BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 04 May, 2005, 01:28 GMT 06:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کسبِ کمال کُن کہ عزیزِ جہاں شوی

News image
لاہور کا نیشنل کالج آف آرٹس جہاں 130 سال سے فنون کی تربیت دی جا رہی ہے
اس بات کا ذکر تو اکثر سننے میں آتا ہے کہ افلاطون نے اپنی مثالی ریاست میں سے شاعروں اور فنکاروں کو نکال باہر کیا تھا لیکن بہت کم لوگ اس بات پر توجہ دیتے ہیں کہ افلاطون کے غیظ و غضب کا نشانہ صرف بےکار اور بے عمل قسم کے فنکار تھے جنھیں معاشرے کی فلاح و بہبود میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ افلاطون نے اچھے اور کھرے فنکار کی ہمیشہ قدر کی اور اسے معاشرے کے لیے ایک نعمت قرار دیا۔

افلاطون کو اس دنیا سے رخصت ہوئے ڈھائی ہزار سال ہو چکے ہیں لیکن معاشرے میں فنکار کے مقام کا تعین ابھی تک نہیں ہو سکا۔

کسی بھی ملک پر نگاہ ڈالیے تو معلوم ہو گا کہ سیاست دان اور بیوروکریٹ وہاں کی حکومت چلا رہے ہیں، ماہرینِ معیشیت وہاں کی اقتصادیات کے نگران ہوتے ہیں، انجینئر پُل، سڑکیں، عمارتیں اور نہریں بنارہے ہیں۔ اسی طرح دیگر علوم میں مہارت رکھنے والے لوگ بھی معاشرے کی کوئی نہ کوئی خدمت انجام دیتے نظر آتے ہیں لیکن فنکاروں کے بارے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ لوگ کیا کرتے ہیں؟ معاشرے کو ان سے کیا مِلتا ہے؟ یہی سوال جب ہم نے نیشنل کالج آف آرٹس کی پرنسپل مسز ساجدہ ونڈل سے کیا تو اُن کا جواب تھا کہ سیاست دانوں اور سرکاری افسروں کو دنیا فراموش کر دیتی ہے لیکن فنکار کے کام کو دوام حاصل ہے کیونکہ اچھا فنکار ہمیشہ کسبِ کمال کرنے کی کوشش میں رہتا ہے۔

News image
اچھے فنکار کا کام ہمیشہ زندہ رہتا ہے: ساجدہ ونڈل
نیشنل کالج آف آرٹس کے صدر دروازے کی پیشانی پر شیخ سعدی کا یہ مصرعہ درج ہے’ کسبِ کمال کُن کہ عزیزِ جہاں شوئی‘۔اور ایک سو تیس برس سے فنون کی تدریس کے اس کالج نے سعدی کے اس مصرعے کو ’ماٹو‘ کے طور پر اپنا لیا ہے۔ فنون کی مختلف جہتوں کے رمز آشنا آرٹ کے نقّاد، ثروت علی کہتے ہیں کہ فنکار کا تعلق معاشرے کی غیر مرئی اقدار سے ہے۔ شاعر، ادیب، مصّور، موسیقار اور فلسفی ہی اس اخلاقی اور جمالیاتی ڈھانچے کے معمار ہوتے ہیں جس پر بعد میں سیاست دان، بیوروکریٹ اور انجینئر معاشرے کی عمارت کھڑی کرتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ جن معاشروں کا بنیادی ڈھانچہ کسی گہری فکری اساس پر اُستوار نہیں ہوتا وہ حالات کے مدوجزر میں تنکوں کی طرح بہہ جاتے ہیں۔ چنانچہ کسی بھی معاشرے کی تعمیر میں فنکار کے بنیادی کام کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔

اگر فنکار اتنے ہی اہم ہیں تو کیا پاکستانی معاشرے میں انھیں وہ معزز مقام دیا جا رہا ہے جس کے وہ حق دار ہیں۔

مصّنفہ اور فنکارہ فریال گوہر کا خیال ہے کہ اس ملک میں فن اور فنکار کا مستقبل تاریک ہے۔ فنونِ لطیفہ کے بارے میں فریال گوہر نے کہا کہ اس ملک میں صرف ’لطیفہ‘ باقی رہ گیا ہے فنون غائب ہو گئے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ سب فنکاروں کو کشتیوں میں بھر کے ملک بدر کر دینا چاہیےکیونکہ اس معاشرے کو اُن کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

News image
’فنونِ لطیفہ میں سے فنون غائب ہو گئے ہیں صرف ’لطیفہ‘ باقی رہ گیا ہے‘
فنون کی ترویج اور اشاعت کے لئے قائم کئے گئے غیر سرکاری ادارے چِتر کار کی ناظمہ عائشہ علی کا خیال ہے کہ اس سلسلے میں مایوس ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ ہوا کا رخ کسی بھی وقت تبدیل ہو سکتا ہے۔ انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ موسیقی، رقص اور مصوّری کے فنون میں ہمارے یہاں جو اساتذہ موجود ہیں اُن کے علم اور تجربے سے پورا استفادہ کرنا چاہیے تاکہ یہ فنون نئی نسل کو منتقل ہو سکیں۔

آئندہ نشست میں ہم چند ایسے ہی اساتذہ سے ملاقات کریں گے اور اُن سے دریافت کریں گے کہ جو فنون تجارتی طور پر خود کفیل نہیں ہیں انھیں معدوم ہونے سے کیسے بچایا جا سکتا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد