امریکہ کا پالتو نہیں ہوں: مشرف | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر جنرل پرویز مشرف نے ان پر ملک کے اندر کی جانے والی تنقید کو مسترد کر دیا ہے کہ وہ امریکہ کے کہنے پر شدت پسندوں کے خلاف کارروائیاں کر رہے ہیں۔ برطانوی اخبار ’دی گارڈین‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ شدت پسندی کا خاتمہ پاکستان کے اپنے مفاد میں ہے اور وہ کسی کے ’پوُڈل‘ نہیں ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ضرورت پڑنے پر وہ ’کاٹ‘ بھی سکیں گے تو انہوں نے جواب دیا ’ہاں میرے دانت ہیں، بہت سارے دانت ہیں۔ لیکن اکثر ان کو نہ دکھانا ہی سمجھداری ہے۔ انٹرنیشنل رلیشنز میں عملیت پسندی ضروری ہوتی ہے۔‘ واشنگٹن کے ساتھ تعلقات کی بناء پر جنرل مشرف کو ملک کے اندر شدید تنقید کا سامنا ہے۔ جنرل مشرف نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائی ضروری ہے لیکن اس انٹرویو میں صدر جنرل مشرف کہتے ہیں کہ پاکستان میں القاعدہ کے خلاف خفیہ امریکی حملے پاکستان کی خودمختاری کی خلاف ورزی ہیں۔ اس سال جنوری میں پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ میں امریکہ کی طرف سے القاعدہ کے ارکان پر میزائیل حملے کے بعد جنرل مشرف پر کی جانے والی تنقید میں مزید شدت پیدا ہو گئی تھی۔اس حملے میں ہلاک ہونے والے اٹھارہ شہریوں میں بچے اور عورتیں بھی شامل تھے۔ جنرل مشرف نے کہا کہ شدت پسندوں کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں میں انتہائی احتیاط سے کام لیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہت دیکھ بھال کر اور تیاری کے بعد یہ حملے کیے جاتے ہیں اور اگر نشانے بنائے جانے والے شخص کے علاوہ بھی لوگ ہلاک ہوتے ہیں تو وہ اس لیئے کہ ’وہ لوگ نشانے بنائے جانے والے کے ساتھ یا قریب تھے۔ اگر وہ اس کے ساتھ تھے تو وہ دہشتگردی کی حمایت کرنے کے مجرم تھے۔بعض اوقات عورتوں اور بچوں کی ہلاکتیں ہوتی ہیں، لیکن وہ بھی نشانے کے قریب میں ہی ہونے کی وجہ سے۔‘ تاہم اس اعتراف کے با وجود جنرل مشرف نے کہا کہ القاعدہ کے خلاف ان کی حکومت کی کارروائی کامیاب رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دیگر شہروں سے القاعدہ کے اہم کارکنوں کی گرفتاری ایک بڑی کامیابی تھی۔ انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ وزیرستان میں ’طالبان آئیزیشن‘ بڑھ رہی ہے یعنی طالبان کمزور نہیں بلکہ اور طاقتور ہو رہے ہیں۔ ’لوگ شدت پسندی کی طرف جا رہے ہیں ، اور یہ اب شہری علاقوں میں بھی پھیل رہا ہے۔‘ جنرل مشرف نے کہا کہ ملک میں اگلے سال آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کرائے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ عجیبسی بات لگتی ہے کہ وہ وردی پہن کر جمہوریت کی بات کرتے ہیں لیکن ’مجھے اندازہ ہوا کہ پاکستان میں جمہوریت لانے کے لیے مجھے اس وردی کی ضرورت ہے۔‘ جنرل مشرف نے کہا کہ ان کا ’مِشن‘ یہ ہے کہ پاکستان کو جمہوری بنایا جائے۔ ’میری اپنی مقبولیت اس سے متاثر ہوئی ہے لیکن اس وقت ملک کو میری ضروت ہے۔ میں نے ایک مضبوط جمہوری نظام قائم کر دیا ہے اور مجھے یقین ہے کہ اس نظام کے ذریعے میرے بعد آنے رہنمائی سنبھالنے والا شخص سامنے آ سکے گا۔ مجھے جمہوریت پر بھرپور یقین ہے۔‘ | اسی بارے میں حکومتی بالادستی ہرحال میں: مشرف 15 March, 2006 | پاکستان قرارداد: مشرف وردی سمیت صدر 23 March, 2006 | پاکستان مشرف کے عوامی جلسے؟28 March, 2006 | پاکستان مشرف کے بعد صدر کوئی نہیں18 April, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||