BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 13 June, 2006, 02:10 GMT 07:10 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کینیڈا:مقدمے کی رپورٹنگ پر پابندی

ایک ملزم کے والد
ملزمان خاندان کے لوگ میڈیا سے بات کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔
کینیڈا کے صوبے انٹاریو کے مختلف شہروں سے دہشت گردی کی منصوبہ بندی کے الزام میں گرفتار کیے جانے والے سترہ میں چودہ لوگوں کوسوموار کے روز عدالت کے سامنے پیش کیا گیا ۔

عدالت نے کسی بھی ملزم کو رہا نہیں کیا ۔ کچھ مزید ملزموں کو سولہ جون اور چار جولائی کو عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

عدالت نے مقدمے کی کارروائی نشر کرنے پر پابندی لگا دی ہے۔ عدالتی حکم کے مطابق اب اس مقدمے کی سماعت کی کارروائی نشر نہیں کی جا سکے گی۔

سوموار کے روز مقدمے کی سماعت کے دروان میڈیا کی بہت بڑی تعداد عدالت کے باہر موجود تھی۔ ملزمان کے گھر والے اور دوست احباب میڈیا سے بات کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔

عدالتی کارروائی کئی گھنٹے تک جاری رہی اور عدالت کے باہر اور تمام قریبی راستوں پر سخت سکیورٹی کا انتظام تھا۔

ایک ملزم ذکریا عمارہ کے وکیل ڈیوڈ کولنسکی کے مطابق اس کے موکل پر دوران حراست جیل اہلکار نے تشدد کیا ہے۔

دوران تلاشی جیل اہلکار نے ذکریا عمارہ کو زمین پر لٹا کر اس کو تشدد نشانہ بناتے ہوئے کہا’یہ کوئی مذاق نہیں ہے‘۔ عدالت میں پیش ہونے پر ملزم عمارہ کا چہرہ سوجھا ہوا تھا۔

ایک اور ملزم اکیس سالہ ملزم مصطفیٰ غنی کے وکیل راکو گلاٹی نے صحافیوں کو بتایا کہ ان کے مؤکل کو پہلے پانچ دن چوبیس گھنٹے روشن کمروں میں جگا کر رکھا گیا۔ان ملزمان کو کسی سے ملنے نہیں دیا گیا اور کھانے پینے کے لیے صرف پانچ منٹ کا وقت دیا گیا جس کے بعد کھانا واپس لے لیا گیا۔

کینیڈا میں انسداد دہشت گردی کے نئے قانون کے تحت پولیس کی بھی شخص کو دہشت گردی میں ملوث ہونے یا منصوبہ بندی کے الزام میں گرفتار کر سکتی ہے اور تین دن تک حراست میں رکھ کر پوچھ گوچھ کر سکتی ہے۔

یہ قانون گیارہ ستمبر 2001 کے بعد نافذ کیا گیا تھا۔ اس قانون کو معیاد کو بڑھانے کے لیے آئندہ چند ہفتوں میں پارلیمنٹ میں اس پر ووٹنگ ہو گی۔

ادھر کینیڈا کی اپوزیشن جماعت لبرل پارٹی کے نگران لیڈر بل گراہم نے پارلیمنٹ کے اجلاس میں حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سات لاکھ سے زائد مسلمان کینیڈین شہریوں کو امریکی میڈیا اور سیاستدانوں کی تنقید سے بچائے۔

گزشتہ روز کینیڈا کے وزیر اعظم ہارپر نے مسلمان کمیونٹی لیڈروں سے ملاقات کے دوران مسلمانوں کے بھرپور تحفظ کی یقین دہانی کرائی تھی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد