BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 05 June, 2006, 04:25 GMT 09:25 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
گرفتار ہونے والے کون ہیں؟

ٹورانٹو میں گرفتار ہونے والے ایک شخص کے والد
ٹورانٹو میں گرفتار ہونے والے ایک شخص کے والد
کینیڈا کے صوبے ٹورانٹو کے مختلف شہروں میں گرفتار ہونے والے سترہ مسلم شہریوں کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ ان میں پانچ افراد نابالغ ہیں۔ ان افراد کو دہشت گردی کی منصوبہ بندی کے الزام میں حراست میں رکھا گیا ہے۔

رائل کنیڈین ماؤنٹڈ پولیس کی فراہم کردہ معلومات اور مساجد اور کمیونٹی سنٹروں سے ملنے والی اطلاعات سے معلوم ہوا ہے کہ گرفتار ہونے والے سترہ افراد میں تین پاکستانی، تین صومالی اور چار عرب نژاد کینیڈیائی شہری ہیں۔ کچھ افراد کے نابالغ ہونے کی وجہ سے ان کے بارے میں معلومات سامنے نہیں آئیں۔

گرفتار ہونے والے کچھ افراد کے والدین نے ذرائع ابلاغ سے بات کی ہے جبکہ کچھ لوگ گریز کر رہے ہیں۔

دریں اثناء ٹورانٹو میں پولیس کے سربراہ بِل بلیئر نے پاکستانی، صومالی اور دیگر مسلم رہنماؤں، مساجد کے امام اور عوام سے درخواست کی ہے وہ کسی قسم کی احتجاجی کارروائی نہ کریں اور انہیں عدالتوں کے فیصلے کا انتظار کرنے کے لیئے کہا ہے۔

گرفتار ہونے والے پانچ افراد کا تعلق کینیڈا کے شہر مسی ساگا سے ہے جہاں پاکستانیوں کی سب سے بڑی تعداد آباد ہے۔

گرفتار ہونے والوں کی رشتہ دار خواتین عدالتی کارروائی کے بعد باہر آ رہی ہیں
گرفتار ہونے والوں میں اکیس سالہ فہیم احمد کا نام بھی لیا گیا ہے جن کے بارے میں بتایا گیا کہ وہ اپنے خاندان کے ساتھ چار سال قبل دبئی سے کینیڈا منتقل ہوئے تھے۔ وہ باسکٹ بال کے اچھے کھلاڑی سمجھے جاتے ہیں اور نوجوانوں کو اس کھیل کی تربیت بھی دیتے رہے ہیں۔

فہیم کی ہمسائی میلینی برناب کے مطابق یہ حیران کن کارروائی تھی۔ گزشتہ روز خفیہ اداروں کے ہمراہ پولیس کا عملہ کئی گھنٹے تک فہیم کے گھر کی تلاشی لیتا رہا۔ دیگر دو گرفتار ہونے والے پاکستانیوں کے خاندان والوں نے بات کرنے سے انکار کر دیا۔

تیس سالہ مصری نژاد شریف عبدالحکیم کے وکیل راکو گلاٹی کے مطابق وہ دس سال کی عمر میں کینیڈا منتقل ہوئے۔ ان کے والد اٹامک انرجی آف کینیڈا میں بطور انجنیئر ملازم ہیں۔ وکیل کے مطابق ان پر لگے تمام الزامات غلط ہیں۔

تینتالیس سالہ قیوم عبدالجمال سکول کے بس ڈرائیور ہیں اور ان کے چار بیٹے ہیں۔ ان کا تعلق بھی مصر سے بتایا گیا ہے۔

صومالیہ سے تعلق رکھنے والے بائیس سالہ محمد زبیری اپنی والدہ اور دو بھائیوں کے ہمراہ مارکھم سٹی میں رہتے ہیں۔ وہ سات سال کی عمر میں صومالیہ سے کینیڈا آئے تھے۔

چوبیس سالہ یاسین عابدی کا تعلق بھی صومالیہ سے ہے۔ وہ غیر قانونی اسلحہ رکھنے کے مقدمے میں دو سال کی قید بھگت رہے ہیں۔ ان کی والدہ نے بتایا کہ انہیں پہلے سے ہی یقین تھا کہ ان کے بیٹے کو اس طرح کے بے بنیاد الزامات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ دوران تفتیش ان کے بیٹے سے بندوق رکھنے کی بجائے القاعدہ کے بارے میں سوال و جواب ہوتے رہے۔

احمد مصطفیٰ کا خاندان انیس سو پچپن میں ٹرینیڈیڈ ٹوباگو سے آکر کینیڈا میں آباد ہوا۔ انہوں نے ہیملٹن سے یونیورسٹی کی تعلیم حاصل کی۔

ان افراد کے علاوہ کچھ لوگوں کے نابالغ ہونے کی وجہ سے نام ظاہر نہیں کیے جا رہے اور کچھ کے خاندان والے بات نہیں کر رہے۔

مسلم کمیونٹی میں ان گرفتاریوں کے بعد شدید بے چینی پیدا ہو گئی ہے۔ یاد رہے کہ چند سال قبل بھی مسلمان طالب علموں کی بڑی تعداد کو گرفتار کیا گیا تھا لیکن بعد میں یہ افراد بے گناہ قرار پائے تھے۔

مسجد میں توڑ پھوڑ
ٹورانٹو کے علاقے ریکسڈیل بلیوارڈ میں واقع انٹرنیشنل آرگنائزیشن آف ٹورانٹو کی مسجد پر گزشتہ رات نا معلوم افراد نے حملہ کر کے تمام کھڑکیاں اور دروازوں کے شیشے توڑ دیئے۔

پولیس کے مطابق حملہ آوروں نے دوران حملہ خود کو بھی شیشے سے زخمی کر لیا تھا۔ جائے واردات سے خون کے نشانات ملے ہیں۔ پولیس نے حون کے نمونے ڈی این اے ٹیسٹ کے لیئے بھجوا دیئے ہیں۔ مسجد میں حملہ آور کے قدموں کے نشانات بھی دیکھے گئے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد