دلی ڈائری: ملا کی سیاست اور مونسون کی آمد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ملا کی سیاست ہندوستان میں اکثر مذہبی رہنما اپنے مذہبی کاموں اور اعمال سے نہیں بلکہ اپنی سیاسی سرگرمیوں سے جانے جاتے ہیں۔ ملک، بالخصوص شمالی ہندوستان، میں جس طرح کی سیاست رہی ہے اس میں مولویوں اور سادھوؤں کے لیئے خاص گنجائش رہی ہے۔ آسام کے حالیہ اسمبلی انتخابات میں بدرالدین اجمل نے مسلمانوں کی ایک نئی جماعت بنائی اور کامیابی بھی حاصل کی اور اب اترپردیش میں انتخابات قریب ہیں۔ دلی کی جامع مسجد کے امام اور شیعہ رہنما مولانا کلب جواد سے لے کر کئی مذہبی تنظیموں اور مزاروں کے متولیوں نے’ پیپلز ڈیموکریٹک فرنٹ‘ نام کا ایک سیاسی محاذ تشکیل دیا ہے۔ یہ محاذ آئندہ اسمبلی انتخابات میں اپنے امیدوار کھڑا کرے گا۔ ان سیاسی مولویوں کا کہنا ہے کہ اگر ریاست میں چھ سات فی صد آبادی کے ساتھ یا دو اقتدار چل سکتے ہیں تو پھرتئیس فی صد مسلمان کیوں پیچھے رہیں؟ اقتدار بری بلا ہے گزشتہ دنوں کافی عرصہ بعد وہ پارلیمنٹ میں بولے۔ مسٹر واجپئی اپنے مخصوص انداز میں بولے لیکن وہ بحث میں حصہ لیتے ہوئے اس بار یہ بھول گئے کہ وہ وزیر اعظم نہیں ہیں بلکہ اپوزیشن کے رکن ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’ کبھی ہم بھی اپوزیشن میں تھے۔ آج آپ اپوزیشن میں ہیں۔‘ یہی نہیں، ان کی تقریر کا لب و لہجہ اورانداز بھی وہی تھا جیسے وہ بحیثیت وزیر اعظم تقریر کر رہے ہوں۔ اظہرالدین کی تڑپ
اظہر نے بتایا کہ ان کے خلاف تمام تفتیش مکمل ہوچکی ہے اور تفتیشی اداروں کو ان کے خلاف کچھ بھی نہیں ملا ہے تو پھر پابندیاں کیوں جاری ہیں؟ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ تاحیات پابندی کے سبب زندگی چلانا مشکل ہوگیا ہے۔ فی الوقت وہ آمدنی کے لیۓ حیدرآباد میں ایک ورزش جم ’ فٹنس بار‘ چلاتے ہیں۔ مونسون کی آمد مونسون سب سے پہلے کیرالہ پہنچتا ہے۔ کیرالہ سے وہ مغربی ساحل سے ہوتے ہوئے شمال کی طرف بڑھتا ہے اورپندرہ جولائی تک یہ پورے ملک میں پھیل جاتا ہے۔محکمہ موسمیات نے اس بار معمول سے کم بارش کی پیش گوئی کی ہے۔ حکومت نے اس سلسلے میں ایک ہنگامی اسکیم بھی تیار کی ہے۔ ملک کے محکمہ موسمیات کی پیش گوئیاں عموما غلط ثابت ہوتی ہے۔ شاید اسی لیئےگزشتہ برسوں سے اس کے لیئے غیر ملکی طریقہ کار استمعال کیا جانے لگا ہے۔ جنگی تیاریاں جوہری بم گرانے کی صلاحیت والے اس میزائل کے تین تجربے کیے جانے ہیں جن میں ایک تجربہ زیادہ سے زیادہ فاصلے پر نشانے پر وار کرنے کا بھی ہے۔ تجربے کا فیصلہ سیاسی سطح پر کیا جانا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب ہندوستان اور امریکہ جوہری توانائی کے ایک معاہدے کی منظوری کے لیۓ کوشاں ہیں اس طرح کا میزائل تجربہ امریکہ میں معاہدے کے مخالفین کو تقویت دے سکتا ہے۔ حکومت اس مرحلے پر اگنی کے تجربے کے بارے میں کافی محتاط ہے اور ابھی کوئی فیصلہ نہیں کر رہی ہے۔ |
اسی بارے میں دلی ڈائری: کشمیر میں جسم فروشی قانونی 14 May, 2006 | انڈیا دلّی دھمال، سپروائزر صدر اور نیند میں طلاق02 April, 2006 | انڈیا کارٹون اور مسلم سیاست19 March, 2006 | انڈیا دلی ڈائری: قونصل خانے میں تاخیر12 March, 2006 | انڈیا بش ریلی، مادھوری، امرسنگھ اور جسیکا26 February, 2006 | انڈیا مصوری، شاہی شادی اور صدر بش کے کھانے 19 February, 2006 | انڈیا حکومت کی خارجی مصیبت 12 February, 2006 | انڈیا ہوائی اڈوں کی نج کاری کا مسئلہ05 February, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||