حیدرآباداور بنگلور رقابت میں شدت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دکن ڈائری آپ سب کا دکن یعنی جنوبی ہند میں خیر مقدم کرتی ہے۔ دکن کی چار بڑی ریاستوں میں سے دو یعنی کیرالا اور تمل ناڈو آہستہ آہستہ انتخابی بخار کی لپیٹ میں آنے لگی ہیں جبکہ کرناٹک اب تک سیاسی افراتفری سے چھٹکارا نہیں پاسکا ہے اور آندھرا پردیش واحد ریاست ہے جہاں سیاست پر کم اور معیشت و ٹیکنالوجی کی دنیا پر زیادہ توجہ مرکوز ہے۔ کیرالا اور تمل ناڈو کے انتخابی دنگل کا ذکر کچھ دیر میں۔ بات حیدرآباد سے شروع کرتے ہیں۔ امریکہ کے صدر جارج بش کے بعد اب ایشیائی ترقیاتی بینک کے صدر ہاروہیکو کروڈا کی باری تھی کہ وہ حیدر آباد کا رخ کریں۔ اے ڈی بی امریکہ کے زیر اثر ایک ایسا علاقائی مالیاتی ادارہ ہے جو ایشیائی ملکوں اور خاص طور پر ترقی پذیر ملکوں کی اقتصادی و مالیاتی پالیسیوں پر کافی اثر انداز ہوتا رہتا ہے۔ کروڈا کے دورہ حیدرآباد کی اہمیت اس لیے ہےکہ تین سےچھ مئی تک ہونے والے اے ڈی بی کے اہم سالانہ اجلاس کی میزبانی بھی یہی شہر کرنے والا ہے۔ اس اجلاس میں لگ بھگ تیس ایشیائی ملکوں کے وزرائے مالیات اور دوسرے اعلیٰ عہدیداروں سمیت کوئی تین ہزار مندوبین شرکت کرنے والے ہیں۔ اس اجلاس کی تیاری کافی عرصے سے جاری ہے اور اسے دی جانے والی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ خاص طور پر اس کانفرنس کیلۓ بین الاقوامی معیار کا ایک کنونشن سنٹر حیدرآباد میں تعمیر کیا گیا ہے۔ جنوبی ایشیا میں اپنی نوعیت کا یہ سب سے بڑا مرکز ہے جو دبئی کی مشہور تعمیراتی کمپنی ’عمار‘ اور آندھرا پردیش کے اشتراک و تعاون سے تعمیر کیا گیا ہے۔ یہ مرکز اتنا بڑا ہے کہ اس کے مرکزی ہال میں بیک وقت پانچ ہزار افراد بیٹھ سکتے ہیں اس کے علاوہ بین الاقوامی سطح کی کانفرنسوں کیلۓ درکار تمام سہولیات اس میں موجود ہیں۔ اس سے ملحق ایک نیا فائیو اسٹار ہوٹل بھی دبئی کی کمپنی تعمیر کررہی ہے جو کہ اے ڈی بی کی میٹنگ سے پہلے تیار ہوجائے گا لیکن چونکہ کانفرنس کیلۓ تین ہزار مہمان آرہے ہیں اور حیدرآباد کے اسٹار ہوٹلوں میں محض دو ہزار کمرے ہی دستیاب ہیں اس لۓ ریاستی حکومت ہوٹل صنعت کی حوصلہ افزائی کررہی ہے کو وہ جلد سے جلد نئے پراجکٹ شروع کریں۔ لی مریڈین کے بشمول دنیا کے کئی سرکردہ ہوٹل گروپ حیدرآباد میں ہوٹلوں کے قیام کی دوڑ میں شامل ہیں کیونکہ نئے کنونشن سنٹر کی تعمیر کے ساتھ ہی حیدرآباد اس طرح کی بین الاقوامی کانفرنسوں کا بھی ایک بڑا مرکز بن کر ابھرے گا- حیدرآباد کی کشش سرکاری ذرائع کے مطابق ریاستی حکومت اس پراجکٹ کیلۓ دو سو ایکڑ زمین فراہم کرے گی۔ امریکی ادارے کا کہنا ہے کہ اس نے حیدرآباد کو اس لۓ چنا کہ یہاں پر باصلاحیت طلبا اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں بنیادی سہولتوں کی کوئی کمی نہیں ہے۔
