کلاسیکی موسیقی کا بنیادی المیہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مضامین کے اس سلسلے میں ہم جائزہ لے رہے ہیں کہ پاکستان میں اس وقت فنونِ لطیفہ کی عمومی صورتِ حال کیا ہے اور یہاں کے فنکار مستقبل سے کس طرح کی توقعات وابستہ کئے ہوئے ہیں۔ اس سے پہلے کی دو نشستوں میں ہم نے اُن فنکاروں کے خیالات پیش کئے ہیں جو سمجھتے ہیں کہ پاکستانی معاشرے کی موجودہ صورتِ حال ادب، آرٹ اور کلچر کی ترقی اور فروغ کے لئے ساز گار ہے اور یہاں کے فنکاروں کو اِس کھُلے پن سے پورا فائدہ اٹھانا چاہیے۔ آج ہم رقص اور موسیقی سے تعلق رکھنے والی دو شخصیات سے آپکو مِلوا رہے ہیں۔ بینا جوّاد کی عمر کا بیشتر حصّہ رقص سیکھنے اور سکھانے میں گزرا ہے۔ سن 70 کی دہائی میں جب انھوں نے رقص کی تعلیم لینی شروع کی تو حصولِ فن کے لئے ماحول بڑا ساز گار تھا۔ آرٹس کونسل میں رقص کی کلاسیں ہوتی تھیں جہاں مہاراج کھتک لڑکوں اور لڑکیوں کو طبلے کی تھاپ پر اعضاء کی شاعری سکھاتے تھے۔ ساتھ کے کمرے سے گلوکاری کے طلبہ کی تانیں اُبھرتی تھیں اور دوسری طرف سے بانسری، وائلن یا سارنگی سیکھنے والوں کی دھنیں سنائی دیتی تھیں۔
مہاراج کھتک کبھی فرینچ سینٹر میں اور کبھی گوئٹے انسی ٹیوٹ میں چوری چھُپے رقص کی کلاسیں لیتے رہے لیکن حکومت کی جانب سے مسلسل حوصلہ شکنی بلکہ پکڑ دھکڑ کی دھمکیوں کے بعد یہ سلسلہ بالکل ہی ختم ہو گیا اور پھر مسلسل گیارہ برس تک کلاسیکی رقص اور موسیقی کا منظر گہری تاریکی میں ڈوبا رہا۔ ان گیارہ برسوں کے دوران جو نسل پروان چڑھی وہ اپنے ثقافتی ورثے سے بالکل بے خبر تھی۔ لیکن ثقافتی سرگرمیاں چونکہ مہذب انسان کی جبلّت کا حصّہ بن چکی ہیں اس لئے نئی نسل نے فلمی گانوں، مجروں اور مغربی طرز کے بینڈ کو ہی اپنا ثقافتی سرمایہ سمجھ لیا۔ جنرل ضیاء الحق کا دور ختم ہونے کے بعد جو سیاسی حکومتیں آئیں وہ اپنی کرسی بچانے کی فکر میں ایسی غلطاں رہیں کہ ثقافت جیسے مسئلے پر سوچنے کی انھیں فرصت ہی نہ ملی۔
بینا جوّاد سے ہم نے ضمناً پوچھا کہ جس زمانے میں رقص پر پابندی تھی، انھوں نے گیارہ برس کا وہ طویل عرصہ کیسے گزارا۔ بینا نے ایک گہری مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا کے اُس طویل عرصہ کے دوران میں نے گانا سیکھنے کا فیصلہ کیا اور میری خوش قسمتی دیکھئےکہ مجھے اس مقصد کے لئے دنیا کا بہترین اُستاد میسّر آگیا ۔ اس کے بعد بینا نے اپنے اُستاد کا پس منظر کچھ یوں بیان کیا: ’دلی کے قّوال بچہ گھرانے کی معروف شخصیت حضرت تان رس خان کے پوتے اُستاد سردار خان تقسیمِ ہند کے بعد پاکستان آگئے تھے یہاں اُن کی اولاد نے تو موسیقی کی خاندانی روایت کو آگے بڑھانے میں کوئی دلچسپی ظاہر نہ کی لیکن ناصرالدین نامی، سائنس کا ایک طالب علم حصولِ فن کے لئے خان صاحب کے قدموں میں بیٹھنے لگا۔
اپنے سائنسی پس منظر کے باعث انھوں نے اُساتذہ کی بتائی ہوئی باتوں کا گہرا تجزیہ کیا اور اس نتیجے پر پہنچے کہ ہمارے یہاں کلاسیکی موسیقی کی تعلیم میں صدیوں سے مکھی پہ مکھی ماری جا رہی ہے۔ راگ وّدیا اور اسکی تدریس کے اصولوں کو آج تک کسی شخص نے چیلنج نہیں کیا جبکہ گرو چیلے کا یہ تدریسی نظام اُس دور میں شروع ہوا تھا جب ہارمونیم اور پیانو جیسے ساز معرضِ وجود میں نہیں آئے تھے اور ساری تعلیم گلے کے ذریعے یا تاروں والے ساز کے ذریعے دی جاتی تھی۔ جس میں ایک سُر سے دوسری تک بتدریج پہنچنے کا راستہ موجود ہوتا ہے لیکن پیانو، آرگن یا ہارمونیم پر ہم ایک سُر سے جست لگا کر دوسری پر چلے جاتے ہیں۔ کلاسیکی موسیقی کی تدریس کا بنیادی المیہ آج یہی ہے کہ اسکے اصول تو اُن پُرانے گرنتھوں سے لئے گئے ہیں جو ہارمونیم کی ایجاد سے پہلے لکھے گئے تھے لیکن اُن اصولوں کی عملی مشق ہارمونیم پر کرائی جاتی ہے جبکہ یہ ساز کلاسیکی اصولوں کے عملی مظاہرے کا متحمل ہی نہیں ہو سکتا۔ راگ راگنی کی تقسیم اور زُمرہ بندی میں آج تک کوئی مستند طریقِ کار اسی لئے وضع نہیں ہو سکا۔ لیکن ظاہر ہے کہ میوزک تھیوری میں اِصلاح اور راگوں کی نئے سرے سے زمرہ بندی فردِ واحد کے بس کی بات نہیں ہے۔ اس کے لئے اداروں کی توجہ درکار ہے اور ادارے اُسی وقت توجہ دے سکتے ہیں جب آرٹس کے بارے میں حکومت کی ایک واضح پالیسی موجود ہو۔ پاکستان میں کلاسیکی موسیقی کی صورتِ حال پر دو بزرگ موسیقاروں کے خیالات آپ نے سنے آئندہ نشست میں ہم اس مسئلے پر دو نوجوان موسیقاروں کے خیالات پیش کریں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||