BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 03 June, 2006, 23:41 GMT 04:41 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پتھر کے لنگور، مون سون، لڑکی ہونے کا فائدہ!

چاول کی فصل
مون سون سے زراعت پر اچھا اثر پڑے گا
ہندوستان کے لیئے بہتر خبر ہے۔ اس بار مون سون وقت سے پہلے آیا اور توقع کی جا رہی ہے کہ یہ بہتر رہےگا۔ مون سون بہتر ہونے سے زرعی پیداوار بہتر ہوتی ہے جس سے صرف زراعت کے شعبے میں ہی نہیں مجموعی معشیت کو فائدہ پہنچتا ہے۔ اس سے بڑی خبر یہ ہے کہ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں معیشت پہلی بار نو اعشاریہ تین فی صد کی رفتار سے ترقی کر رہی ہے۔ سنٹرل اسٹیٹسٹکل آرگنائزیشن نے بتایا ہے کہ ملک کی معشیت اب بڑھ کر 700 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ ہندوستان کی معیشت اس وقت دنیا کی تیز رفتار معیشتوں میں شمار کی جاتی ہے۔

فنا کے مخالفین کو دھچکا

’فنا‘ ایک سپر ہٹ فلم ثابت ہوئی ہے
فلم ’فنا‘ گجرات میں بھلے ہی نہ دکھائی گئی ہو اور اس سے کروڑوں کا نقصان بھی ہوا ہو لیکن باقی ملک میں عامر خان اور کاجول کی یہ فلم باکس آفس پر تاریخ رقم کر رہی ہے۔ یش راج فلمز کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ فلم نے ابتدائی تین دنوں میں تئیس کروڑ روپے کا کاروبار کیا جو ایک ریکارڈ ہے۔ امریکہ میں بھی ابتدائی طور پر تین کروڑ روپے سے زیادہ کی آمدن بتائی گئی ہے۔ امریکہ اور برطانیہ میں پورے ہفتے کے بزنس کا اندازہ تقریباً نو کروڑ لگایا گیا ہے۔ ظاہر ہے فلم کے پرڈیوسر یش چوپڑہ بہت خوش ہیں لیکن نریندر مودی اور ان کی پارٹی کو گجرات میں فلم پر پابندی لگانے کے باوجود وہ خوشی نہیں ملی جو فلم کی ناکامی سے ملتی۔

درگاہوں کی مصیبت

خواجہ نظام الدین اولیاء کی درگاہ کا بیرونی منظر
دِلی میں حضرت نظام الدین اولیا کی درگاہ واقع ہے۔ لاکھوں عقیدت مند ہر برس یہاں اپنی منتیں اور مرادیں لے کر آتے ہیں۔ یہ عقیدت مند اور مریدین کروڑوں روپے نقدی اور اشیا کی شکل میں درگاہ پر نذر کرتے ہیں۔روایتی طور پران نذرانوں کا حساب کتاب اس عظیم صوفی کے ’ورثا‘ رکھا کرتے تھے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ نذ‎رانوں کی مالیت بڑھتی گئی اور ورثا کی تعداد بھی اور کئی بار حساب کتاب میں خورد برد کے الزامات بھی لگے۔

اب ایک غیر سرکاری تنظیم ’ہم آپ کے‘ نے الزام عائد کیا ہے کہ درگاہ کی کروڑوں روپے کی آمدنی حضرت نظام الدین اولیا کے ’لواحقین‘ اپنے اوپر صرف کر رہے ہیں۔ تنظیم کی طرف سے داخل کی گئی مفاد عامہ کی ایک عذرداری پر دِلی ہائی کورٹ نے ایک سات رکنی کمیٹی بنانے کی منظوری دی ہے جو درگاہ کے تمام نذرانوں اور چڑھاوے کا حساب رکھے گی۔ اس میں وقف بورڈ کے چار ارکان اور تین ’پیر زادگان‘ شامل ہونگے۔ سات سو سال کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہوگا جب اس مشہور صوفی کی درگاہ کے حساب کتاب کی نگرانی عدالت کی مقرر کردہ کوئی کمیٹی کرے گی۔ اس کمیٹی کو اپنی عبوری رپورٹ ایک مہینے کے اندر عدالت میں پیش کرنی ہے۔

پتھر کے لنگور

دلی کے بندر جائیں تو جائیں کہاں
ایوان صدر، وزیر اعظم کا دفتر، وزارت خارجہ، دفاع ، داخلہ اور وزارت خزانہ سلامتی کے نقطۂ نظر سے سب سے زیادہ محفوظ عمارتیں ہیں۔ لیکن آج ان عمارتوں کو شدید خطرہ لاحق ہے پر دیسی بندروں سے۔ دیسی بندروں کے بڑے بڑے غول ان عمارتوں کو اپنا مسکن بنائے ہوئے ہیں۔ انہیں یہاں سے بھگانے کی ساری ترکیبیں ناکام ہو چکی ہیں۔ اب پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ نے اس پورے علاقے میں لنگور کے مجسمے لگانے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ دیسی بندر لنگوروں سے ڈرتے ہیں۔ انہیں ڈرانے کے لیے پی ڈبلیو ڈی نےچھ ہزار روپے فی لنگور کے حساب سے کئی لنگور حاصل کیے تھے۔ ان کی موجودگی میں دیسی بندر اس علاقے میں دور دورتک نظرنہیں آتے تھے۔ لیکن ان لنگوروں کا وقت بھی شام چھ بجے تک ہی تھا۔ ان کے جاتے ہی دیسی بندر ایک بار پھر اس علاقے میں واپس آجاتے ہیں اور پھر ان کی مکمل حکمرانی ہوتی ہے۔ اب نئے منصوبے کی تحت لنگوروں کے کئی طرح کے مجسمے نصب کیے جائیں گے۔ یہ مجسمے بالکل اصل لگیں گے۔ پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ والے اپنے کام سے عوام کو تو بیوقوف بنانے کا خاصہ تجربہ رکھتے ہیں، اب دیکھتے ہیں کہ وہ بندروں کو بیوقوف بنا پاتے ہیں۔

لڑکی ہونے کا فائدہ

فی الوقت دارالحکومت دِلّی میں باروہویں کلاس پاس کرنے کے بعد طلباء کالجوں میں داخلے کی دوڑ لگا رہے ہیں۔ دِلی یونیورسٹی کے کالجوں میں داخلے کے لیے طلباء کی بھیڑ دکھتی ہے۔ لیکن اس سلسلے میں لڑکیوں کے لیئے ایک اچھی خبر ہے۔ دِلّی یونیورسٹی کے زیادہ تر کالجوں نے طالبات کے لیے دو سے پانچ فی صد تک نمبروں کی رعایت کا اعلان کیا ہے۔ یہ قدم مخلوط کالجوں میں لڑکے اور لڑکیوں کی تعداد برابر کرنے کے لیئے اٹھایا گیا ہے۔ دِلّی یونیورسٹی کے آتمارام کالج میں سبھی کورسز میں یہ رعایت دی جاتی ہے۔ لیکن اس برس کئی کالجوں نےاس طرح کی رعایت کا اعلان کیا ہے۔ تو یہ ہے لڑکی ہونے کا ایک اور فائدہ!
مونسوندلی ڈائری
ملا کی سیاست، اظہر کی تڑپ اور مونسون کی آمد
دلی ڈائری
انگریزی داں آٹو ڈرائیور، جسم فروشی قانونی
دلّی ڈائری بجلیدلّی ڈائری
اندھیر دلی،چوٹالہ راجہ اور شادی کا مسئلہ
دلی ڈائری
ممبئی اور بنگلور میں بھی میٹرو ریل
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد