’پاک جمہوریت امریکی ایجنڈے پر‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی حزب اختلاف کی دو بڑی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے اسلام آباد میں امریکی نائب وزیر خارجہ برائے جنوبی و وسطی ایشیا سے ملاقات کے بعد کہا ہے کہ پاکستان میں حقیقی جمہوریت کی بحالی جو امریکی ایجنڈے پر بہت نیچی چلی گئی تھی اب اوپر آ گئی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی پالیمینٹیرینز اور مسلم لیگ نواز کے رہنماؤوں مخدوم امین فہیم اور راجہ ظفر الحق نے امریکی نائب وزیر خارجہ سے جمعرات کو ناشتے پر ملاقات کی اور پاکستان میں آئندہ برس ہونے والے انتخابات کے بارے میں تبادلہ خیال کیا۔ مسلم لیگ نواز کے رہنما راجہ ظفر الحق کے مطابق پاکستان میں حزب اختلاف کا خیال تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ اور پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف کی حمایت کے بعد پاکستان میں جمہوریت کا نفاذ امریکہ کی ترجیحات میں کہیں بہت نیچے چلا گیا تھا۔ ’تاہم رچرڈ باؤچر کے ساتھ بات چیت کے بعد ہمارا خیال ہے کہ پاکستان میں حقیقی جمہوریت کا نفاذ اب امریکہ کی ترجیحات میں شامل ہے‘۔ حزب اختلاف کے رہنماؤں نے رچرڈ باؤچر کے اس بیان کا خیر مقدم کیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ امریکہ عوام کی حکمرانی میں پختہ یقین رکھتا ہے اور فوج کو سویلین حکومت کے تابع ہونا چاہیے۔ امین فہیم نے ملاقات کے بعد بی بی سی کو بتایا کہ حزب اختلاف نے امریکی وزیر پر واضح کیا ہے کہ پاکستان میں شفاف اور غیر جانبدارانہ الیکشن موجودہ سیٹ اپ کے تحت ممکن نہیں ہے اور جب تک فوجی حکمران صدر جنرل پرویز مشرف سے عوامی جماعتوں کو اقتدار منتقل نہیں ہو جاتا ملک میں حقیقی جمہوریت کا نفاذ ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ حزب اختلاف کی جماعتیں امریکہ سے آئندہ انتخابات کے بارے میں کوئی امید نہیں رکھتیں مگر نائب وزیر خارجہ کا بیان اس لحاظ سے خوش آئند ہے کہ اس میں پاکستان کے عوام کے لیئے خیر کی آواز چھپی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر آئندہ انتخابات کے بعد بھی اصل قوت کا منبع صدر جنرل پرویز مشرف ہی رہے تو آئندہ برس ہونے والے انتخابات کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔
مسلم لیگ نواز کے چیئرمین راجہ ظفر الحق کا اس ملاقات کے بارے میں کہنا تھا کہ انہوں نے امریکی نائب وزیر خارجہ پر واضح کیا ہے کہ اگر جلا وطن رہنما اور دو سابق وزرا اعظم نواز شریف اور بینظیر بھٹو کو ملک میں الیکشن سے قبل واپس نہ آنے دیا گیا تو حزب اختلاف ان انتخابات کے بائیکاٹ کا فیصلہ بھی کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر جنرل مشرف نے الیکشن کمیشن کا کردار محدودکر دیا ہے جس سے آئندہ انتخابات کے شفاف ہونے کے بارے میں حزب اختلاف کو کئی شکوک و شبہات ہیں۔تاہم انہوں نے کہا کہ امریکی نائب وزیر خارجہ کے اس بیان کو حزب اختلاف نے سراہا جس میں انہوں نے فوج کو سویلین حکومت کے ماتحت ہونے کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ امریکی نائب وزیر خارجہ سے پاکستان کے حزب اختلاف کی سیاسی جماعتوں کے رہنماوں سے ملاقات امریکی سفیر کی دعوت پر ہوئی تھی۔ تاہم امریکی نائب وزیر خارجہ نے پاکستان کے حزب اختلاف کی دینی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کے قائدین سے ملاقات نہیں کی۔مجلس عمل کے ترجمان کے مطابق اتحاد کو امریکی حکام کی جانب سے ملاقات کی کوئی درخواست موصول نہیں ہوئی۔ | اسی بارے میں باؤچر کی حکام سےملاقاتیں05 April, 2006 | پاکستان ’غیر فوجی جوہری توانائی کا مطالبہ‘ 04 April, 2006 | پاکستان ’مسئلہ کشمیر میں چین فریق نہیں‘04 April, 2006 | پاکستان پشاور: دھمکیاں، امریکی مشن بند28 March, 2006 | پاکستان توانائی مذاکرات، تجاویز کا تبادلہ13 March, 2006 | پاکستان امریکی وزیر دورۂ پاکستان پر11 March, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||