القاعدہ کی کارروائی ہے: امریکی ماہرین | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کیلیفورنیا سمیت بعض امریکی ریاستوں میں ہوائی اڈوں اور ٹرانسپورٹ نظام کی حفاظت کیلیے نشنل گارڈز کو طلب کرلیا گیا ہے- نیشنل گارڈز امریکی ریگولر افواج کا حصہ ہیں لیکن ریاست کے گورنر کے ماتحت ہوتے ہیں۔ جبکہ امریکی شمالی کمان یا نارتھ کوم کے سربراہ جنرل گیلن ویبسٹر نے کہا ہے کہ دہشتگردی کی تازہ بڑی سازش پکڑے جانے کے حوالے سے ان کے پاکستانی حکام سے روزمرہ کی بنیاد پر رابطے ہیں۔ دوسری طرف امریکی ٹی وی نے حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ لندن میں دہشتگردی کے منصوبے میں گرفتار ہونیوالوں میں سے مبینہ طور زیادہ پاکستانی نژاد ہیں اور ان میں سے دو اشخاص نے پاکستان کیطرف سفر بھی کیا تھا اور انہیں پاکستان سے رقم بھی بذریعہ تار بھیجھے گۓ تھے۔ امریکہ میں ریاستی حکومتوں نے اپنے بڑے شہروں کے ہوائی اڈوں اور ٹرانسپورٹ کے نظام پر سخت ترین حقاظتی انتظامات کا اعلان کیا ہے جن میں کیلیفورنیا، نیویارک اور میساچوسٹس ریاستیں شامل ہیں۔ ان ریاستوں کے گورنروں نے ہوائی اڈوں اور دیگر ٹرانسپورٹ کے نظام کی حفاضت کے لیئے نیشنل گارڈز کی تعیناتی کا اعلان کیا ہے- لاس اینجلس، نیویارک، شکاگو، اور بوسٹن شہروں کی مئيروں نے ان شہروں میں دہشتگردی کے خطرے سے نمٹنے کیلیے ايئرپورٹوں اور پبلک ٹرانسپورٹ کے نظام پر حفاظتی انتظامات کو شدید ترین کرنے کا اعلان کیا ہے- امریکی شمالی کمان کے سربراہ جنرل گیلن ویبسٹر نے امریکی میڈیا پر کہا ہے کہ ' دہشتگرد لاکھوں کی تعداد میں آزادی سے پیار کرنیوالے لوگوں کو ہر وقت قتل کرنے کے درپے ہیں اور ہم اسی دہشتگردی کیخلاف ہفتے کے ساتوں دن اور دن کے چوبیس گھنٹے چوکس ہیں،۔ انہوں نے کہا کہ ان کا امریکی اور برطانوی سیکیورٹی اداروں کے علاوہ پاکستانی حکام سے بھی روز مرہ کی بنیاد پر رابطے ہیں۔ امریکی حکام نے کہا ہے دہشتگردوں نے لندن سے امریکہ کی طرف آنیوالے تین ائير لائنوں کے مسافر طیاروں کو دھماکہ خیز مائع مواد سے اڑانے کی سازش کی تھی جن میں امریکن ايئر، کانٹیننٹ اور یونائیٹڈ ایئر شامل ہیں- امریکی میڈیا کے مطابق، دہشت گردوں کے اہداف واشنگٹن، نیویارک اور لاس اینجلس کے شہر تھے۔ امریکی ٹی وی پر ایک سابق سیکورٹی اہلکار نے کہا ہے کہ دہشتگردی کی مبینہ سازش کے طریقہ کار اور اس میں ہتھیار کے طور پر استعمال کو دیکھتے ہوئے اسکا شبہ القاعدہ پر جاتا ہے جس طرح وہ پہلے بھی کرتا رہا ہے۔ امریکی سابق سینئر سیکیورٹی عملدار نے دہشت گردی کے منصوبوں میں جوتے میں بم استعمال کرنیوالے رچرڈ ریڈ اور رمزی احمد یوسف کے نام لیئے جو امریکی جیلوں میں قید ہیں- امریکی سابق سینئر اہلکار نے لندن میں دہشت گردی کی تازہ سازشوں کے حوالے ایسی ہشت گردیوں کی اس سے پہلے مثالیں انیس سو اسی کی دہائي میں کوریا اور انیس سو پچانوے میں فلپائن میں ہونے کی مثالیں دیں۔ امریکی اندرونی سلامتی کے وزیر نے بھی القاعدہ کے حوالے سے تازہ دہشت گردی کے سوال کے جواب میں کہا تھا کہ گیارہ سمتمبر کی سازش کے سرغنے نے تب بھی بحراکاہل پار سے اڑ کر آینوالے مسافر طیاروں کو تباہ کرنے کا منصوبہ بنانے کا اعتراف کیا تھا- جبکہ 'لاس اینجلس ٹائمز اخبار کی رپورٹ کی مطابق امریکی ائيرپورٹوں پر جمعرات کی صبح ہزاروں مسافروں اچانک سخت حیرت سے دوچار ہوئے ۔ رپورٹیں جو لندن دہشتگردی کی سازش کے نتیچے میں ہوائي جہازوں پر راتوں رات نئۓ قوانین کے متعارف ہونے سے بیخـر تھے- دہشت گردی کےائٹلانٹک پار پروازوں پر بموں کے دہماکوں کے لاکھوں لوگوں کو قتل کا ہدف بنانے کی سازش اور ایسے منصوبوں سے نمٹنے کے انتظامات اپنی جگہ لیکن گیارہ ستمبر کی پانچویں برسی پرامریکی زندگی پھر سے تبدیل ہوگئی ہے- | اسی بارے میں اندرون ملک دہشتگردی کا خطرہ24 June, 2006 | آس پاس مسلم’شدت پسندی کا قلع قمع کریں‘04 July, 2006 | آس پاس ’القاعدہ منصوبہ جیسا لگتا ہے‘10 August, 2006 | آس پاس مسلمان فاشِسٹوں کے خلاف جنگ:بش10 August, 2006 | آس پاس برطانیہ میں پھر انتہائی ’الرٹ‘ 10 July, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||