امریکی فوج مشترکہ مشقیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے فوجی ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان نے امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کی خبر پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی فوج کے ساتھ چرات میں مشترکہ تربیتی جنگی مشق ہوئی ہے ۔ جمعرات کو بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اس تربیتی مشق کے دوران ضرورت کے مطابق دن اور رات کے وقت مختلف مشقیں ہوئیں لیکن یہ تاثر دینا کہ صرف امریکہ نے تربیت دی ہے درست نہیں ہے کیونکہ ان کے مطابق جب بھی اس طرح کی مشقیں ہوتی ہیں تو متعقلہ افواج ایک دوسرے کے تجربات اور مہارت سے استفادہ کرتی ہیں۔ نیویارک ٹائمز نے بدھ کو ایک خبر شائع کی ہے جس میں افغانستان میں تعینات امریکی فوجی کمانڈر ڈیوڈ بارنو کے حوالے سے بتایا تھا کہ امریکہ کے ’سپیشل سروسز گروپ‘ چرات میں پاکستانی فوج کو القاعدہ اور غیر ملکی جنگجوؤں کے ساتھ لڑنے کے لیے رات کے وقت پرواز کرنے اور ’ائر بورن اسالٹ‘ یعنی فضا سے حملہ کرنے کی خصوصی تربیت دے رہے ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا محض امریکی تربیت کاروں ’ٹرینرز‘ نے ہی پاکستانی فوجیوں کو تربیت دی ہے تو اس پر فوجی ترجمان نے کہا کہ وہ تربیتی مشق کی زیادہ تفصیلات نہیں بتا سکتے اور جو انہیں بتانا ہے وہ ہی بتا رہے ہیں۔ نیویارک ٹائمز نے اپنی خبر میں دعویٰ کیا تھا کہ یہ پہلا موقع ہے کہ امریکی فوج کے کسی اعلیٰ افسر نے پاکستان کے اندر پاکستانی فوج کو تربیت دینے کی تصدیق کی ہے۔ لیکن پاکستان کے فوجی ترجمان نے کہا ہے کہ امریکی افواج کے ساتھ مشترکہ تربیتی مشقیں پہلے بھی ہوتی رہی ہیں۔ امریکی اخبار کے مطابق افغانستان میں تعینات امریکی جنرل ڈیوڈ بارنو اپنی اٹھارہ ماہ کی مدت آئندہ ماہ مکمل کرنے والے ہیں اور وہ سنیچر کے روز چرات میں اس تربیت کے موقع پر موجود بھی تھے۔ متعلقہ امریکی جنرل کے گزشتہ ہفتے دیے گئے ایک بیان سے بھی اس وقت بڑا تنازعہ پیدا ہوا تھا۔ جب پاکستان امریکہ اور افغانستان پر مشتمل سہ فریقی کمیشن کا اجلاس راولپنڈی میں منعقد ہوا تھا۔ اجلاس کے بعد جنرل بارنو نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ پاکستان جلد ہی قبائلی علاقہ جات میں چھپے ہوئے القاعدہ اور ان کے حامی جنگجوؤں کے خلاف نئی کارروائی شروع کرنے والا ہے۔ امریکی جنرل کے اس بیان پر پاکستان نے سخت رد عمل ظاہر کیا تھا۔ پشاور کے کورکمانڈر لیفٹیننٹ جنرل صفدر حسین نے امریکی جرنیل کے بیان کو انتہائی غیرذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ قبائلی علاقوں میں کب اور کہاں آپریشن کرنا ہے اس بات کا فیصلہ پاکستان کرے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||