دہشت گردی سے مذاکرات کمزور | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے وزیر اعظم منموہن سنگھ نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے حالیہ واقعات سے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جاری امن کے عمل کو نقصان پہنچا ہے۔ یوم آزادی کے موقع پر ہندوستانی قوم کو خطاب کرتے ہوۓ مسٹر سنگھ نے کہا کہ پاکستان کو اپنے کنٹرول والے علاقے میں ہند مخالف سرگرمیوں پر قابو پانے کے اپنے وعدے پر موثر طریقے سے عمل کرنا ہوگا۔ ’دہشت گردی کے مسلسل واقعات سے مذاکرات کے عمل کی حمایت کرنے والا راۓ عامہ کمزورہوتا جا رہا ہے۔‘ مسٹر سنگھ نے کہا کہ جنوبی ایشیا کا ایک مشترکہ مستقبل ہے اور ہندوستان اپنی خوشحالی میں اپنے ہمسایوں کو بھی شامل کرنا چاہتا ہے۔ ’ہم ایک ایسے خطے کا خواب دیکھ رہے ہیں جہاں سرحدیں بے معنی ہو جائیں، لیکن یہ خواب تب تک پورا نہین ہو سکتا جب تک اس خطے پر آتنک واد کی کالی چھایا پڑتی رہے گی۔‘
’آنے جانے کے نۓ راستے کھلنے سے کنٹرول لائن کے دونوں جانب کے لوگ اور قریب آۓ ہیں ۔ہم وہاں کے لوگوں کے بہتر مستقبل کے نئے راستے تلاش کر رہے ہیں۔ ایک ایسا مستقبل جہاں وہ بے خوف ہوکر شانتی ، خوشحالی اور عزت کی زندگی گزار سکیں۔‘ وزیر اعظم نے کہا ملک کی سلامتی کو دہشت گردی کے علاوہ نکسلواد سے بہت بڑا خطرہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ نکسلی شدت پسند گاؤں میں پھیلی غربت کا فائدہ اٹھا کر دیہی نوجوانون کو تشدد کی طرف راغب کر رہے ہیں۔ ’لیکن میں بتانا چاہتا ہوں کہ تشدد کے راستے پر چل کر کبھی بھی غریبوں کے مسائل حل نہیں کیے جا سکتے۔‘ انہوں نے کہا ملک کی سلامتی کے عمل میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی۔ اس کے لیے پولیس او ر خفیہ اداروں کی جدید کاری کی جا رہی ہے۔ وزیر اعظم کی تقریر کا خاصا حصہ ان کی حکومت کی پالیسیوں اور ملک کی ترقی کے مختلف پہلوؤں پر مرکوز رہا۔ انھوں نے کہا کہ ملک میں ایسی ترقی کا دور پہلے کبھی نہیں آیا ۔ ’دیش میں میں کہیں جاتا ہوں مجھے ہر جگہ ترقی نظر آتی ہے۔ ہر جگہ حوصلہ اور امنگیں نظر آرہی ہیں۔ ہر طرف ترقی کی ہلچل ہے۔‘ منموہن سنگھ نے اپنی طویل تقریرمیں مہنگائی، کسانوں کی خودکشی صحت اور بنیادی ڈھانچے، سبھی کا ذکر کیا اور کہا کہ ہندوستان نے ایک طویل مسافت طے کی ہے۔ لیکن ابھی غربت، ناخواندگی، اور صحت کے چیلینجز حل نہیں ہوئے ہیں ۔ ’کئی طبقوں کے لوگ محروم ہیں ، کسانوں کو مشقت کے باوجود اپنی زمین سے کمائی نہیں ہو رہی ہے۔‘ انھون نے کہا کہ سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ ترقی کے عمل میں معاشرے کا کوئی طبقہ پیچھے نہ چھوٹ جائے۔ اخبارات میں یہ قیاس آرائی کی جا رہی تھی کہ وزیر اعظم کی تقریر مختصر ہو گی اور وہ دہشت گردی کے سلسلے میں پاکستان اور بنگلہ دیش کو براہ راست مورد الزام ٹھہرائیں گے۔ لیکن انھوں نے اس کے برعکس ترقی اور خوشحالی کے پہلوکو اپنے خطاب کا محور بنایا اور الزام تراشی سے گریز کرتے ہوئے پاکستان کے کے ساتھ معطل مزاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے فضا ہموار کی ہے۔ | اسی بارے میں مذاکرات: آئین نہ ماننے والوں سے21 May, 2006 | انڈیا ’حریت کی شرکت کا امکان ففٹی ففٹی‘16 May, 2006 | انڈیا بھارت کو بھی خطرہ ہے: امریکہ 11 August, 2006 | انڈیا سخت سکیورٹی، نارائنن کا خط اور بھکاریوں کی چھٹی13 August, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||