شکیل اختر بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دِلّی |  |
 | | | دلی میں داخلے کے تمام راستوں پر پہلے ہی نگرانی سخت ہے |
غیر معمولی حفاظتی انتظامات ہندوستان میں پچھلے کچھ برسوں سے یومِ جمہوریہ اور یوم آزادی کی تقریبات سے قبل اہم مقامات پر حفاظتی انتظامات سخت کیئے جاتے رہے ہیں لیکن اس بار سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیئے گئے ہیں۔گزشتہ دنوں قومی سلامتی کے مشیر ایم کے نارائنن نے خفیہ اداروں کی اطلاعات کی بنیاد پر حکومت کو بتایا کہ بعض شدت پسند تنظیمیں ملک کی جوہری تنصیبات پر حملے کا منصوبہ بنا رہی ہیں۔ کلپاکم اور بھابھا اٹامک ریسرچ سنٹر سمیت ملک کی کئی اہم تنصیبات کی حفاظت کی ذمہ داری کمانڈوز کے سپرد کر دی گئی ہے۔ صرف یہی نہیں دلی اور ممبئی جیسے شہروں میں پینے کے پانی کے ’ٹریٹمنٹ پلانٹس‘ پر بھی گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔ اطلاعات ہیں کہ خفیہ ادارے مشتبہ افراد کی ٹیلی فون کالز اور انٹرنیٹ پیغامات پر بھی نظر رکھے ہوئےہیں۔ یہ اقدامات بظاہر کسی واضح معلومات کے بعد ہی کیئے جا رہے ہیں۔ مسٹر نارائنن نے حال میں تمام ریاستوں کو بھیجے گئے ایک پیغام میں شدت پسندوں کے منصوبوں کے بارے میں خبردار کیا تھا۔ امریکہ، آسٹریلیا اور برطانیہ نے بھی ہندوستان میں اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کی ہے۔ امریکہ ، برطانیہ اور اسرائیل کے سفارتخانوں اور ثقافتی مراکز پر پہرے بڑھا دیئے گئے ہیں جبکہ لال قلعہ، انڈیا گیٹ، پارلیمنٹ، دلی کے دونوں ہوائی اڈوں، تمام ریلوے سٹیشنوں اور دلی میں داخلے کے تمام راستوں پر پہلے ہی نگرانی سخت ہے۔ سابق صدر کے خط کا راز
 | | | نارائنن نے واجپئی کو گجرات میں فوج بھیجنے کا مشورہ دیا تھا | ملک کے سابق صدر آنجہانی کے آر نارائنن نے فروری اور مارچ دو ہزار دو میں گجرات کے فسادات کے دوران اس وقت کے وزیرِاعظم اٹل بہاری واجپئی کو کئی خط لکھے تھے جس میں انہوں نے انہیں فسادات پر قابو پانے کے لیئے فوج تعینات کرنے کا مشورہ دیا تھا۔ مسٹر نارائنن نے صدارت کا عہدہ ختم ہونے کے بعد ایک انٹرویو میں اس بات پر افسوس ظاہر کیا تھا کہ ان کے مشورے کو نہیں مانا گیا اور سینکڑوں لوگ مارے جاتے رہے۔ فسادات کی تحقیقات کرنے والے ناناوتی کمیشن نے پہلے واجپئی حکومت اور اب موجودہ کانگریس حکومت سے یہ درخواست کی تھی کہ یہ خطوط کمیشن کے حوالے کیئے جائیں لیکن دونوں ہی حکومتوں نے یہ خطوط جاری نہیں کیئے۔ تاہم اب قومی اطلاعات کمیشن نے ایک ہندو شہری کی اپیل پر مرکزی حکومت کو ہدایت کی ہے کہ وہ یہ خطوط کمیشن کے سامنے پیش کرے۔ کمیشن ان خطوط کا مطالعہ کرنے کےبعد یہ طے کرے گا کہ انہیں عام کیا جا سکتا ہے نہیں۔ انفارمیشن کمیشن نے اس کے لیئے بائیس اگست کی تاریخ مقرر کی ہے۔ اب حکومت یہ خطوط دیتی ہے یا نہیں یہ اسی دن پتہ چل سکے گا۔اکثریت شہری ہو جائے گی
 | | | شہری آبادی کے اعتبار سے تمل ناڈو اس وقت اول ہے | آئندہ بیس برسوں میں ہندوستان کی اکثریت شہروں میں رہے گی۔ ملک کے رجسٹرار جنرل اور مردم شماری کمشنر کی ایک رپورٹ کے مطابق سنہ دو ہزار چھبیس تک تمل ناڈو، مہاراشٹر، گجرات اور پنجاب کی تقریباً تین چوتھائی آبادی شہری علاقوں میں رہ رہی ہوگی۔ شہری آبادی کے اعتبار سے تمل ناڈو اس وقت اول ہے۔ کرناٹک اور ہریانہ بھی شہر بسانے کے عمل میں تیزی سے آگے آ رہے ہیں لیکن اترانچل جیسی نئی ریاست آنے والے دنوں میں آندھرا پردیش ،مغربی بنگال اور کیرالہ سے بھی زیادہ شہری علاقوں پر مشتمل ہوگی۔ اس سلسلے میں ریاست بہار کی حالت بہت بری بتائی گئی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق سنہ دو ہزار سولہ تک بہار کی صرف بارہ فیصد آبادی شہروں اور قصبوں میں رہے گی۔موت کی وادی میں زندگی کے آثار؟
 | | | سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکتوں کی تعداد میں بھی زبردست کمی آئی ہے | شورش زدہ جموں و کشمیر میں روزانہ ہی تشدد کے واقعات رونما ہوتے ہیں لیکن اب وہاں اموات اور تشدد کے واقعات میں بتدریج کمی آ رہی ہے۔ گزشتہ دنوں وزیرِاعلی کی طرف سے پیش کردہ اعداد و شمار کے مطابق شدت پسندی کے عروج کے زمانے میں 1990 سے 1996 تک 7727 شہری مارے گئے تھے، 1997 سے 2002 کے دوران یہ تعداد کم ہو کر 6024 پر آئی جبکہ 2003 سے 2006 تک ہلاکتوں کی تعداد مزید کم ہو کر 2395 رہ گئی۔ اس سال اب تک صرف 270 شہری ہلاک ہوئے ہیں۔ مسٹر آزاد کے مطابق سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکتوں کی تعداد میں بھی زبردست کمی آئی ہے ۔ان کے دعوے کے مطابق حراستی اموات بھی جو بقول ان کے 96۔1990 میں 229 تھیں 06۔2002 میں گھٹ کر 27 رہ گئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق 1990 سے 1996 تک ریاست میں 34890 بم دھماکے ہوئے 1997 سے اس میں کمی آنی شروع ہوئی اور 2002 تک یہ گھٹ کر 21115 رہ گئے اور 2002 سے 2005 کے درمیان 8957 بم دھماکے ہوئے۔ غلام نبی آزاد کا کہنا تھا کہ ’میں یہ نہیں کہتا کہ حالات معمول پر آگئے ہیں لیکن حالات معمول پر آنے کے آثار ضرور نظر آرہے ہیں‘۔بھکاریوں کے لیے جگہ نہیں
 | | | ’گیمز کے دوران دلی میں ایک بھی بھکاری نظر نہیں آنا چاہیئے‘ | دلی سنہ دو ہزار دس کے دولت مشترکہ کھیلوں کا میزبان ہے۔ اس سلسلے میں گزشتہ دنوں کامن ویلتھ گیمز فیڈریشن، انڈین اولمپک ایسوسی ایشن ، کھیلوں کی وزارت اور ٹریڈ چیمبرز کے نمائندوں کا ایک اجلاس ہوا۔ اس اجلاس میں گیمز کی تیاریوں کی جو فہرست بنائی گئی ہے اس میں دلی کی حکومت سے کہا گیا ہے کہ گیمز سے پہلے دلی کی سڑکوں سے تمام بھکاریوں کو ہٹانا ہوگا۔ منصوبے کے مطابق گیمز کے دوران دلی میں ایک بھی بھکاری نظر نہیں آنا چاہیئے اور یہی نہیں شہر سے تمام آوارہ کتوں ، ہزاروں گایوں، بھینسوں اور دوسرے جانوروں کو منتقل کرنا ہوگا۔ شہری ترقی کی وزارت کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ ہزاروں بھکاریوں کو سڑک پر آنے سے کیسے روکا جا سکے گا اس کے بارے میں ابھی کچھ نہیں معلوم جبکہ آوارہ جانوروں کا الگ مسئلہ ہے۔ لیکن گیمز کی تیاری کرنے والوں کا کہنا ہے کہ یہ دلی کے وقار کا معاملہ ہے۔ | |  |