BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 03 May, 2006, 18:25 GMT 23:25 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اعلی امریکی اہلکار پاکستان میں

اسلام آباد
پاک امریکہ مشترکہ مشقوں کے خلاف حزب اختلاف نے تشویش کا اظہار کیا ہے
امریکی محکمہ خارجہ کے انسداد دہشت گردی کے متعلق رابطہ کار ہینری اے کُرمپٹن اور سینٹرل کمانڈ کے کمانڈر انچیف جنرل جان پی ابی زید دو روزہ دورے پر بدھ کی شام اسلام آباد پہنچ گئے ہیں۔

دونوں علیحدہ طور پر پاکستان پہنچے ہیں۔ ہینری اے کرمپٹن پاکستان کے فوجی اور سویلین حکام سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون اور دہشت گردی کے خاتمے کے بارے میں تبادلہ خیال کریں گے۔

جبکہ جنرل ابی زید کی آمد کی بڑی وجہ امریکہ، پاکستان اور افغانستان کی افواج کی صوبہ سرحد میں جاری مشترکہ جنگی مشقوں کا معائنہ کرنا بتایا جاتا ہے۔

چراٹ میں جاری ان فوجی مشقوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے حزب مخالف نے بدھ کے روز قومی اسمبلی میں تحریک التویٰ بھی جمع کرائی ہے۔

امریکہ کے انسداد دہشت گردی کے سینیئر عملدار اس وقت پاکستان پہنچے ہیں جب امریکہ کی جانب سے جماعت الدعوۃ نامی تنظیم پر پابندی عائد کی گئی ہے۔

جبکہ پاکستان کے دفتر خارجہ کی ترجمان نے اس پر کہا تھا کہ یہ ضروری نہیں کہ امریکہ نے جس تنظیم پر پابندی لگائی ہے تو پاکستان بھی ایسا کرے۔ تاہم انہوں نے کہا تھا کہ اگر اقوام متحدہ کسی تنظیم پر پابندی لگائے تو پھر پاکستان بھی ایسا کرنے کا پابند ہے۔

چند روز قبل امریکی محکمہ خارجہ نے جماعت الدعوۃ پر شدت پسند کارروایوں میں ملوث ہونے کی بنا پر پابندی عائد کی تھی۔

پاکستان حکومت کی جانب سے کشمیر میں ’جہاد‘ کرنے والی تنظیم لشکر طیبہ کو کالعدم قرار دیا گیا تھا اور اس کے سربراہ حافظ سعید نے بعد میں جماعت الدعوۃ نامی تنظیم بنائی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کی نئی تنظیم صرف اور صرف دینی تبلیغ کا کام کرتی ہے۔

گزشتہ چند ہفتوں کے دوران بھارت میں ہونے والے بم دھماکوں میں بھی بھارتی حکومت نے لشکر طیبہ کو ملوث قرار دیا تھا۔

اس تناظر میں امریکہ کے انسداد دہشت گردی کے سینیئر افسر کی آمد اور پاکستان حکومت سے ان کی بات چیت کو خاصی اہمیت دی جارہی ہے۔

امریکی نمائندہ، پاکستان کی وزارت داخلہ، خارجہ اور فوجی ہیڈ کوارٹر کے حکام سے ملاقات کریں گے۔ جس کے بعد وہ افغانستان اور متحدہ عرب امارات بھی جائیں گے۔

اسی بارے میں
’ دو امریکی جاسوس قتل‘
19 April, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد