BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 07 May, 2006, 16:29 GMT 21:29 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستان مزید کچھ کرے: افغانستان
افغان وزیر خارجہ رنگین دادفر سپانتا کابل میں ڈچ وزیر خارجہ بوٹ کے ساتھ
افغانستان کے وزیر خارجہ رنگین دادفر سپانتا نے کہا ہے کہ پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف مزید کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کا ملک القاعدہ اور طالبان شدت پسندوں کے پکڑنے میں پاکستانی مدد کی تعریف کرتا ہے۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ یہ شدت پسند افغان حکومت کو غیرمستحکم کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور اس سلسلے میں پاکستان مزید کچھ کرسکتا ہے۔ وزیر خارجہ سپانتا کا یہ بیان کابل میں ڈچ وزیر خارجہ برنرڈ بوٹ کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران دیا گیا۔

اس پریس کانفرنس میں ڈچ وزیر خارجہ نے کہا کہ یہ ’واضح‘ ہے کہ طالبان پاکستان کی سرزمین کا استعمال ایک ٹھکانے کی حیثیت سے کررہے ہیں۔ ڈچ وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اسے روکنے کے لیے افغانستان اور پاکستان کو سرحد پار طالبان کی دراندازی سے متعلق انٹیلیجنس کا تبادلہ کرنا چاہیے۔

اتوار کے روز ہی پاکستانی حکام نے ایک اعلٰی امریکی عہدیدار کے اس بیان پر سخت ردِ عمل کا اظہار کیا ہے کہ پاکستان کے کچھ حصے دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں ہیں۔ وفاقی وزیر داخلہ آفتاب شیرپاؤ کا کہنا ہے کہ انہیں امریکی عہدیدار کے بیان پر حیرت ہوئی ہے۔

واضح رہے کہ امریکہ کی انسداد دہشت گردی کے ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ ہنری کرمپٹن نے ہفتے کو کابل میں ایک اخباری کانفرنس میں کہا تھا کہ پاکستان نے انسداد دہشت گردی کے لیئے تسلی بخش اقدامات نہیں کیئے ہیں اور انہوں نے اپنے حالیہ دورہ پاکستان میں پاکستانی حکام کو اس بارے میں امریکہ کی تشویش سے آگاہ کیا ہے۔

اس کے علاوہ ہنری کرمپٹن نے یہ بھی کہا کہ ان کے خیال میں اس بات کا زیادہ امکان ہے کہ اسامہ بن لادن افغانستان کے بجائے پاکستان میں کہیں چھپے ہوئے ہیں۔

تاہم پاکستان کے وزیر داخلہ آفتاب شیرپاؤ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہنری کرمپٹن نے اپنے حالیہ دورۂ پاکستان میں پاکستانی حکومت کی دہشت گردی کے خاتمے کے لیئے کی گئی کوششوں کی تعریف کی تھی اور ایسا کچھ بھی نہیں کہا جو انہوں نے کابل میں کہا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد