BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 27 February, 2006, 13:17 GMT 18:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
افغانستان کومطلوب افراد پرکارروائی

حامد کرزئی اور شوکت عزیز
حامد کرزئی نے اپنے دورے کے دوران یہ فہرست پاکستان کے حوالے کی تھی
پاکستانی دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے بتایا ہے کہ افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے چالیس کے قریب مطلوب افراد کی فہرست پاکستان حکومت کو دی ہے اور متعلقہ ادارے اس بارے میں ضروری کارروائی کر رہے ہیں۔

پیر کی شام ہفتہ وار بریفنگ کے دوران انہوں نے بتایا کہ اس فہرست میں اسامہ بن لادن کا نام شامل نہیں ہے اور ان کے متعلق کسی کو پتہ بھی نہیں کہ وہ کہاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر اسامہ بن لادن کی موجودگی کے بارے میں کسی کو علم ہوتا تو وہ پکڑے جاتے۔

طالبان رہنما ملا محمد عمر کے پاکستان میں ہونے کے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ افغان صدر نے اس بارے میں کچھ معلومات دی تھی اور اس کی تصدیق کرانے کے بعد یہ واضح ہوا ہے کہ ان کی معلومات درست نہیں۔

امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کے دورے کے متعلق سوال پر ترجمان نے بتایا کہ امریکی صدر دو روزہ پاکستان کے دورے پر آرہے ہیں لیکن حفاظتی اقدامات کے پیش نظر انہوں نے کہا کہ وہ اس بارے میں مزید کچھ نہیں بتائیں گی۔

تاہم تسلیم اسلم خان نے کہا کہ صدر جنرل پرویز مشرف اور صدر بش کی ملاقات میں جوہری بجلی پیدا کرنے کے بارے میں دونوں ممالک کے تعاون کے موضوع پر بات چیت ہوگی۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ امریکی صدر جارج بش نے حال ہی میں دیے گئے ایک انٹرویومیں کہا ہے کہ وہ کشمیری شدت پسندوں کے تربیتی کیمپ بند کرنے کے بارے میں پاکستان سے معاملہ اٹھائیں گے تو ترجمان کا کہنا تھا کہ انہوں نے صدر بش کا انٹرویو دیکھا ہے اور اس میں کہیں بھی ایسے کیمپوں کا ذکر نہیں۔

 اس فہرست میں اسامہ بن لادن کا نام شامل نہیں ہے اور ان کے متعلق کسی کو پتہ بھی نہیں کہ وہ کہاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر اسامہ بن لادن کی موجودگی کے بارے میں کسی کو علم ہوتا تو وہ پکڑے جاتے۔

پاکستان میں انسانی حقوق کی صورتحال پر ’ایمنیسٹی انٹرنیشنل‘ کی حالیہ رپورٹ میں تشویش ظاہر کرنے کے سوال پر ترجمان نے کہا اس رپورٹ پر انہیں افسوس ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس رپورٹ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے متعلق عمومی نوعیت کا حسب معمول ایک بیان ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان میں میڈیا آزاد ہے اور حکومت نے انسانی حقوق کے لیے کئی اقدامات کر رکھے ہیں۔

جموں و کشمیر میں کرکٹ کھیلتے ہوئے چار بچوں کو مبینہ طور پر بھارتی فوج کی جانب سے ہلاک کیے جانے پر انہوں نے کہا کہ یہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے اور پاکستان متعلقہ فورم پر یہ معاملہ اٹھائے گا۔

اسی بارے میں
حامد کرزئی کا خطاب ملتوی
24 August, 2004 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد