BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دلّی دھمال، سپروائزر صدر اور نیند میں طلاق

دلّی سنہ دو ہزار دس کے دولتِ مشترکہ کھیلوں کا میزبان ہے
دلّی سنہ دو ہزار دس کے دولتِ مشترکہ کھیلوں کا میزبان ہے
دولتِ مشترکہ کھیلوں کی تیاریاں شروع
ملبورن گیمز کے بعد 2010 کے کامن ویلتھ گیمز کے لیئے دلی میں تیاریاں شروع ہوگئی ہیں۔ دلی ڈویلپمنٹ اتھارٹی دریائے جمنا کے کنارے کامن ویلتھ گیمز ولیج تعمیر کرے گی جہاں پوری دنیا سے آنے والے کھلاڑیوں کو رکھا جائےگا۔ اس سلسلے میں کئی نئے سپورٹس کمپلیکس تعمیر کیئے جا رہے ہیں اور اس کے لیے تقریبا ڈھائی ہزار کروڑ روپے مختص کیئے گئے ہیں۔

ان گیمز کے لیے دارالحکومت دلی کی سڑکوں سے لے کر روشنی تک کے انتظامات کو بین الاقوامی معیار کا بنانے کی کوشش کی جائےگی۔ دلی کی حکومت کا دعوٰی ہے کہ 2010 تک گیمز شروع ہونے سے پہلے دلی شہر ایک بدلا ہوا شہر ہوگا۔ میونسل کارپوریشن سے لے کر ٹرانسپورٹ اور صحت کے محکمے تک ابھی سے پوری طرح سے تیاریوں میں مصروف ہیں۔

صدر کی علم سے رغبت
ہندوستان میں یوں تو سینکڑوں سکالر پی ایچ ڈی کرتے ہیں لیکن اتھاپلی کوریا کوسے جارج کو ان سکالروں میں انوکھا مقام حاصل ہے۔ چنئی کے جارج کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ ان کی پی ایچ ڈی کے سپروائزر انڈیا کے صدر اے پی جے عبدالکلام ہیں۔ جارج کے پاس نہ صرف صدر کا ذاتی موبائل نمبر ہے بلکہ وہ ان چند افراد میں شامل ہے جو ساڑھے دس بجے کے بعد بھی ان سے بات کر سکتے ہیں۔

انڈیا کے صدرِ جمہوریہ اے پی جے عبدالکلام

جارج ذہنی طور پر معذور بچوں کے ذہن میں سمجھ بوجھ کی صلاحیت بڑھانے کے موضوع پر کام کر رہے ہیں۔ پی ایچ ڈی کمیٹی کا کہنا ہے کہ اس مطالعے کے اچھے نتیجے سامنے آئے ہیں۔ کمیٹی کے ایک رکن ڈاکٹر رجو کا کہنا ہے کہ اس موضوع پر صدر کو بہترین معلومات حاصل ہیں۔ صدر عبدالکلام سپروائزر کی ذمہ داری کو بہت سنجیدگی سے ادا کر رہے ہیں۔ سنہ دو ہزار دو میں جب انہیں واجپئی حکومت نے صدر کے عہدے کی پیشکش کی تھی تو ٹیکنالوجی اور سماجی تبدیلی کے موضوع پر مہارت رکھنے والے پرفیسر عبدالکلام نے سب سے پہلے جاننا چاہا تھا کہ کیا وہ صدر بننے کے بعد اپنے طلباء کی رہنمائی کا کام جاری رکھ سکیں گے۔

علیگڑھ میں ایک اور یونیورسٹی
علیگڑھ مسلم یونیورسٹی شمالی انڈیا کے مسلمانوں کی نفسیات اور مسلم ووٹ بینک کی سیاست کا ایک اہم پہلو رہی ہے۔ چند مہینے قبل اس یونیورسٹی کے اقلیتی کردار کو عدالت کے ذریعے غیر آئینی قرار دیے جانے سے طلبہ اور اساتذہ ابھی پوری طرح سنبھل بھی نہیں پائے تھے کہ ملائم سنگھ یادو کی ریاستی حکومت نے ‏علیگڑھ میں ایک اور یونیورسٹی کے قیام کی اجازت دے دی۔

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا ایک منظر

’منگلا یتن‘ نام کی یہ یونیورسٹی نجی شعبے میں قائم کی جائےگی اور اس کی منظوری ریاستی اسمبلی نے گزشتہ دنوں دی ہے۔اس نجی شعبے کی یونیورسٹی کے قیام سے سیاست میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کا شاید وہ کردار باقی نہ رہ پائے جو ابھی تک تھا۔

جامع مسجد کی بہتری کا منصوبہ
دلی ہائی کورٹ نے ایک بار پھر دلی کی تاریخی جامع مسجد کے احاطے اور اس کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کو فوراً منہدم کرنے کا حکم دیا ہے۔گزشتہ کچھ برسوں میں مسجد کے اطراف میں دوکانیں اور کچھ دوسرے ڈھانچے تعمیر کیے گئے تھے۔ عدالت نے سیاست میں میں سرگرم جامع مسجد کے امام کو بھی حکم دیا ہے کہ وہ مسجد کے اندر یا باہر کسی طرح کی کوئی تعمیر نہ کرائیں۔

دلّی کی تاریخی جامع مسجد

مرکزی حکومت اور محکمہ آثار قدیمہ نے اس پورے تاریخی علاقے کی ترقی کے لۓ ایک وسیع منصوبہ تیار کیا ہے لیکن غیرقانونی تعمیرات کی وجہ سے اس پر عمل نہیں ہو پا رہا ہے ۔ اس پلان کے تحت جامع مسجد کے سامنے واقع مجاہد آزادی مولانا ابوالکلام آزاد کی مزار کو بھی گاندھی اور نہرو کی یادگاروں کے طرز پر ایک صاف ستھری یادگار میں تبدیل کیا جانا ہے۔

’غیرقانونی‘ عدالتیں
مرکزی حکومت نے گزشتہ دنوں سپریم کورٹ کو بتایا کہ وہ ملک میں نام نہاد شرعی عدالتوں کے طریقہ‏ءکار اور نوعیت کا جائزہ لے رہی ہے۔ ایک وکیل کی طرف سے دائر کردہ مفاد عامہ کی ایک عذرداری میں کہا گیا ہے کہ ملک کے مختلف علاقوں میں واقع یہ شرعی یا اسلامی عدالتیں ہندوستان کے مسلمہ عدلیاتی نظام اور قانون کے عمل کو چیلنج کر رہی ہیں۔

انڈین سپریم کورٹ کی عمارت

عرضداشت میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ غیر قانونی ادارے متوازی عدالتوں کا رول ادا کر رہے ہیں اس لیئے ان پر پابندی عائد کی جائے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ وہ اس سلسلے میں ضروری معلومات حاصل کر رہی ہے۔

نیند میں طلاق
گزشتہ دنوں مغربی بنگال کے جلپائی گڑی قصبے سے خبر آئی کہ ایک شخص نے نیند میں تین بار طلاق کہا۔ بات شاید یہیں ختم ہوگئی ہوتی لیکن بیوی نے یہ بات اپنی ایک دوست کو بتادی اور وہاں سے رفتہ رفتہ یہ بات پھیلتی گئی۔ مقامی علماء نے فیصلہ سنایا کہ تین بار طلاق کہنے کے بعد طلاق واقع ہو جاتی ہے خواہ وہ نیند میں ہی کیوں نہ دی گئی ہو۔ ان علماءکے مطابق میاں بیوی کو اب الگ ہو جانا چاہیئے۔

علماء کا کہنا ہے کہ ان میاں بیوی کو الگ ہو جانا چاہیے۔

متاثرہ میاں بیوی گیارہ برس سے شادی شدہ ہیں اور انہوں نے مقامی مولویوں کا یہ فیصلہ ماننے سے انکار کر دیا ہے۔ اس خبر کے عام ہوتے ہی کئی علماء نے وضاحت کی ہے کہ طلاق صرف ہوش وحواس میں ہی ممکن ہے اور نیند یا غشی کی حالت میں دی گئی طلاق نہیں مانی جائےگی۔ ابھی یہ نہیں معلوم ہو سکا کہ کون سے دھڑے کی بات مانی گئی ہے۔

دِلّیدِلّی ڈائری
کارٹون اور مسلم سیاست اور لکھ پتی شہر
سونیا گاندھیدلی ڈائری
پاکستانی قونصل خانہ کھولنے کے لیئے جگہ نہیں
دلی ڈائری
ایک لاکھ کی کتاب، گاندھی سمادھی پر کتے
وی پی سنگھ کی مصوریدلی ڈائری
مصوری، شاہی شادی اور صدر بش کے کھانے
ثانیہ مرزادلی ڈائری
ہوائی اڈوں کی جدید کاری اور ثانیہ کا لباس
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد