BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 11 March, 2006, 17:28 GMT 22:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حیدرآباداور بنگلور رقابت میں شدت

کیرالا
اے ڈی پی کی سالانہ کانفرنس حیدرآباد کے اس کنونشن سنٹر میں ہو گی۔
دکن ڈائری آپ سب کا دکن یعنی جنوبی ہند میں خیر مقدم کرتی ہے۔ دکن کی چار بڑی ریاستوں میں سے دو یعنی کیرالا اور تمل ناڈو آہستہ آہستہ انتخابی بخار کی لپیٹ میں آنے لگی ہیں جبکہ کرناٹک اب تک سیاسی افراتفری سے چھٹکارا نہیں پاسکا ہے اور آندھرا پردیش واحد ریاست ہے جہاں سیاست پر کم اور معیشت و ٹیکنالوجی کی دنیا پر زیادہ توجہ مرکوز ہے۔

کیرالا اور تمل ناڈو کے انتخابی دنگل کا ذکر کچھ دیر میں۔ بات حیدرآباد سے شروع کرتے ہیں۔

امریکہ کے صدر جارج بش کے بعد اب ایشیائی ترقیاتی بینک کے صدر ہاروہیکو کروڈا کی باری تھی کہ وہ حیدر آباد کا رخ کریں۔

اے ڈی بی امریکہ کے زیر اثر ایک ایسا علاقائی مالیاتی ادارہ ہے جو ایشیائی ملکوں اور خاص طور پر ترقی پذیر ملکوں کی اقتصادی و مالیاتی پالیسیوں پر کافی اثر انداز ہوتا رہتا ہے۔ کروڈا کے دورہ حیدرآباد کی اہمیت اس لیے ہےکہ تین سےچھ مئی تک ہونے والے اے ڈی بی کے اہم سالانہ اجلاس کی میزبانی بھی یہی شہر کرنے والا ہے۔ اس اجلاس میں لگ بھگ تیس ایشیائی ملکوں کے وزرائے مالیات اور دوسرے اعلیٰ عہدیداروں سمیت کوئی تین ہزار مندوبین شرکت کرنے والے ہیں۔

اس اجلاس کی تیاری کافی عرصے سے جاری ہے اور اسے دی جانے والی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ‌خاص طور پر اس کانفرنس کیلۓ بین الاقوامی معیار کا ایک کنونشن سنٹر حیدرآباد میں تعمیر کیا گیا ہے۔ جنوبی ایشیا میں اپنی نوعیت کا یہ سب سے بڑا مرکز ہے جو دبئی کی مشہور تعمیراتی کمپنی ’عمار‘ اور آندھرا پردیش کے اشتراک و تعاون سے تعمیر کیا گیا ہے۔ یہ مرکز اتنا بڑا ہے کہ اس کے مرکزی ہال میں بیک وقت پانچ ہزار افراد بیٹھ سکتے ہیں اس کے علاوہ بین الاقوامی سطح کی کانفرنسوں کیلۓ درکار تمام سہولیات اس میں موجود ہیں۔ اس سے ملحق ایک نیا فائیو اسٹار ہوٹل بھی دبئی کی کمپنی تعمیر کررہی ہے جو کہ اے ڈی بی کی میٹنگ سے پہلے تیار ہوجائے گا لیکن چونکہ کانفرنس کیلۓ تین ہزار مہمان آرہے ہیں اور حیدرآباد کے اسٹار ہوٹلوں میں محض دو ہزار کمرے ہی دستیاب ہیں اس لۓ ریاستی حکومت ہوٹل صنعت کی حوصلہ افزائی کررہی ہے کو وہ جلد سے جلد نئے پراجکٹ شروع کریں۔

لی مریڈین کے بشمول دنیا کے کئی سرکردہ ہوٹل گروپ حیدرآباد میں ہوٹلوں کے قیام کی دوڑ میں شامل ہیں کیونکہ نئے کنونشن سنٹر کی تعمیر کے ساتھ ہی حیدرآباد اس طرح کی بین الاقوامی کانفرنسوں کا بھی ایک بڑا مرکز بن کر ابھرے گا-
ہاروہیکو کروڈا سے پوچھا گیا کہ اے ڈی بی کی میٹنگ کیلۓ حیدرآباد کو کیوں چنا گیا تو انہوں نے کہا کہ ’یہ شہر آئی ٹی اور ہائی ٹیک کا ایک بڑا مرکز ہے اور ہماری کانفرنس کا ایک اہم موضوع ہائی ٹیک بھی ہوگا‘۔ لیکن بین الاقوامی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں آنے والے اتار چڑھاؤ اور انتہائی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی معیشتوں میں توانائی کی مانگ میں اضافہ اس کانفرنس پر چھائے رہنے کی امید ہے۔

حیدرآباد کی کشش
انفارمیشن ٹیکنالوجی اور بائیو ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ اعلیٰ تعلیمی اداروں کیلۓ بھی حیدرآباد کتنا پرکشش ہوگیا ہے اس کا اندازہ اس بات ہوتا ہے کہ حیدرآباد میں کیمپس تعمیر کرنے کے خواہشمند اداروں اور یونیورسٹیوں کی فہرست بھی طویل ہوتی جارہی ہے۔ اس میں نیا نام امریکہ کا باوقار ادارہ جارجیا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی یا ’جارجیا ٹیک‘ ہے جو امریکہ سے باہر اپنا پہلا کیمپس حیدرآباد میں قائم کر رہا ہے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق ریاستی حکومت اس پراجکٹ کیلۓ دو سو ایکڑ ز‏مین فراہم کرے گی۔ امریکی ادارے کا کہنا ہے کہ اس نے حیدرآباد کو اس لۓ چنا کہ یہاں پر باصلاحیت طلبا اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں بنیادی سہولتوں کی کوئی کمی نہیں ہے۔

