کینیڈا: ملزمان کی عدالت میں پیشی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کینیڈا میں دہشت گردی کے منصوبے بنانے کے الزام میں گرفتار ہونے والے سترہ افراد میں سے پندرہ کو منگل کے روز بریمپٹن کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ عدالت کے ارد گرد پہرے کا انتہائی سخت انتظام تھا اور مسلح پولیس کا چھتوں پر بھی پہرہ لگا ہوا تھا۔ اس موقع پر سینکڑوں افراد عدالت کے باہر موجود تھے اور کینیڈا کے علاوہ دنیا بھر کا میڈیا عدالت کی کارروائی رپورٹ کرنے کے لیے آیا ہوا تھا۔ یہ شاید کینیڈا میں پہلی مرتبہ ہے کہ کسی عدالتی کارروائی کے لیے میڈیا کی اتنی بڑی تعداد موجود ہو۔ کمرہ عدالت میں سب سے پہلے ملزمان کے گھر والوں کو اندر لے جایا گیا۔ ان کو ابھی ملزموں سے ملنے نہیں دیا گیا ہے۔ ملزمان کو بریمٹن کی جیل میں رکھا جا رہا ہے۔ منگل کی صبح عدالتی کارروائی شروع ہونے سے پہلے شہر کی تمام سڑکوں اور عدالت کے قریب عمارات میں سخت سکیورٹی تعینات کر دی گئی۔ عدلت کی سماعت صرف کئی منٹ جاری رہی۔ وکلاء کو پوری طرح سے ان افراد پر الزامات سے واقف نہ ہونے کی وجہ سے عدالتی کارروائی 12 جون تک مؤخر کر دی گئی ہے۔ ان افردا پر الزام ہے کہ انہوں نے کینیڈا کی پارلیمنٹ کو اڑانے، وزراء کے اغوا اور ان کے سر قلم کرنے، اور کینیڈین براڈکاسٹنگ کارپوریشن یعنی سی بی سی پر قبضے کی سازش تیار کی تھی۔ اب ایک ملزم سٹیون چاند پر نئے الزامات سامنے آئے ہیں۔ پچیس سالہ نو مسلم سٹیون چاند عرف عبد الشکور پر کینیڈا کے وزیر اعظم کے قتل کا منصوبہ بنانے اور سی بی سی کا کنٹرول سنبھالنے کا الزام بھی ہے۔ سٹیون چاند کے وکیل گیری بتاسار نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کے موکل بر بہت پابندیا عائد ہیں، انہوں مذہبی آزادی نہیں دی جا رہی اور اور ان کے گرد چھ سے زیادہ کارڈز تعینات ہیں۔ وکیل کا کہنا تھا کہ ان ملزموں کے ساتھ کیا جانے والا برتاؤ نا مناصب ہے اور قانونی اصولوں کے خلاف۔ ان ملزموں کے خاندان والوں کے علاوہ انسانی حقوق کے کارکنوں اور وکلاء نے بھی حکام پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان افراد کے قانونی حقوق کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔ پولیس کے مطابق اس ہفتہ مزید گرفتاریاں عمل میں آئیں گی جبکہ امریکہ کے ساتھ سرحدوں پر بھی امریکی امیگریشن نے سکیورٹی سخت کر دی ہے۔ امریکہ میں کچھ لوگوں نے کینیڈا کو ’دہشت گردوں کا گیٹ وے‘ بھی قرار دیا ہے۔ ایک ملزمم تئیس سالہ جمال جیمز پر پاکستان سفر کرنے اور جہادی کیمپوں میں تربیت حاصل کرنے کا الزام ہے۔ عبد الجمال کے اشتعال انگیز بینات کی تصدیق کرتے ہوئے پاکستانی نژاد رکن اسمبلی واجد علی خان نے بتایا ہے کہ اس ملزم کے بیانات کے بارے میں پہلے ہی متعلقہ اسلامک سینٹر کو شکایت کی گئی تھی۔ کینیڈا میں پولیس نے مساجد اور مدرسوں پر سخت سکیورٹی تعینات کر دی ہے تاکہ مسلمانوں کے خلاف ممکنہ ’ہیٹ کرائمز‘ یعنی نفرت آمیز کارروائیوں کو روکا جا سکے۔ | اسی بارے میں کینیڈا: چھ افراد کی پیشی ہوگی06 June, 2006 | آس پاس کینیڈا: چھاپوں میں سترہ گرفتار03 June, 2006 | آس پاس کینیڈا میں چھاپے اور گرفتاریاں03 June, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||