BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 30 April, 2006, 03:37 GMT 08:37 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’امریکی مفاد کے لیئے خطرہ ہیں‘

وزارتِ خارجہ
امریکہ نے جماعتہ الدعوۃ اور ادارہ خدمت خلق کو بھی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کر لیا ہے
امریکی دفترِ خارجہ کی دہشت گردی سے متعلق سالانہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومت پاکستان کے تعاون اور کوششوں کے باوجود پاکستان میں طالبان اور القاعدہ کی کاروائیاں امریکی مفاد کے لیے خطرہ ہیں اور پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ان کاروائیوں کی ملی جلی حمایت پائی جاتی ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سن 2005 میں جنوبی ایشیاء میں دہشت گردی ایک بڑا مسئلہ رہی اور پاکستان، بھارت، افغانستان اور بنگلہ دیش میں دہشت گردوں کی کارروائیوں میں اضافہ ہوا۔

البتہ رپورٹ میں خطے میں مثبت تبدیلیوں کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں افغانستان میں پارلیمان کے انتخابات اور سابق جنگجوؤں کے ساتھ مفاہمت کی کوششوں کی مثال دی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ پچھلے سال افغان نیشنل آرمی اور افغان نیشنل پولیس نے انسداد دہشت گردی میں خاطر خواہ کامیابیاں حاصل کی ہیں۔

بنگلہ دیش کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہاں ایک خطرناک دہشت گروہ جماعت المجاہدین بنگلہ دیش ابھر کر سامنے آیا ہے۔ گزشتہ سال سترہ اگست کو اس گروہ نے پورے ملک میں پانچ سو چھوٹے بم پھاڑے تھے جن میں دو افراد ہلاک اور درجن بھر زخمی ہوئے تھے۔

بھارت میں دہشت گردی کے حوالے سے رپورٹ نے جموں و کشمیر اور مشرقی بھارت کی نیکسیلائٹ بیلٹ کا خاص تذکرہ کیا۔ رپورٹ کے مطابق کشمیری دہشت گرد گروہوں کے حملوں میں سینکڑوں عام شہری ہلاک ہوئے جن میں زیادہ تر کشمیری مسلمان تھے۔

یہ بھی کہا گیا کہ سال کے پہلے نو ماہ دہشت گرد حملوں میں عام شہریوں کی ہلاکت کی تعداد میں کمی آئی تھی اور بھارتی ماہرین اس کا سہرا بہتر طریقہ کار اور لائن آف کنٹرول پر کھڑی کی گئی باڑھ کے سر باندھتے ہیں جس کی وجہ سے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے دہشت گردوں کے لیئے لائن آف کنٹرول پار کر کے ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں داخلہ مشکل ہو گیا۔

رپورٹ کہتی ہے کہ آٹھ اکتوبر کو آنے والے زلزلے کے بعد دہشت گردوں نے سکیورٹی کی خراب صورتحال سے فائدہ اٹھایا اور اپنے حملوں میں اضافہ کر دیا۔

2005 میں امریکی دستوں نے پہلی دفعہ بھارتی دستوں کے ساتھ مل کر انسداد دہشت گردی کی تربیت حاصل کی۔ اور امریکی محکمہ خارجہ کے دہشت گردی کے خلاف امدادی پروگرام کے تحت سینکڑوں بھارتی پولیس اور سکیورٹی اہلکاروں کی تربیت کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق بھارت میں بغاوت کے خلاف کارروائی اس لیے بھی مشکل ہے کہ ملک کے قانون ساز ادارے اور عدلیہ کا نظام نہ صرف فرسودہ ہے بلکہ اس پر کام کا بہت بوجھ ہے۔ اس کے علاوہ بد عنوانی بھی عدلیہ کا ایک مسئلہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق بھارت کا جوہری تنصیبات اور جوہری مواد کو دہشت گردوں کے ہاتھوں سے دور رکھنے کا ریکارڈ بہت اچھا ہے۔

پاکستان کے بارے میں کہا گیا ہے کہ حکومت پورے ملک میں پولیس اور قبائلی علاقوں میں فوج کے ذریعے القاعدہ، طالبان اور ان کے حامیوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے اور القاعدہ نے حکومت پاکستان کو اپنا اہم دشمن قرار دے دیا ہے۔

پاکستان آرمی اور فرنٹئیر کور نے نہ صرف افغان انتخابات سے پہلے سرحد پر اسی ہزار کے قریب اہلکار تعینات کیے بلکہ وزیرستان کے علاقے میں مسلسل القاعدہ کے ٹھکانوں پر چھاپے مار رہے ہیں۔ اور پاکستان کی سیکورٹی فورسز نےامریکہ اور عالمی اداروں سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون کیا ہے۔

پاکستانی حکام نے ستمبر 2001 سے القاعدہ کے سینکڑوں اہلکاروں کو ہلاک یا گرفتار کیا ہے۔ اس سلسلے میں جن گرفتاریوں کا رپورٹ میں خصوصی ذکر کیا گیا وہ ہیں سید محمد ہاشم، جو امریکی صحافی ڈینئیل پرل کے قتل کے سلسلے میں مطلوب تھے، لشکر جھنگوی کے سربراہ آصف چھوٹو اور القاعدہ کے سرکردہ رہنما ابو فراج اللبی شامل ہیں۔ اسکے علاوہ طالبان کے ترجمان عبد الطیف حکیمی کی گرفتاری اور افغانستان منتقلی کا بھی ذکر ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق حکومت پاکستان اور بلوچستان کے کچھ عوامل کے درمیان کشیدگی بھی ملک میں پر تشدد کارروائیوں کا باعث بن رہی ہے۔ لیکن صدر جنرل پرویز مشرف نے ’انتہا پسندی کے خلاف جہاد‘ کا اعلان کیا ہے۔

امریکی قانون کے مطابق وزیر خارجہ کو ہر سال تیس اپریل سے پہلے دہشت گردی سے متعلق یہ رپورٹ امریکی کانگریس کو پیش کرنی ہوتی ہے۔ اس میں دنیا کے مختلف خطوں اور ممالک کے بارے میں علیحدہ علیحدہ تفصیل دی جاتی ہے۔

اسی بارے میں
دواور تنظیمیں دہشت گرد
29 April, 2006 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد