حامد کرزئی کی مشرف سے ملاقات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے بدھ کو صدر جنرل پرویز مشرف سے ملاقات کی ہے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون وسیع کرنے سمیت کئی امور پر بات چیت کی۔ دونوں رہنماؤں کی ملاقات کے بعد جاری ہونے والے ایک مختصر بیان میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے مشترکہ دلچسپی کے معاملات پر تبادلہ خیال کیا۔ بیان کے مطابق دونوں صدور نے مخصوص ملاقات میں باہمی اقتصادی تعاون بڑھانے اور دہشت گردی کے خلاف اقدامات تیز کرنے پر اتفاق کیا۔ افغان صدر حامد کرزئی بدھ کی شام کو پاکستان کے تین روزہ دورے پر اسلام آباد پہنچے۔ وہ اپنے دورے میں پاکستان کے وزیراعظم سے بھی ملاقات کریں گے اور تاجروں سے خطاب بھی کریں گے۔ اس کے علاوہ وہ پاکستان کے نیشنل ڈیفنس کالج سے بھی خطاب کریں گے اور پاکستانی سرمایہ کاروں کو افغانستان آنے کی دعوت دیں گے۔ جبکہ اطلاعات کے مطابق وہ خان عبدالولی خان کی قبر پر بھی جائیں گے۔ بیان میں بتایا گیا ہے کہ صدر کرزئی کا خیرمقدم کرتے ہوئے میزبان صدر نے کہا کہ دونوں ممالک میں وسیع تعاون سے ہی خطے کی ترقی میں رکاوٹ پیدا کرنے والی شدت پسندی کی لعنت کو موثر طور پر روکا جاسکتا ہے۔ افغانستان کے صدر کے حوالے سے بیان میں صرف اتنا بتایا گیا ہے کہ انہوں نے اپنے ملک کی تعمیر نو میں پاکستان کی مدد پر شکریہ ادا کیا اور صدر مشرف کی اس رائے سے اتفاق کیا کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے طویل المدت حکمت عملی اختیار کرنی چاہیے۔ واضح رہے کہ پاکستان اپنے پڑوسی ملک افغانستان پر سرحدی خلاف ورزیوں کے الزامات لگاتا رہا ہے۔ جبکہ افغانستان پاکستان پر طالبان شدت پسندوں کی حمایت اور اپنے ملک میں مداخلت کے الزامات لگاتا رہا ہے۔ چند ہفتے قبل باجوڑ میں القاعدہ کے حامیوں کی موجودگی کے شبہے میں امریکہ نے حملہ کیا تھا جس میں پانچ مبینہ غیر ملکی شدت پسندوں، بچوں اور خواتین سمیت اٹھارہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ پاکستان اس واقعے کو اپنی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیتا رہا ہے۔ ایسی صورتحال میں بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ دونوں رہنماؤں نے بات چیت کی ہوگی لیکن اس کی تفصیلات دونوں فریقین ذرائع ابلاغ کو فراہم نہیں کر رہے۔ افغانستان میں بھارت کے بڑھتے ہوئے اثرو رسوخ اور بلوچستان میں مبینہ شرپسندوں کی مدد کے متعلق بھی پاکستان اپنے اس پڑوسی ملک کے بارے میں تحفظات ظاہر کرچکا ہے۔ لیکن دونوں رہنماوں کی ملاقات کے بعد اس بارے میں کچھ نہیں بتایا جارہا۔ واضح رہے کہ صدر کرزئی کے دورے سے پہلے پاکستان حکومت نے کراچی کی جیل سے پانچ سو باسٹھ افغان قیدیوں کو رہا کیا جس کے بارے میں کہا جارہا تھا کہ شاید صدر جنرل پرویز مشرف سے ملاقات میں صدر کرزئی افغانستان میں قید پاکستانیوں کی رہائی کا اعلان بھی کریں گے۔ لیکن تاحال ایسا کوئی اعلان سامنے نہیں آیا۔ |
اسی بارے میں کراچی: جیل سے 562افغان شہری رہا15 February, 2006 | پاکستان کرزئی پاکستان پہنچ گئے15 February, 2006 | پاکستان ’امریکی حملے، کابل میں بات‘13 February, 2006 | پاکستان امریکی حملہ، 2 عورتیں ہلاک13 February, 2006 | پاکستان پاکستانی سرحد کی پھر خلاف ورزی29 January, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||