BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 02 May, 2006, 13:15 GMT 18:15 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاک،افغان،امریکہ فوجی مشقیں

فوجی افسر
مشقوں میں تینوں ممالک کے ایک ہزار سے زائد فوجی افسر حصہ لے رہے ہیں۔
پاکستان، امریکہ اور افغانستان کی افواج نے سوموار سے پاکستان کے صوبہ سرحد کے علاقے چراٹ میں ایک فوجی اڈے پر مشترکہ فوجی مشقیں شروع کر دی ہیں۔

یہ مشقیں دس دن تک جاری رہیں گی اور اس دوران پاک افغان سرحد کے ساتھ مختلف علاقوں میں یہ مشقیں کی جائیں گی۔

ان مشقوں کا مقصد تینوں ممالک کے درمیان سرحد پر طالبان اور مبینہ شدت پسندوں کی آمد و رفت روکنے اور آپس میں بہتر تعاون کو فروغ دینا ہے۔

پاکستانی دفترِ خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے ہفتہ وار بریفنگ میں بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ یہ مشقیں سوموار سے شروع ہو گئی ہیں۔

’انسپائرڈ گیمبٹ‘ یا تخلیقی پینترہ نامی ان مشقوں کے انعقاد کا فیصلہ گزشتہ ماہ اسلام آباد میں سہ فریقی کمیشن کے اجلاس میں کیا گیا تھا۔ ان مشقوں میں فوجی ذرائع کے مطابق تینوں ممالک کے ایک ہزار سے زائد فوجی افسر حصہ لے رہے ہیں۔

افغانستان پر امریکی حملے کے بعد سے پاکستان کی سرحد سے ملحقہ قبائلی علاقوں میں پاکستانی فوج اور سرحد پار اتحادی فوج کے خلاف شورش بدستور جاری ہے۔

افغانستان کی حکومت ماضی میں پاکستان پر الزام عائد کرتی رہی ہے کہ پاکستان سرحد سے شدت پسندوں کی آمد و رفت روکنے میں موثر کردار ادا نہیں کر رہا تاہم پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ سّتر ہزار سے زائد پاکستانی فوج افغانستان سے ملحقہ سرحد پر تعینات ہے اور افغانستان میں موجود افغانی فوج اور اتحادی افواج اس سرحد پار آمدورفت کو روک نہیں پا رہیں۔

 پاکستانی وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری نے منگل کے روز اسلام آباد میں کہا کہ افغانستان میں دراندازی کو روکنے کے لیئے امریکی اور کثیر ملکی افواج سرحد پر باڑ اور بارودی سرنگیں لگا سکتے ہیں۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان گزشتہ چند ماہ میں اس مسئلے پر تعلقات کشیدہ ہو گئے تھے جن کو معمول پر لانے کے لئے سہ فریقی کمیشن کے دو اجلاس منعقد ہوئے ہیں اور یہ مشترکہ مشقیں بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی بتائی جاتی ہیں۔

اس بارے میں پاکستانی وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری نے منگل کے روز اسلام آباد میں کہا کہ افغانستان میں دراندازی کو روکنے کے لیئے امریکی اور کثیر ملکی افواج سرحد پر باڑ اور بارودی سرنگیں لگا سکتے ہیں۔

یاد رہے کہ کئی ماہ پہلے صدر جنرل پرویز مشرف نے بھی اسی طرح کا بیان دیا تھا۔

اسی بارے میں
چین: مشترکہ بحری مشقیں
22 October, 2003 | پاکستان
امریکی فوج مشترکہ مشقیں
28 April, 2005 | پاکستان
دفاعی یاداشت پر دستخط
18 May, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد