میڈیا ٹرائل، دولہا بازار، ہوم ورک ڈلیوری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ممبئی دھماکے اور میڈیا ٹرائل بھارت میں نجی ٹی وی چینلوں کی بھرمار ہے اور ان سب میں کچھ نیا اور تیز کرنے کا مقابلہ رہتا ہے۔اس دوڑ اور تیزی میں وہ خبروں کو سنسنی خيز اور اشتعال انگيز بنا کر پیش کرتے ہیں۔ بھارت کے صنعتی شہر ممبئی کے بم دھماکوں کی خبر دنیا کے تقریباً سبھی اخباروں کی سرخی تھی لیکن دھماکوں کے چندگھنٹے بعد ہی بھارتی نجی ٹیلی ویژن چینلز نے یہ خبر عام کر دی تھی کہ اس میں’پاکستان بیسڈ‘ لشکرِ طیبہ کا ہاتھ ہے۔ اسے ثابت کرنے کے لیئے گرافکس کی مدد سے یہ بھی بتایا گيا کہ حملوں کی تیاری کیسے کی گئی تھی، ان کے ممکنہ راستے کیا تھے اور ان کے اڈّے کہاں کہاں ہیں لیکن جب حکومت نے دوسرے روز یہ کہا کہ اسے کوئي پختہ ثبوت نہیں ملے ہیں تو دوسری کہانی تیار کی گئی۔ اب یہ خبرعام کردی گئی کہ ان دھماکوں میں’سیمی‘ یعنی سٹوڈنٹس اسلامک موومنٹ آف انڈیا کا ہاتھ ہے اور اس نے لشکر کو’لاجسٹکل سپورٹ‘ مہیا کی۔ ایک ’سٹوری‘ میں دکھایا گیا کہ کیسے چار لوگوں نے چھ ماہ کی سخت محنت کے بعد بم تیار کیئے اور کس طرح دھماکے سے محض تیس منٹ پہلے انہیں آپریشنل بنایا گیا۔ تاہم تفتیش کرنے والی ایجنسیوں نے پھر کہا کہ ان کے ہاتھ کوئی ٹھوس ثبوت نہیں لگا ہے۔ بعض چینلز نے خبریں نشر کیں کہ ان دھماکوں کی سازش بنگلہ دیش یا کٹھمنڈو میں تیار کی گئی۔ بعض نے اس کے ’لنک‘ افغانستان میں بتائے تو کچھ نے ایران میں، ایک چینل نے تو یہ بھی کہا کہ دھماکوں کے سلسلے میں بھارت کا انسدادِ دہشت گردی سکواڈ لندن جانے والا ہے۔ پولیس اور تفتیشی ایجنسیوں نے اگرچہ کسی مشتبہ شخص کا خاکہ تک جاری نہیں کیا لیکن ٹی وی پر بعض تصویریں ان سرخیوں کے ساتھ نشر کی جا رہی ہیں کہ دھماکے میں ملوث لوگ یہ ہیں۔ میڈیا میں ان دھماکوں کی وجوہات بھی بتانے کی کوشش کی گئیں ۔ بعض نے اسے گجرات کے فسادات کا بدلہ لینے کی سازش بتایا تو بعض کے نزدیک اس کے تانے بانے کشمیر سے جڑتے ہیں اور بعض نے اسے پاکستان کی سازش قرار دیا۔ جتنے ٹی وی چینل اتنی باتیں۔ ہاں ایک بات میں پورا میڈیا مشترک اور متحد ہے کہ ان دھماکوں کے پیچھے کسی نہ کسی مسلم تنظیم کا ہی ہاتھ ہے۔ عورت پر عصمت دری کا مقدمہ نہیں
ریاست مدھیہ پردیش میں عصمت دری کی شکار ایک خاتون نے عدالت میں مقدمہ دائر کیا تھا کہ ایک شخص نےاپنی بیوی کی موجودگی میں اس سے زنا بالجبر کیا تھا اس لیئے اس کی بیوی پر بھی مقدمہ چلنا چاہئیے۔ ریاستی ہائیکورٹ نے اس خاتون کے خلاف فرد جرم عائد کرنے کی ہدایات بھی دی تھیں لیکن ملزم نے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ قانونی طور پر عصمت دری کا مجرم ایک مرد ہوسکتا ہے اس لیئے عورت پر مقدمہ چلانے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ دولہا بکتا ہے
ریاست بہار کے مدھوبنی ضلع میں ہر برس’سورتھ‘ نامی میلہ لگتا ہے جہاں دلہن کے ماں باپ دولہا خریدنے کے لیئے بولی لگاتے ہیں۔ اس میلے میں دولہے کے گھر والے جہیز کی ایک من پسند فہرست تیار کرتے ہیں اور جس لڑکی کے ماں باپ وہ سامان دینے کے لیئے راضی ہوں وہ اس دولہے سے اپنی لڑکی کی شادی کر سکتے ہیں۔ مدھوبنی میں اس میلے کا انعقاد برسوں سے ہو رہا ہے۔ وہاں کے لوگ لڑکی والوں سے نقد پیسہ لینا برا سمجھتے ہیں اس لیئے جہیز کے طور پر سامان لیتے ہیں۔ اس میلے میں دولہوں کو اچھی طرح سے تیار کر کے لایا جاتا ہے اور اگر رشتہ پکّا ہو جائے تو وہیں منگنی کی رسم ادا ہو جاتی ہے۔ ہوم ورک کی ہوم ڈلیوری
دلی سے متصل گڑگاؤں کی ایک خاتون نے ایک نیا کاروبار شروع کیا ہے جس میں وہ بچوں کو ملنے والا ’ہوم ورک‘ مکمل کر کے ان کے گھر تک پہنچائیں گی۔اس نئی اسکیم کے تحت ایک کلاس کا ہو م ورک کرنے کی فیس تین سو پچاس روپے ہے اور ہوم ورک تین گھنٹے کے اندر گھر پہنچ جاتا ہے۔ فٹبال ورلڈ کپ کے دوران بھی ان خاتون نےہوم ورک کی مدد سے کافی پیسے کمائے ہیں۔ یہ ہوم ورک وہ خود نہیں بلکہ ان کا بیٹا کرتا ہے۔ اس سکیم کے تحت یہ گارنٹی بھی دی گئی ہے کہ بچہ کم از کم بی گریڈ سے ضرور پاس ہو جائےگا۔ یعنی پڑھائی لکھائی کا کام کوئی اور بھی کرے تب بھی کم سے کم بی گریڈ کے نمبر حاصل کیئے جا سکتے ہیں۔ |
اسی بارے میں دلی ڈائری: قونصل خانے میں تاخیر12 March, 2006 | انڈیا دلی ڈائری: کشمیر میں جسم فروشی قانونی 14 May, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||