BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 04 July, 2006, 12:21 GMT 17:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مسلم’شدت پسندی کا قلع قمع کریں‘
صادق حان کے مطابق مسلمان گروپ سمجتھے ہیں کہ ان کے خیالات کو کوئی اہمیت نہیں دی گئی۔
برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے کہا ہے کہ برطانوی مسلمانوں میں شدت پسندی اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی دہشت گردی کا خاتمہ حکومت اکیلے نہیں کر سکتی۔

ایوان زیریں کے ارکان کی ایک کمیٹی سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس بارے میں کوئی شک نہیں ہے کہ ’کچھ لوگ اس (دہشتگردی) قسم کی کارروائیوں کی منصوبہ بندی کرتے رہتے ہیں۔‘

ٹونی بلئیر کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں وہ اس پوزیشن میں نہیں کہ وہ مسلمان کمیونٹی میں جائیں اس لیے بہتر یہ ہوگا کہ ’مسلمان کمیونٹی کو متحرک‘ کیا جائے تا کہ ان لوگوں کو جنہیں مغرب اور اس کے نظریات سے شکایات ہیں، بتایا جا سکے کہ وہ’سراسر غلط‘ ہیں۔

برطانوی وزیراعظم کا یہ بیان لیبر پارٹی کے ایک ایم پی صادق خان کے اس بیان کہ بعد آیا ہے کہ گزشتہ سال کے لندن دھماکوں کے بعد سے حکومت نے مسلمان کمیونٹی سے جو رابطے بنائے ہیں وہ مایوس کن ہیں۔ صادق خان نے کہا تھا کہ دھماکوں کے بعد حکومت نے جو ٹاسک فورس بنائی تھی اس کی کارکردگی کے بارے میں مایوسی پائی جاتی ہے۔

ٹونی بلیئر نے ایوان زیریں کے سینیئر ممبران پر مشتمل کمیٹی کو بتایا کہ وہ اس رائے سے اختلاف کرتے ہیں کہ وزراء مسلمان کمیونٹی کے ساتھ مل کر کام کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اکیلے شدت پسندی کو ختم نہیں کر سکتی۔’ میں جانتا ہوں کہ ہر کوئی حکومت کو ہی الزام دینا چاہتا ہے لیکن حکومت جو بھی کر لے اس قسم کی شدت پسندی کو اکیلے شکست نہیں دے سکتی۔‘

 مسلمانوں کی بہت بڑی اکثریت اس قسم کی شدت پسندی سے شدید نفرت کرتی ہے اور وہ ان لوگوں کے ساتھ ہے جو اسے شکست دینا چاہتے ہیں۔
ٹونی بلیئر

برطانوی وزیراعظم نے کہا کہ ’ مسلمانوں کی بہت بڑی اکثریت اس قسم کی شدت پسندی سے شدید نفرت کرتی ہے اور وہ ان لوگوں کے ساتھ ہے جو اسے شکست دینا چاہتے ہیں۔‘

ٹونی بلیئر کا کہنا تھا کہ وہ سات جولائی کے دھماکوں کی کھلی انکوائری نہیں کروائیں گے کیونکہ ایک ایسی تفتیش پر وسائل ضائع کرنے کا کیا فائدہ جس کے نتائج ہمیں پہلے سے ہی پتا ہیں اور وہ یہ کہ دھماکے کرنے والے چار افراد کون تھے۔ انہوں نے کہا کہ وہ جانتے ہیں کہ دھماکوں کا شکار ہونے والوں اور ان کے لواحقین کے احساسات کیا ہیں لیکن ٹونی بلیئر کے مطابق ان خبروں میں کوئی سچائی نہیں جن کے مطابق سات جولائی کے واقعات میں کوئی ’سازش‘ کا عنصر بھی تھا۔

واضح رہے کہ لندن دھماکوں کے بعد مسلمانوں کے سات ورکنگ گروپ تشکیل دیے گئے تھے جنہوں نے اپنی رپورٹیں گزشتہ سال نومبر میں دے دیں تھی۔