آغا خان فاؤنڈیشن کا تعلیمی ’سنٹر آف اکنامکس‘ پہلے ہی سے حیدرآباد میں سو ایکڑ کے علاقے پر بن رہا ہے۔ اس طرح ایسا لگتا ہے کہ اب حیدرآباد ’ایجوکیشن کیپٹل‘ بھی بن کر ابھرنے کی تیاری کررہا ہے۔ رقابت میں شدت انفوسس کے اس پراجکٹ کی اہمیت یہ ہے کہ یہ کمپنی کا سب سے بڑا کیمپس ہوگا۔ بنگلور اور میسور میں اس کے کیمپس حیدرآباد کے مقابلے میں چھوٹے پڑجائیں گے لیکن یہ بات صرف آئی ٹی کے شعبے تک محدود نہیں ہے۔ بائیو ٹیکنالوجی شعبے کی سب سے بڑی کمپنی بائیوکان لمیٹڈ کی سربراہ اور ہندوستان کی سب سے متمول خاتون کرن مزمدار اشا نے بھی بنگلور سے سخت ناراضگی ظاہر کی ہے اور کہا ہے کہ کرناٹک کی غیر مؤثر نوکرشاہی اور تذبذب کا شکار حکمران محاذ بنگلور کی ترقی میں رکاوٹ بن گئے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مستقبل میں ان کی کمپنی کے توسیعی منصوبے کرناٹک میں روبہ عمل نہیں لائے جائیں گے- انہوں نے بنگلور کے زخموں پر نمک چھڑکتے ہوئے یہ بھی کہہ دیا کہ حیدرآباد کسی حد تک بنگلور پر بازی لے جارہا ہے- چاہے وہ انفوسس کے سربراہ نارائن مورتی ہوں یا بائیوکان کی سربراہ کرن مزمدار۔ دونوں کی ناراضگی کی وجہ ایک ہے۔
جنتادل سیکولر کے صدر ایچ ڈی دیوے گوڑا کے بیٹےکماراسوامی بی جے پی کی تائید سے وزیراعلیٰ تو بن گئے لیکن اب تک نہ تو انہیں کرناٹک کے معاملات پر پوری طرح گرفت حاصل ہوسکی ہے اور نہ ہی انہوں نے اب تک صنعت کو یہ اطمینان دلایا ہے کہ وہ بنگلور کے حالات بہترکردینگے۔ تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ آئی ٹی کے شعبے میں بنگلور کی برتری ختم ہوجائیگی؟ نہیں فوری طور پر ایسا کوئی امکان نہیں ہو کیونکہ بنگلور ابھی بھی سافٹ ویئر اور آئی خدمات کی برآمدات میں نمبر ایک ہے۔ یہ برآمدات 2007 میں آٹھ ارب ڈالر سے بھی بڑھ جائینگی جبکہ حیدرآباد اس سے بہت پیچھے تین ارب ڈالر پر ہی ہوگا- تمل ناڈو کا انتخابی دنگل کیرالا بھی پیچھےنہیں بہرحال کیرالا میں ایک بہت ہی سخت لیکن دلچسپ مقابلے کی امید کی جاسکتی ہے- | اسی بارے میں دکن ڈائری: بش کا دورہ اور وائیکو کی قلابازی04 March, 2006 | انڈیا حیدرآباداردوسمینار، کمپیوٹر لِٹریسی 05 February, 2006 | انڈیا پاکستانی اشیاء نے دکن کا دل جیت لیا11 February, 2006 | انڈیا بھارت: 50 ہزار برقعہ پوشوں کا اجتماع12 February, 2006 | انڈیا حیدرآباد دکن میں بش مخالف لہر 01 March, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||