کا مقدمہ چار ہفتے جاری رہا۔ استغاثہ کا کہنا تھا کہ وہ 2004 کے ریپبلکن کنونشن سے پہلے نیویارک کے مڈیسن سکوائر گارڈن میں ایک مصروف سب وے، ہیرالڈ سکوائر سٹیشن کو اڑانے کے منصوبے میں شامل تھے۔ شہوار سراج کو پکڑوانے والے اور اس مقدمے کے اہم ترین گواہ تھے مصری نژاد جوہری انجینئیر اسامہ الداؤدی ، جو اس کیس میں پولیس کے لیے خفیہ مخبر کے طور پر کام کر رہے تھے۔ وکلاء صفائی کا کہنا تھا کہ الداؤدی، جو پولیس کے مخبر تھے اور اس کام کے پیسے لیتے تھے، اپنی کارکردگی دکھانا چاہتے تھے اور اسی لیے وہ ہفتوں کسی خفیہ سرگرمی کی تلاش میں مسجدوں کے چکر لگاتے رہے۔ نوجوان سراج، الداؤدی کی عزت کرتے تھے جس کا فائدہ اٹھا کر الداؤدی نے انہیں خاص طور پر امریکیوں کے خلاف بھڑکایا اور تشدد پر اکسایا۔ اسامہ الداؤدی نے مقدمے کے دوران بیان دیا کہ انہوں نے جذبہ حب الوطنی کے تحت رضاکارانہ طور پر مساجد کا چکر لگانے کے لیے اپنی خدمات پیش کی تھیں کیونکہ وہ یہ ثابت کرنا چاہتے تھے کہ مسلمانوں میں شدت پسند عناصر بہت کم ہوتے ہیں۔ مقدمے کے دوران سامنے آنے والے شواہد کے مطابق انہیں پولیس سے تقریبًا ڈھائی سال کے عرصے میں ایک لاکھ ڈالر کی رقم ملی ہے۔
استغاثہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر شہوار سراج کو کسی اور نے بم پھاڑنے پر اکسایا تو انہیں منع کر دینا چاہیے تھا۔ منگل کو پولیس نے ایک ویڈیو ٹیپ بھی جاری کی جو الداؤدی نے ایک گاڑی میں شہوار سراج اور ایک دوسرے شخص جیمز الشافع سے باتیں کرتے ہوئے خفیہ طور پر بنائی تھی۔ اس ٹیپ میں ایک موقع پر شہوار سراج اور دوسرے شخص کی گفتگو کچھ یوں ہے: سراج: ’مجھے پتہ ہے تھرٹی فورتھ سٹریٹ کہاں ہے۔ میں ساتھ چلا جاؤں گا۔ لیکن میں اُسے (بم کو) نہیں رکھوں گا۔‘ دوسرا شخص: ’یہ کام دو لوگ کریں گے۔‘ سراج: ’دو لوگ، ٹھیک ہے۔ میں دوسرا شخص بننے کو تیار ہوں۔ کوئی مسئلہ نہیں۔‘ الشافع بم استعمال کرنے کے اس منصوبے میں حصہ لینے کا پہلے ہی اقرار کر چکے ہیں۔ اس ٹیپ میں یہ بھی سنا جا سکتا ہے کہ الشافع کہہ رہے ہیں کہ وہ ایک کٹر یہودی کا بھیس بدل کر بم رکھنے جائیں گے کیونکہ یہودی کی کوئی تلاشی نہیں لے گا۔ جس وقت یہ ٹیپ بنائی گئی اس وقت ان دونوں کے پاس کوئی دھماکہ خیز مواد نہیں تھا اور نہ ہی ان کے کسی دہشت گرد گروہ سے تعلقات تھے۔ وکلاء صفائی کا کہنا تھا کہ اس ٹیپ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ شہوار سراج کا ارادہ کسی کو نقصان پہنچانے کا نہیں تھا اور وہ بم کسی خالی جگہ رکھنا چاہتے تھے کیونکہ ٹیپ میں ایک جگہ وہ کہتے ہیں: ’اگر کوئی ہلاک ہوا تو اس کا ذمہ دار مجھے ٹھہرایا جائے گا۔ اگر کوئی حادثاتی طور پر بھی ہلاک ہوا تو اللہ اس طرح کے موقعوں کو حادثہ نہیں سمجھتا۔‘ جب شہوار سراج اور جیمز الشافعہ کو گرفتار کیا گیا تو ان کے پاس سب وے سٹیشن اور آس پاس کے علاقے کا خاکہ تھا۔ الشافع فوری طور پر پولیس سے تعاون کرنے کو تیار ہو گئے تھے۔ شہوار سراج کو عمر قید کی سزا دی جا سکتی ہے۔ اس مقدمے سے اندازہ ہوتا ہے کہ گیارہ ستمبر سن 2001 کے حملوں کے بعد سے نیویارک میں کس طرح پولیس نے مسلم برادری کے اندرونی حالات سے باخبر رہنے کے لیے اپنے خفیہ مخبر چھوڑ رکھے ہیں۔ |
اسی بارے میں جنگ اور دہشت گردی کی نفسیات15 July, 2005 | آس پاس پاکستانی امام کی امریکہ بدری16 August, 2005 | آس پاس پاکستانی سمیت 4 پر فردِ جرم عائد01 September, 2005 | آس پاس پاکستانیوں کا اغوا، سٹرا کی تردید14 December, 2005 | آس پاس سپین: پاکستانی پر فردِ جرم عائد14 November, 2004 | آس پاس اسامہ بن لادن زندہ ہیں: امریکہ17 January, 2006 | آس پاس پاکستان مزید کچھ کرے: افغانستان 07 May, 2006 | آس پاس تین سو ستر پاکستانی رہا12 September, 2004 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||