فیبئن سوسائٹی سے خطاب کرتے ہوئے ایم پی صادق خان نے کہا تھا کہ سات گروپوں کی طرف سے پیش کی گئی سفارشات میں سے صرف تین پر عمل کیا گیا۔ ’ باقی تمام سفارشات کا کیا ہوا؟ ان پر عمل درآمد کے لیے کوئی نظام الاوقات کیوں نہیں بنایا گیا؟‘

صادق خان کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں بہت کم پیش رفت ہوئی ہے جس کی وجہ سے مایوسی کی فضا چھائی ہوئی ہے۔صرف تین سفارشات پر عمل ہوا ہے جس کی وجہ سے ورکنگ گروپ کے اراکین سمجتھے ہیں کہ ان کے خیالات کو کوئی اہمیت نہیں دی گئی۔

دریں اثناء برطانوی وزارت داخلہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ جب سے ’پریونٹنگ ایکسٹریمزم ٹوگیدر‘ یا ’شدت پسندی کا مل کر خاتمہ‘ نامی گروپ نے اپنی سفارشات پیش کی ہیں حالات میں خاصی بہتری آئی ہے۔

بلدیات کے وزیر فِل ولاس نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ شدت پسندی کا خاتمہ ’ ایک بہت بڑا کام ہے اور اس میں حکومت کی سب سے بڑی اتحادی خود مسلمان کمیونٹی ہے۔‘
اسی طرح بلدیات کے وزیر فِل ولاس نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ شدت پسندی کا خاتمہ ’ ایک بہت بڑا کام ہے اور اس میں حکومت کی سب سے بڑی اتحادی خود مسلمان کمیونٹی ہے۔‘

وزیر کا کہنا تھا کہ گروپوں کے طرف سے پیش کی جانے والی سفارشات کی کل تعداد چونسٹھ تھی جن میں صرف ستائیس حکومت کے لیے تھیں جبکہ باقی کا تعلق کمیونٹی سے تھا۔ وزیر بلدیات کا مذکور بیان اس وقت سامنے آیا جب اخبار ’دی ٹائمز، اور ایک ٹی وی چینل ’آئی ٹی وی‘ کے اشتراک سے کیے جانے والے ایک سروے میں کہا گیا کہ برطانونی مسلمانوں میں سے تیرہ فیصد کے خیال میں سات جولائی کو دھماکے کرنے ولوں کو ’شہید‘ کہنا چاہیے۔

 سروے کے مطابق سات فیصد لوگوں نے اس خیال سے اتفاق کیا تھا کہ مخصوص صورتحال میں غیر فوجی برطانوی افراد پر حملے جائز ہیں

سروے کے مطابق سات فیصد لوگوں نے اس خیال سے اتفاق کیا تھا کہ مخصوص صورتحال میں غیر فوجی برطانوی افراد پر حملے جائز ہیں جبکہ سولہ فیصد کے خیال میں لندن دھماکے غلط تھے لیکن ان کے پیچھے جو سوچ کارفرما تھی وہ جائز تھی۔

سروے میں حصہ لینے والوں میں سے تقریباً دو فیصد نے کہا کہ اگر ان کے گھر کا کوئی فرد القائدہ کا رکن بن جائے تو انہیں اس پر فخر ہوگا جبکہ سولہ فیصد کا کہنا تھا کہ انہیں ایسی بات سے کوئی لینا دینا نہیں ہو گا۔

دریں اثناء مسلم کونسل آف بریٹین کے سیکٹری جنرل محمد عبدالباری نے لوگوں پر زود دیا ہے کہ وہ سات جولائی اور گیارہ ستمبر کے حملوں پر توجہ دینا چھوڑ دیں کیونکہ اس سے مسلمان کمیونٹی کے مسائل حل کرنے میں کوئی مدد نہیں ملی۔

اسی بارے میں
وسطی لندن میں دھماکے
07 July, 2005 | صفحۂ اول
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد