BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 07 May, 2006, 08:34 GMT 13:34 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کرمپٹن کے بیان پر پاکستان کی خفگی

شیر پاؤ
پاکستان افغانستان میں بھی امن کا خواہاں ہے: شیر پاؤ
پاکستانی حکام نے ایک اعلٰی امریکی عہدیدار کے اس بیان پر سخت ردِ عمل کا اظہار کیا ہے کہ پاکستان کے کچھ حصے دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں ہیں۔

وفاقی وزیر داخلہ آفتاب شیرپاؤ کا کہنا ہے کہ انہیں امریکی عہدیدار کے بیان پر حیرت ہوئی ہے۔

واضح رہے کہ امریکہ کی انسداد دہشت گردی کے ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ ہنری کرمپٹن نے ہفتے کو کابل میں ایک اخباری کانفرنس میں کہا تھا کہ پاکستان نے انسداد دہشت گردی کے لیئے تسلی بخش اقدامات نہیں کیئے ہیں اور انہوں نے اپنے حالیہ دورہ پاکستان میں پاکستانی حکام کو اس بارے میں امریکہ کی تشویش سے آگاہ کیا ہے۔

اس کے علاوہ ہنری کرمپٹن نے یہ بھی کہا کہ ان کے خیال میں اس بات کا زیادہ امکان ہے کہ اسامہ بن لادن افغانستان کے بجائے پاکستان میں کہیں چھپے ہوئے ہیں۔

تاہم پاکستان کے وزیر داخلہ آفتاب شیرپاؤ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہنری کرمپٹن نے اپنے حالیہ دورۂ پاکستان میں پاکستانی حکومت کی دہشت گردی کے خاتمے کے لیئے کی گئی کوششوں کی تعریف کی تھی اور ایسا کچھ بھی نہیں کہا جو انہوں نے کابل میں کہا ہے۔

وزیر داخلہ کے مطابق وہ ہنری کرمپٹن سے امریکہ میں گزشتہ ماہ ملاقات کر چکے ہیں اور اس کے بعد اسلام آباد میں بھی ان سے مذاکرات کیئے ہیں جس میں امریکی عہدیدار نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے کردار کی تعریف کی اور پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی صلاحیت کو بڑھانے کے لئے امریکی معاونت پر بھی بات ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان افغانستان میں بھی امن کا خواہاں ہے۔

آفتاب شیرپاؤ نے کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ پاکستان نے جس طرح دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مشکلات سے نمٹنے کا مظاہرہ کیا ہے بین الاقوامی برادری اور امریکہ اس کو قدر کی نگاہ سے دیکھے گا۔

ایسے غیر ذمہ دارانہ بیانات سے دہشت گرد مزید مضبوط ہوں گے

پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان نے امریکی عہدیدار پر کڑی تنقید کی اور کہا کہ امریکی عہدیدار کابل میں جا کر ایسے غیر ذمہ دارانہ بیان داغ دیتے ہیں جبکہ جب وہ پاکستان میں ہوتے ہیں تو وہ پاکستانی حکام کی تعریف کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایسے غیر ذمہ دارانہ بیانات سے دہشت گردی کے خلاف جنگ کو کوئی مدد نہیں ملے گی بلکہ اس سے دہشت گرد مزید مضبوط ہوں گے۔

پاکستانی تجزیہ نگاروں کے مطابق امریکی عہدیدار کا نیا بیان بظاہرامریکہ کی طرف سے پاکستان کی حکومت پر مزید دباؤ ڈالنے کی کوشش معلوم ہوتی ہے۔فوجی مبصر جنرل طلعت مسعود کا کہنا ہے کہ ہنری کرمپٹن کا تازہ بیان پاکستان اور امریکہ کے درمیان موجود شکوک و شبہات کی عکاسی کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکی عہدیدار پاکستان میں جب ہوتے ہیں تو مروت میں پاکستانی حکومت کی تعریف کرتے ہیں مگر نجی محفلوں میں وہ اس بات کا تذکرہ ضرور کرتے ہیں کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں وہ کچھ نہیں کر رہا جو اسے کرنا چاہیئے۔

طلعت مسعود کے مطابق امریکہ افغانستان کی صورتحال سے شدید مایوسی کے عالم میں پاکستان کو قربانی کا بکرا بنانا چاہ رہا ہے کیونکہ وہ افغانستان کی حکومت کو ملک کی صورتحال کا ذمہ دار اس لیئے نہیں ٹھہرا سکتا کیونکہ وہاں پر حکومت مکمل طور پر امریکی کنٹرول میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی الزام تراشی کا فائدہ دہشت گردوں اور القاعدہ کو پہنچے گا جو اس صورتحال میں مزید مضبوط ہوں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد