کسبِ کمال کُن کہ عزیزِ جہاں شوی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اس بات کا ذکر تو اکثر سننے میں آتا ہے کہ افلاطون نے اپنی مثالی ریاست میں سے شاعروں اور فنکاروں کو نکال باہر کیا تھا لیکن بہت کم لوگ اس بات پر توجہ دیتے ہیں کہ افلاطون کے غیظ و غضب کا نشانہ صرف بےکار اور بے عمل قسم کے فنکار تھے جنھیں معاشرے کی فلاح و بہبود میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ افلاطون نے اچھے اور کھرے فنکار کی ہمیشہ قدر کی اور اسے معاشرے کے لیے ایک نعمت قرار دیا۔ افلاطون کو اس دنیا سے رخصت ہوئے ڈھائی ہزار سال ہو چکے ہیں لیکن معاشرے میں فنکار کے مقام کا تعین ابھی تک نہیں ہو سکا۔ کسی بھی ملک پر نگاہ ڈالیے تو معلوم ہو گا کہ سیاست دان اور بیوروکریٹ وہاں کی حکومت چلا رہے ہیں، ماہرینِ معیشیت وہاں کی اقتصادیات کے نگران ہوتے ہیں، انجینئر پُل، سڑکیں، عمارتیں اور نہریں بنارہے ہیں۔ اسی طرح دیگر علوم میں مہارت رکھنے والے لوگ بھی معاشرے کی کوئی نہ کوئی خدمت انجام دیتے نظر آتے ہیں لیکن فنکاروں کے بارے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ لوگ کیا کرتے ہیں؟ معاشرے کو ان سے کیا مِلتا ہے؟ یہی سوال جب ہم نے نیشنل کالج آف آرٹس کی پرنسپل مسز ساجدہ ونڈل سے کیا تو اُن کا جواب تھا کہ سیاست دانوں اور سرکاری افسروں کو دنیا فراموش کر دیتی ہے لیکن فنکار کے کام کو دوام حاصل ہے کیونکہ اچھا فنکار ہمیشہ کسبِ کمال کرنے کی کوشش میں رہتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ جن معاشروں کا بنیادی ڈھانچہ کسی گہری فکری اساس پر اُستوار نہیں ہوتا وہ حالات کے مدوجزر میں تنکوں کی طرح بہہ جاتے ہیں۔ چنانچہ کسی بھی معاشرے کی تعمیر میں فنکار کے بنیادی کام کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ اگر فنکار اتنے ہی اہم ہیں تو کیا پاکستانی معاشرے میں انھیں وہ معزز مقام دیا جا رہا ہے جس کے وہ حق دار ہیں۔ مصّنفہ اور فنکارہ فریال گوہر کا خیال ہے کہ اس ملک میں فن اور فنکار کا مستقبل تاریک ہے۔ فنونِ لطیفہ کے بارے میں فریال گوہر نے کہا کہ اس ملک میں صرف ’لطیفہ‘ باقی رہ گیا ہے فنون غائب ہو گئے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ سب فنکاروں کو کشتیوں میں بھر کے ملک بدر کر دینا چاہیےکیونکہ اس معاشرے کو اُن کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
آئندہ نشست میں ہم چند ایسے ہی اساتذہ سے ملاقات کریں گے اور اُن سے دریافت کریں گے کہ جو فنون تجارتی طور پر خود کفیل نہیں ہیں انھیں معدوم ہونے سے کیسے بچایا جا سکتا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||