BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کیرالہ کی مسلم رقاصہ ملاّؤں کو قبول نہیں

ربیعہ
ربیعہ پچاس سے زیادہ مندروں میں اپنے فن کا مظاہر کر چکی ہیں۔
انڈیا کی جنوبی ریاست کیرالہ کے ایک مسلمان خاندان کا کہنا ہے کہ مقامی مسجد کمیٹی نے ان سے اس بناء پر قطع تعلق کر لیا ہے کہ ان کی بیٹی بھارتی کلاسیکی رقص سیکھ رہی ہے۔

ربیعہ کے خاندان والوں کا کہنا ہے کہ کلاسیکی رقص میں ہندو پوجا شامل ہونے کی وجہ سے قدامت پسند مذہبی طبقوں اور ان کے تعلقات میں کھنچاؤ پیدا ہوا ہے۔

ربیعہ کے والد کا کہنا ہے کہ اگر آپ مقامی مسجد کمیٹی کے ممبر نہیں تو نہ قاضی آپ کے بچّوں کا نکاح پڑھائے گا اور ممکن ہے کہ آپ کو مقامی قبرستان میں قبر کے لیئے جگہ بھی نہ ملے‘۔

سولہ سالہ وی پی ربیعہ نے حال ہی میں کیرالہ سکول فیسٹیول میں بھرت ناٹیم، کیرالہ ناٹنم اور فوک رقص کے مقابلوں میں اول پوزیشن حاصل کی تھی۔ یہ ربیعہ کےحاصل کردہ ستائیس پوائنٹس ہی تھے جن کی بدولت ان کے آبائی ضلع نے پانچویں پوزیشن حاصل کی۔ ربیعہ اس کے علاوہ مسلم اکثریتی ملاپ پورم علاقے میں ہونے والا ایک مقابلۂ رقص بھی جیت چکی ہیں۔

ربیعہ اپنے والدین کے ہمراہ

ربیعہ کے والد سید علویکتی کے مطابق اب ربیعہ کو انڈیا کی مشہور رقاصہ مرینالنی سارہ بھائی کی ڈانس اکیڈمی’درپنا‘ کی جانب سے رقص سیکھانے کی پیشکش ہو چکی ہے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ ان کے آبائی علاقے ولوومبرم کی مقامی مسجد کمیٹی ربیعہ کی ان کامیابیوں سے قطعاً متاثر نہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’ اگر اس نے روایتی مسلم آرٹ ’اپانا‘ یا ’مپیلاپتو‘ میں انعامات جیتے ہوتے تو اب تک اس کے پاس تحائف کا ڈھیر لگ چکا ہوتا۔ مّلا رہنما کبھی نہیں مانیں گے کہ یہ میری بیٹی کا رقص ہے جس کی وجہ سے انہوں نے ہم سے قطع تعلق کر لیا ہے‘۔

ربیعہ نے تین سال کی عمر سے موسیقی اور رقص کی تعلیم حاصل کرنا شروع کی تھی۔ اس وقت وہ آئندہ ماہ ہونے والے امتحانات کی تیاری میں مصروف ہیں لیکن پھر بھی مقامی مندروں کے سٹیج پر پرفارمنس کے لیے وقت نکال لیتی ہیں۔

یہ سٹیج پرفارمنس ان کی مجبوری بھی ہیں کیوکہ ان سے حاصل ہونے والے رقم کی مدد سے ان کےگھر کا خرچہ پورا کرنے میں مدد ملتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’میری فیس ایک ہزار سے تین ہزار روپے تک ہے اور میں اب تک پچاس سے زیادہ مندروں میں اپنے فن کا مظاہرہ کر چکی ہوں۔‘

ربیعہ این سی سی کی تربیت بھی حاصل کر چکی ہیں

ربیعہ نے رقص کی تعلیم آر ایل وی آنند اور بھرتانجلی سسی سے حاصل کی ہے۔ آر آنند کا کہنا ہے کہ ’ مجھے یقین ہے کہ وہ ہمارے لیے انعامات جیت کر لائے گی اور ہمیں صرف یہی چاہیے۔‘

