BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 24 August, 2004, 10:15 GMT 15:15 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حامد کرزئی کا خطاب ملتوی

News image
دو ماہ قبل صدر کرزئی کا پاکستان کا دورہ عین وقت پر نامعلوم وجوہات کی بنا پر ملتوی کردیا تھا۔
پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے منگل کی صبح عین وقت پر انسٹیٹیوٹ آف سٹریٹجک سٹڈیز سے اپنا خطاب ملتوی کردیاہے جس کی واضح وجوہات تاحال نہ حکومت پاکستان نے بتائیں ہیں اور نہ ہی افغانستان کے سفارتخانہ نے۔

صدر کرزئی کا خطاب ملتوی کرنے کا فیصلہ اتنا اچانک ہوا کہ پاکستان کے ریاستی ’تھنک ٹینک، اپنے مدعو کیے گئے مہمانوں کو مطلع بھی نہیں کر پایا۔ مدعو کیے گئے مہمانوں میں سفارت کار، سینیئر حاضر سروس اور ریٹائرڈ فوجی و سویلین افسران اور ملکی و غیر ملکی میڈیا کے نمائندے بھی شامل تھے۔

افغانستان کے صدر کا خطاب ملتوی کرنے کی وجوہات کے بارے میں ایک سوال پر حکومتی ترجمان اور وزیراطلاعات شیخ رشید احمد نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ خطاب کے ملتوی ہونے کی وجہ ’سکیورٹی ہرگز نہیں ہے کیونکہ پاکستانی حکام نے بھرپور حفاظتی انتظامات کر رکھے تھے۔‘

تاہم وزیر کا کہنا تھا کہ ’صدر کرزئی کے خطاب ملتوی کرنے کی وجوہات سفارتی ہوسکتی ہیں۔‘ جب ان سے سفارتی وجوہات کی تفصیلات کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے یہ کہہ کر تفصیلات بتانے سے گریز کیا کہ وہ باریکیوں میں جانا نہیں چاہتے۔

افغانستان کے صدر دو ماہ قبل پاکستان کا دورہ بھی عین وقت پر نامعلوم وجوہات کی بنا پر ملتوی کردیا تھا اور اب وہ دو روزہ دورے پر پاکستان آئے ہیں۔

پانچ وزراء کے ہمراہ پاکستان کا دورہ کرنے والے صدر کرزئی نے منگل کو وزیراعظم چودھری شجاعت حسین سے ملاقات کی اور شام کو وہ واپس کابل روانہ ہو رہے ہیں۔

شیخ رشید احمد سے جب پوچھا گیا کہ کیا افغانستان کے صدر نے ’انسٹی ٹیوٹ آف سٹریٹجک سٹڈیز، سے خطاب ملتوی کرنے کا فیصلہ امریکی سیکورٹی حکام کی جانب سے مشورہ ملنے پر کیا تو اس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ امریکی سیکورٹی حکام کا اسلام آباد میں اتنا بڑا نیٹ ورک نہیں جتنا پاکستانی ایجنسیز کا ہے اور پاکستانی حکام نے صدر کرزئی کو خطاب کے لیے ’کلیئرنس، دے دی تھی۔

صدر کرزئی نے پیر کی شام کو پاکستان کے ہم منصب سے ملاقات کی تھی اور دونوں سربراہوں کی بات چیت کے بارے میں پاکستان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے بتایا تھا کہ مذاکرات کا محور القاعدہ اور طالبان کے شدت پسندوں کے خلاف جاری آپریشن میں تعاون ہی تھا۔

صدر مشرف کے حوالے سے خبر رساں ایجنسی نے کہا تھا کہ انہوں نے مہمان صدر کو یقین دلایا ہے کہ پاکستان سے شدت پسند افغانستان نہیں جا رہے اور پاکستان اپنی سرزمین ایسی کاروائیوں کے لیے کسی کو استعمال کرنے نہیں دے گا۔

پاکستانی صدر نے القاعدہ کے جنگجوؤں کے لیے اسلحہ افغانستان بھیجنے کی بھی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان فوج اپنی سرحدوں کے اندر شدت پسندوں کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہے اور اب شدت پسند بھاگ رہے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد