کارٹون اور مسلم سیاست | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اس مہینے کے اوائل میں امریکہ کے صدر جارج بش کے ہندوستان کے دورے سے قبل دِلّی سمیت کئی شہروں میں صدر بش کی پالیسیوں اور پیغمبر اسلام کے کارٹون بنائے جانے کے خلاف مظاہرے کیئے گئے تھے۔ ان مظاہروں کا اہتمام بیشتر ایسی مذہبی جماعتوں یا تنظیموں نے کیا تھا جو مذہب کے راستے سیاست میں ہیں۔ مظاہروں میں لوگوں کا احتجاج دیکھ کر یہ تنظیمیں پوری طرح حرکت میں آگئی ہیں۔ جمیعت العلمائے ہند کے رہنما محمود مدنی نے گزشتہ دنوں راجیہ سبھا کی رکنیت کے لیئے کاغذات داخل کیئے۔ دِلی کے مظاہرے کا اہتمام انہوں نے ہی کیا تھا اور جمیعت پر نظر رکھنے والوں کا خیال ہے کہ وہ کارٹون کے خلاف مظاہرہ کم اور طاقت کا مظاہرہ زیادہ تھا۔ محمود مدنی جمیعت کے صدر کے عہدے کے امیدوار تھے۔ وہ صدر تو نہیں بن سکے لیکن جمیعت کے اندر اختلافات کے آثار پیدا ہو گئے ہيں۔ موقع دیکھ کر دلی کی جامع مسجد کے امام احمد بخاری نے بھی ایک ’نمائندہ مسلم پلیٹ فارم‘ بنانے کی کوشش شروع کر دی ہے۔ ملک کی پانچ ریاستوں میں انتخابات ہونے والے ہیں اور ان ریاستوں میں مسلمانوں کی خاصی تعداد ہے۔ مذہبی جماعتوں سے لے کر حکومت تک ہر کوئی اس کا فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔ ڈنمارک کے وزير اعظم کے دورے کو ملتوی کرنا بھی حکومت کی انتخابی حکمت عملی کا ہی حصہ ہے۔
انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (آئی آئی ٹی) کی ہی طرح ہندوستان میں مینجمنٹ کے انسٹی ٹیوٹ مقبول ہیں۔ بنگلور، احمدآباد ، کولکتہ اور لکھنؤ کے ان اداروں سے ایم بی اے کرنے والے طلبہ کو کورس مکمل کرنے سے پہلے ہی دنیا کی اولین کمپنیوں کی طرف سے ملازمت کی پیشکش آجاتی ہے۔ بزنس کے ان اولین تعلمی اداروں میں احمدآباد سر فہرست ہے۔ اور اس بار پیش کی گئی تنخواہوں کا اوسط چوتیس لاکھ روپے سالانہ ہے۔ سب سے زیادہ تنخواہ کی پیشکش ایک غیر ملکی کمپنی نے کی ہے جو 83 لاکھ روپے سالانہ ہے۔ اس طرح بنگلور کے ایک طالب علم کو 86 لاکھ روپے سالانہ تنخواہ کی پیشکش کی گئی ہے۔ ان میں بیشتر طلبہ غیر ملکی کمپنیوں کے لیئے کام کريں گے۔ لیکن رفتہ رفتہ ایسے طلبہ کی تعداد بڑھ رہی ہے جو ملک میں رہ کر کام کرنا چاہتے ہيں۔ جے این یو پیچھے نہيں یونیورسٹی کی اطلاعات کے مطابق آئندہ تعلیمی سال کے لئے مختلف کورسز میں تقریباً ایک ہزار سیٹوں کے لیئے پورے ملک سے ساٹھ ہزار سے زیادہ طلبہ نے درخواستیں دیں ہیں۔ ان میں بیرونی ممالک سے بھی 500 طلبہ شامل ہیں۔ لکھ پتیوں کا شہر شہر کے ایک جائزے کے مطابق ہر دس ہزار خاندان میں سات سو گھروں کی سالانہ اوسط آمدنی 50 لاکھ روپے سے زيادہ ہے۔ جائزے سے پتہ چلا ہے کہ چندی گڑھ کی اس غیر معمولی خوشحالی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ خاصی تعداد میں امیر لوگ لدھیانہ ، جالندھر ، ہریانہ اور ہماچل پردیش وغیرہ سے آکر یہاں آباد ہوئے ہيں۔ شہرکی ترقی کے ساتھ ساتھ موہالی اور زیرک پور جیسے علاقوں میں زمینوں کی قیمت میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔ چند برس قبل گجرات میں زلزلہ آنے سے قبل بھوج شہر اس ملک کا سب سے خوشحال شہر کہا جاتا تھا لیکن اب لگتا ہےکہ یہ مقام نہ صرف چندی گڑھ کو مل جائے گا بلکہ شاید یہ شہر لکھ پتیوں کے شہر سے جانا جائے۔ کار چوروں کا شہر دلی اکثر واقعات جنوبی دلی کے مختلف رہائشی علاقوں میں ہوتے ہیں۔ ایک مطالعے کے مطابق بیشتر کاريں برآمد نہیں ہو پاتی ہیں۔ کار چور ان گاڑیوں کے نمبر بدل کر کے ضروری کاغذات کے ساتھ انہیں شمال مشرقی علاقوں میں فروخت کر تے ہیں۔ انتہائی سستے داموں میں ملنے کے سبب چھوٹے چھوٹے شہروں میں لوگ دستاویزی اصلیت بھی چیک نہیں کرتے۔ چوروں کے لیئے کار چوری دلی میں سب سے مقبول آسان کاروبار ہے۔ | اسی بارے میں دلی ڈائری: قونصل خانے میں تاخیر12 March, 2006 | انڈیا حیدرآباداور بنگلور رقابت میں شدت11 March, 2006 | انڈیا دلی ڈائری: ایک لاکھ روپے کی کتاب۔۔۔۔05 March, 2006 | انڈیا دکن ڈائری: بش کا دورہ اور وائیکو کی قلابازی04 March, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||