ساقی نے کچھ ملا نہ دیا ہو......؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اس بات سے تو انکار ممکن نہیں ہے کہ موجودہ حکومت نے فنونِ لطیفہ کے بارے میں ایک نسبتاً آزاد پالیسی اپنا لی ہے اور بالعموم آرٹس کی سر پرستی اور حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے۔ بڑے شہروں میں آرٹ گیلریاں سرگرمِ عمل ہیں اور ہر مکتبِ فکر کے مصّوروں کا کام نمائش کے لئے پیش کیا جا رہا ہے۔ ادھر سٹیج پر بھی سینسر کی سختی نرم پڑ چُکی ہے اور ایسے معاشرتی مسائل جن پر کھیل پیش کرنے کی اجازت نہیں ہوا کرتی تھی اب کھُلے بندوں اُن موضوعات پر ڈرامے پیش کئے جا رہے ہیں۔ سرکاری ریڈیو کے ساتھ ساتھ اب پرائیویٹ سیکٹر میں بہت سے ایف ۔ایم سٹیشن چوبیس گھنٹے اپنی نشریات پیش کر رہے ہیں جن میں ٹیلی فون کے ذریعے شرکت کرنے والے سامعین بڑی بے باکی سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہیں۔ اسی طرح بہت سے ٹی وی چینل بھی اپنا کام شروع کر چُکے ہیں اور ابھی مزید چینل اور ایف ایم سٹیشن کھُل رہے ہیں۔ ان تمام حالات کو دیکھتے ہوئے حکومت کا یہ دعویٰ بظاہر درست معلوم ہوتا ہے کہ وہ فن کی پرورش کرنا چاہتی ہے اور فنکار کو ایسی خوشحالی عطا کرنا چاہتی ہے جس میں وہ معاشرتی پابندیوں کا اسیر نہ رہے اور دو وقت کی روٹی کے بارے میں فکر مند رہنے کی بجائے اپنی تخلیقی قوّتوں کو نکھارنے سنوارنے پر اپنی صلاحیتیں صرف کرے۔ حال ہی میں گورنر پنجاب خالد مقبول نے الحمراء آرٹ کونسل کے ایک اجتماع میں جب حکومت کا یہ نقطہ نظر پیش کیا تو میں نے وہاں موجود فنکاروں سے اُن کا ردِعمل دریافت کیا۔
بہر حال جو تھوڑی بہت آزادی میسّر آئی ہے فنکار فی الحال اسی کو غنیمت سمجھ رہے ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے تک یہ ممکن نہیں تھا کہ پاکستان میں کھُلے عام ’بھارت ناٹیم‘ جیسے رقص کی تربیت دی جا سکے لیکن اب فن کی سرپرستی کرنے والے ایک ادارے چترکار نے سری لنکا کی رقّاصہ شکنتلا کالنگا کی خدمات حاصل کی ہیں اور لاہور میں اس رقص کی کلاسوں کا اہتمام کیا ہے۔ شکنتلا نے بتایاکہ پاکستان اُن کے تصوّر سے بہت مختلف نکلا اور مذہبی انتہا پسندی کی بجائے انھوں نے رواداری کا چلن دیکھا۔ شکنتلا کا کہنا ہے کہ پاکستانی نوجوان آرٹ کے شیدائی ہیں اور اُن میں اپنے کلچر اور آرٹ سے واقفیت حاصل کرنے کا شدید جذبہ موجود ہے۔
سمیعہ نے خیال ظاہر کیا کہ ایک ملک کے طور پر مغرب میں پاکستان کا تصوّر خاصا ناقابلِ قبول رہا ہے اور موجودہ حکومت کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ اس تاثر کو مغرب کی نگاہوں میں بہتر کیا جائے چنانچہ ایک طرف طالبان کی گرفتاریوں کے دعوے کئے جا رہے ہیں تو دوسری طرف ادب آرٹ کلچر کی سرپرستی کا ڈھنڈورا پیٹا جا رہا ہے۔ سمیعہ کا خیال ہے کہ سرکاری پالیسی میں تبدیلی اسی وقت کارآمد ہو سکتی ہے جب یہ وقتی مصلحت کے تحت کام کرنے کی بجائے مستقل بنیادوں پر نقطہ نظر کی تبدیلی بن جائے۔ پاکستان کے معروف آرکیٹیکٹ نیّر علی دادا نے اسی موضوع پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ آزادی جب بھی ملے اور جتنی بھی ملے، فنکار کو اسکا خیر مقدم کرنا چاہئیے۔ انھوں نے کہا کہ آج اخبارات کھُل کر ہر موضوع پر اظہارِ خیال کر رہے ہیں اور یہ تب تک ممکن نہیں تھا جب تک حکومت انھیں آزادی نہ دیتی۔ نیّر علی دادا نے کہا کہ اظہارِخیال کی آزادی کا حصول پہلی سیڑھی ہے، اس کے بعد اعلیٰ اور ارفع آرٹ کی تخلیق کا اہم مرحلہ آرہا ہے جس کے لئے پاکستان کے تمام فنکار چشمِ براہ ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||