ربیعہ اپنے سکول میں بھی بہت مقبول ہیں۔ ان کہنا ہے کہ’ اللہ ایک ہے۔ جب میں ہاتھ اٹھا کر دعا کرتی ہوں تو میں صرف ہندو دیوتاؤں سے نہیں بلکہ کائنات کے اس مالک سے دعا کرتی ہوں جسے ہم سب مختلف ناموں سے پکارتے ہیں‘۔

ربیعہ کے ایک استاد کے پی رائے ماتھ کا کہنا ہے کہ بھرت ناٹیم رقص میں کچھ بھی غیر اسلامی نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ’ اگر وہ میری اپنی بیٹی بھی ہوتی تب بھی اس کے لیئے میں وہی کرتا جو اب کر رہا ہوں‘۔

ربیعہ کی ایک اور استاد سی پی شینا کہتی ہیں کہ وہ اپنے ہم جماعتوں اور دوسرے طلباء کے لیے ایک مثال ہیں۔ وہ کلاس میں اوّل آتی ہیں اور نیشنل کیڈٹ کور کا حصہ ہیں۔ ان کی اس کارکردگی کی بدولت انہیں تیس بونس پوائنٹس بھی ملے ہیں جن کی بدولت انہیں سیکنڈری سکول کے بعد کسی پروفیشنل کورس میں داخلے میں مدد مل سکتی ہے۔

لیکن کسی پروفیشنل کورس میں داخلہ لینا ربیعہ کا مقصد نہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’میں بطور کلاسیکل ڈانسر ترقی کرنا چاہتی ہوں۔ میرا مقصد رقص میں تحقیق کرنا اور اس معاشرے میں اپنا کردار ادا کرنا ہے‘۔

ربیعہ نے تین برس کی عمر سے رقص سیکھ رہی ہیں

ربیعہ کی والدہ بھی اپنی بیٹی کو رقص کی تعلیم دلانے پر کہتی ہیں کہ’ہمیں اس کی بہت بڑی قیمت ادا کرنا پڑی ہے۔ میرے کینسر کا علاج بھی ہمارے بہی خواہوں کی مدد سے ہوا ورنہ ان ملاّوں نے تو ہمارے لیے تمام سرکاری امداد کی فراہمی ناممکن بنا دی تھی‘۔

ولوومبرم مسجد کمیٹی کے سیکرٹری محمد عنی حاجی کا کہنا ہے کہ وہ ربیعہ کے رقص کے خلاف نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ ہم اس کے فن کے خلاف نہیں۔ اگر ربیعہ اور ان کا خاندان ہمارے دائرہ کار میں رہائش پذیر ہو جائے تو ہم انہیں قبول کر لیں گے‘۔

مقامی سیاست دان نالاکاتھو کا کہنا ہے کہ مسجد کمیٹی کے اراکین سچ نہیں بول رہے۔ ان کا کہنا ہے کہ’ یہ دائرہ کار والی بات صرف بہانہ ہے۔ ولوومبرم کے علاقے سے باہر کے بھی بہت سے خاندان ہیں جو مسجد کمیٹی کے ممبر ہیں‘۔

سید علویکتی کا کہنا ہے کہ ان کے بہت سے رشتہ دار ایسے ہیں جو ولوومبرم سے باہر رہتے ہیں مگر مسجد کمیٹی کے ممبر ہیں۔ لیکن وہ اس تفریق سے پریشان نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ہو سکتا ہے کہ مسجد کے دروازے ہم پر کبھی نہ کھلیں لیکن بہادروں کے لیئے دنیا بہت بڑی ہے‘۔

اسی بارے میں
یہ ہے ممبئی میری جان!
16 January, 2005 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد