دلّی دھمال، سپروائزر صدر اور نیند میں طلاق | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دولتِ مشترکہ کھیلوں کی تیاریاں شروع ملبورن گیمز کے بعد 2010 کے کامن ویلتھ گیمز کے لیئے دلی میں تیاریاں شروع ہوگئی ہیں۔ دلی ڈویلپمنٹ اتھارٹی دریائے جمنا کے کنارے کامن ویلتھ گیمز ولیج تعمیر کرے گی جہاں پوری دنیا سے آنے والے کھلاڑیوں کو رکھا جائےگا۔ اس سلسلے میں کئی نئے سپورٹس کمپلیکس تعمیر کیئے جا رہے ہیں اور اس کے لیے تقریبا ڈھائی ہزار کروڑ روپے مختص کیئے گئے ہیں۔ ان گیمز کے لیے دارالحکومت دلی کی سڑکوں سے لے کر روشنی تک کے انتظامات کو بین الاقوامی معیار کا بنانے کی کوشش کی جائےگی۔ دلی کی حکومت کا دعوٰی ہے کہ 2010 تک گیمز شروع ہونے سے پہلے دلی شہر ایک بدلا ہوا شہر ہوگا۔ میونسل کارپوریشن سے لے کر ٹرانسپورٹ اور صحت کے محکمے تک ابھی سے پوری طرح سے تیاریوں میں مصروف ہیں۔ صدر کی علم سے رغبت
جارج ذہنی طور پر معذور بچوں کے ذہن میں سمجھ بوجھ کی صلاحیت بڑھانے کے موضوع پر کام کر رہے ہیں۔ پی ایچ ڈی کمیٹی کا کہنا ہے کہ اس مطالعے کے اچھے نتیجے سامنے آئے ہیں۔ کمیٹی کے ایک رکن ڈاکٹر رجو کا کہنا ہے کہ اس موضوع پر صدر کو بہترین معلومات حاصل ہیں۔ صدر عبدالکلام سپروائزر کی ذمہ داری کو بہت سنجیدگی سے ادا کر رہے ہیں۔ سنہ دو ہزار دو میں جب انہیں واجپئی حکومت نے صدر کے عہدے کی پیشکش کی تھی تو ٹیکنالوجی اور سماجی تبدیلی کے موضوع پر مہارت رکھنے والے پرفیسر عبدالکلام نے سب سے پہلے جاننا چاہا تھا کہ کیا وہ صدر بننے کے بعد اپنے طلباء کی رہنمائی کا کام جاری رکھ سکیں گے۔ علیگڑھ میں ایک اور یونیورسٹی
’منگلا یتن‘ نام کی یہ یونیورسٹی نجی شعبے میں قائم کی جائےگی اور اس کی منظوری ریاستی اسمبلی نے گزشتہ دنوں دی ہے۔اس نجی شعبے کی یونیورسٹی کے قیام سے سیاست میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کا شاید وہ کردار باقی نہ رہ پائے جو ابھی تک تھا۔ جامع مسجد کی بہتری کا منصوبہ
مرکزی حکومت اور محکمہ آثار قدیمہ نے اس پورے تاریخی علاقے کی ترقی کے لۓ ایک وسیع منصوبہ تیار کیا ہے لیکن غیرقانونی تعمیرات کی وجہ سے اس پر عمل نہیں ہو پا رہا ہے ۔ اس پلان کے تحت جامع مسجد کے سامنے واقع مجاہد آزادی مولانا ابوالکلام آزاد کی مزار کو بھی گاندھی اور نہرو کی یادگاروں کے طرز پر ایک صاف ستھری یادگار میں تبدیل کیا جانا ہے۔ ’غیرقانونی‘ عدالتیں
عرضداشت میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ غیر قانونی ادارے متوازی عدالتوں کا رول ادا کر رہے ہیں اس لیئے ان پر پابندی عائد کی جائے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ وہ اس سلسلے میں ضروری معلومات حاصل کر رہی ہے۔ نیند میں طلاق
متاثرہ میاں بیوی گیارہ برس سے شادی شدہ ہیں اور انہوں نے مقامی مولویوں کا یہ فیصلہ ماننے سے انکار کر دیا ہے۔ اس خبر کے عام ہوتے ہی کئی علماء نے وضاحت کی ہے کہ طلاق صرف ہوش وحواس میں ہی ممکن ہے اور نیند یا غشی کی حالت میں دی گئی طلاق نہیں مانی جائےگی۔ ابھی یہ نہیں معلوم ہو سکا کہ کون سے دھڑے کی بات مانی گئی ہے۔ |
اسی بارے میں میلبورن میں سیف اور رانی کا بھنگڑہ26 March, 2006 | فن فنکار مسجد کی مرمت، سعودی پیشکش04 January, 2006 | انڈیا کیرالہ کی مسلم رقاصہ ملاّؤں کو قبول نہیں10 March, 2006 | انڈیا علیگڑھ: حکومت بھی عدالت میں06 November, 2005 | انڈیا علیگڑھ: مسلمانوں کا کوٹہ نہیں05 October, 2005 | انڈیا بھارتی مسلمان: ماڈل نکاح نامہ 01 May, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||