دلی ڈائری: ایک لاکھ روپے کی کتاب۔۔۔۔ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گاندھی کی سمادھی پر کتّے صدر بش کے محافظ اسکواڈ میں بڑی تعداد میں تربیت یافتہ کتّے بھی شامل ہیں۔ صدر بش دلی میں جہاں جہاں جاتے گئے وہاں صدر کے آنے سے پہلے ان کتّوں کو بم وغیرہ کا پتہ لگانے کے لیے لے جا یا گيا۔ لیکن ان کتّوں کو جب مہاتما گاندھی کی سمادھی پر لے جایا گیا تو پورے ملک میں ناراضگی پھیل گئی۔ ملک کی پارلیمنٹ میں بھی ہنگامہ ہوا۔ یہ پہلا موقع نہیں جب گاندھی کی سمادھی پر بم کا پتہ لگانے والے ان کتّوں کو لایا گیا۔ چند ہفتے قبل فرانس کے صدر ژاک شیراک اور اس سے قبل امریکہ کے سابق صدر بل کلنٹن کی آمد پر بھی یہ عمل دہرایا گیا تھا۔ کئی حلقوں کی جانب سے یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ گاندھی کی سمادھی کے بارے میں ایک واضح پالیسی بنائي جائے تاکہ اس طرح کی ’بےحرمتی‘ نہ ہو۔ وزير اعظم کی پریشانی صدر بش کے دورے کے خلاف ملک کے کئی شہروں میں مسلمانوں نے پر تشدد مظاہرے کیے تھے جن میں کئی افراد مارے بھی گئے۔ مسلمانوں کی ناراضگی کے پیش نظر وزيراعظم منموہن سنگھ جلد ہی مسلم دانشوروں سے ملاقات کريں گے اور انہیں ہندوستان کے امریکہ سے بڑھتے ہوئے تعلقات کے بارے میں بتائيں گے۔ ملک کی پانچ ریاستوں میں انتخابات ہونے والے ہيں اور ان میں مسلمانوں کی خاصی آبادی ہے۔ بعض جماعتیں ایران کے خلاف ووٹ اور بش کے دورے کو حکومت کی مسلم دشمن پالیسی کے طور پر پیش کر رہی ہیں۔ کانگریس کسی طرح کا سیاسی نقصان نہیں اٹھانا چاہتی اور وزیراعظم کی مسلم دانشوروں سے مجوزہ ملاقات اسی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ ایک لاکھ روپے کی کتاب
ریتو بیری صرف ہندوستانی فیشن انڈسٹری ہی میں نہیں بلکہ انٹرنیشنل فیشن انڈسٹری میں بھی ایک جانا مانا نام ہے۔ انہوں نے ہالی ووڈ کی کئی مشہور و معروف ہستیوں کے لباس ڈیزائن کیے ہیں۔ حال ہی میں انہوں نے ہالی ووڈ اداکارہ نیکول کڈمن کے لیے لباس تیار کیے تھے۔ سات کروڑ روپے کی پینٹنگ اس سے قبل ایف این ڈیسوزا کی ’لورز‘ ساڑھے چھ کروڑ روپے میں فروخت ہوئی تھی۔ ایم ایف حسین، اکبر پرمسی، جےسوامی ناتھن ، راجہ روی ورما اور ایم کمار کی بھی کئی تخلیقیں ایک کروڑ روپےسے زیادہ قییمت میں بکی ہیں۔ گودھرا رپورٹ اور ٹاڈا قیدی اس واقعے میں گودھرا کے سو سے زيادہ مسلمان انسداد دہشت گردی قانون کے تحت قید میں ہیں۔ ان میں شہر کی کئی معزز ہستیاں بھی شامل ہیں۔ یہ پہلا موقع نہيں ہے جب پولیس کی ’سازش تھیوری‘ کو غلط بتایا گیا ہے۔ اس سے پہلے ایک غیر سرکاری تحقیقاتی بورڈ نے بھی باہر سے آگ لگانے کے امکان کو مسترد کردیا تھا۔ سچائی جو بھی ہو اس واقعے میں قید کیے گئے لوگوں کے بارے میں کوئی بات نہیں کر رہا ہے۔ بعض مقامی وکلاء انتہائی مشکل حالات میں ان قیدیوں کی پیروی کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر منصفانہ مقدمہ چلےتو سبھی قیدی رہا ہو جائینگے کیوں کہ پولیس کے پاس ایک شخص کے ’اقبالی بیان‘ کے علاوہ اپنے کیس کو ثابت کرنے کے لیے کوئی ثبوت نہیں ہے۔ جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ وہ اپنا کیس ثابت کرے گی۔ |
اسی بارے میں موت کے اسباب جاننے کیلیے سروے15 January, 2006 | انڈیا نیپکن کا تکیہ اور بھارتیوں کیلیے ویاگرا اور بالغ فلمیں 25 December, 2005 | انڈیا وزارتِ خارجہ پریشان، شاکی عوام، بنگالورو، دوگنے ارب پتی 18 December, 2005 | انڈیا اڈوانی کی مشکلات،امیتابھ کا اوپرا11 December, 2005 | انڈیا لالو کی گائیں، نٹور پریشان، اُما کاغُصّہ04 December, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||