پاکستانی سمیت 4 پر فردِ جرم عائد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی حکام نے ایک پاکستانی نژاد طالبعلم سمیت چار افراد کے خلاف دہشت گردی کے قانون کے تحت فرد جرم عائد کر دی ہے۔ ان افراد پر لاس اینجلیس میں امریکی فوجی تنصیبات، اسرائیلی قونصل خانے اور دیگر اہداف کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کرنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ اکیس سالہ پاکستانی نژاد طالبعلم کا نام حماد ریاض سمانا جبکہ دیگر تین افراد کے نام لیوار واشنگٹن، گریگوری پیٹرسن اور کیون جیمز بتائے جاتے ہیں۔ واشنگٹن، پیٹرسن اور جیمز امریکی شہری بتائے جاتے ہیں۔ فرد جرم کے مطابق گروپ کے سربراہ کیون جیمز عرف شیخ شہاب مرشد نے سن انیس سو ستانوے میں اس وقت شدت پسند گروپ جمیعت الاسلام الصحیح کا بنیاد رکھی جب وہ ریاست کیلیفورنیا کی ایک جیل میں سزا کاٹ رہے تھے۔ جیل سے رہائی کے بعد کیون جیمز نے سب سے پہلے لیوار واشنگٹن کو اپنے ساتھ ملایا اور ان سے مشن سے وفاداری کا حلف لیا۔ بعد میں لیوار واشنگٹن نے پیٹرسن اور پاکستانی طالبعلم حماد ریاض سمانا کو اپنے ساتھ ملا لیا اور تینوں نے مل کر لاس اینجیلیس میں امریکی فوجی تنصیبات، اسرائیلی قونصل خانے اور یہودی عبادتگاہ یا سینیگوگ کی نگرانی شروع کر دی۔ فرد جرم کے مطابق ملزمان نے منصوبہ بندی کر رکھی تھی کہ کسی یہودی تہوار پر سینیگوگ پر حملہ کریں گے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس کی لپیٹ میں آئیں۔ ایف بی آئی کے سربراہ رابرٹ ملر کے مطابق ایف بی آئی کو ابھی تک اس گروپ کے القاعدہ یا کسی اور غیر ملکی شدت پسند تنظیم سے رابطے سے متعلق کو ثبوت نہیں ملا۔ امریکی اٹارنی جنرل البرٹو گوزالیز کے مطابق گروپ نے یہودی عبادت گاہ پر آتش گیر اسلحے کے ذریعے حملہ کرنا تھا اور اس مقصد کے لیے گروپ کے ایک رکن پیٹرسن نے جولائی میں ایک پوائنٹ ٹو ٹو تھری رائفل بھی خریدی تھی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||