بنگلور کے ایک گاؤں میں پنچایت کا دفتر
اس سے پہلے ہندوستان کے مشہور برلا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اینڈ سائنس نے بھی حیدرآباد میں اپنا کیپمس قائم کرنے کا اعلان کیا ہے اور اس کا سنگ بنیاد آئندہ مہینے رکھا جائے گا۔ اس کے علاوہ برطانیہ کے ایک مشہور ہندوستانی صنعتی گروپ ’ویدانتا ریسورس‘ نے عالمی معیار کی ایک یونیورسٹی حیدرآباد میں قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کانکنی اور دھاتوں کا کاروبار کرنے والے چار ارب ڈالر کے اس صنعتی گروپ کا کہنا ہے کہ یہ یونیورسٹی عالمی معیار کی ہوگی۔

آغا خان فاؤنڈیشن کا تعلیمی ’سنٹر آف اکنامکس‘ پہلے ہی سے حیدرآباد میں سو ایکڑ کے علاقے پر بن رہا ہے۔ اس طرح ایسا لگتا ہے کہ اب حیدرآباد ’ایجوکیشن کیپٹل‘ بھی بن کر ابھرنے کی تیاری کررہا ہے۔

رقابت میں شدت
یوں تو حیدرآباد اور ہندوستان کی پہلی ’سلیکان ویلی‘ بنگلور کے درمیان رقابت ایک دہائی سے بھی زیادہ پرانی ہوچکی ہے لیکن جیسے بنگلور کے بجائے حیدرآباد آنے والے پراجکٹوں کا سلسلہ دراز ہورہا ہے ویسے ویسے اس رقابت میں بھی شدت پیدا ہورہی ہے۔ گزشتہ مہینے ایک امریکی کمپنی نے کمپیوٹروں کے سلیکان چپس اور مائیکرو پروسسروں کی تیاری کے پراجکٹ ’فیاب سٹی‘ کیلۓ حیدرآباد کو ترجیح دی تھی اس کے بعد سے بنگلور کو لگاتار زک پہنچ رہی ہے۔ بنگلور کی سب سے بڑی آئی ٹی کمپنی انفوسس ٹیکنالوجی اپنا سب سے بڑا کیمپس حیدرآباد میں قائم کرنے کی تیاری میں ہے۔ اس کیلۓ پانچ سو ایکڑ زمین الاٹ کرنے کیلۓ کمپنی اور آندھرا پردیش کے درمیان معاملات آخری مراحل میں ہیں اور عنقریب ایک سمجھوتے پر دستخط ہونے والے ہیں۔

انفوسس کے اس پراجکٹ کی اہمیت یہ ہے کہ یہ کمپنی کا سب سے بڑا کیمپس ہوگا۔ بنگلور اور میسور میں اس کے کیمپس حیدرآباد کے مقابلے میں چھوٹے پڑجائیں گے لیکن یہ بات صرف آئی ٹی کے شعبے تک محدود نہیں ہے۔

بائیو ٹیکنالوجی شعبے کی سب سے بڑی کمپنی بائیوکان لمیٹڈ کی سربراہ اور ہندوستان کی سب سے متمول خاتون کرن مزمدار اشا نے بھی بنگلور سے سخت ناراضگی ظاہر کی ہے اور کہا ہے کہ کرناٹک کی غیر مؤثر نوکرشاہی اور تذبذب کا شکار حکمران محاذ بنگلور کی ترقی میں رکاوٹ بن گئے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مستقبل میں ان کی کمپنی کے توسیعی منصوبے کرناٹک میں روبہ عمل نہیں لائے جائیں گے- انہوں نے بنگلور کے زخموں پر نمک چھڑکتے ہوئے یہ بھی کہہ دیا کہ حیدرآباد کسی حد تک بنگلور پر بازی لے جارہا ہے- چاہے وہ انفوسس کے سربراہ نارائن مورتی ہوں یا بائیوکان کی سربراہ کرن مزمدار۔ دونوں کی ناراضگی کی وجہ ایک ہے۔

کیرالا کا ساحل
کرناٹک میں سیاسی عدم استحکام اور بنگلور میں انفراسٹرکچر اور بنیادی سہولتوں کی خستہ حالت
جنتادل سیکولر کے صدر ایچ ڈی دیوے گوڑا کے بیٹےکماراسوامی بی جے پی کی تائید سے وزیراعلیٰ تو بن گئے لیکن اب تک نہ تو انہیں کرناٹک کے معاملات پر پوری طرح گرفت حاصل ہوسکی ہے اور نہ ہی انہوں نے اب تک صنعت کو یہ اطمینان دلایا ہے کہ وہ بنگلور کے حالات بہترکردینگے۔ تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ آئی ٹی کے شعبے میں بنگلور کی برتری ختم ہوجائیگی؟

نہیں فوری طور پر ایسا کوئی امکان نہیں ہو کیونکہ بنگلور ابھی بھی سافٹ ویئر اور آئی خدمات کی برآمدات میں نمبر ایک ہے۔ یہ برآمدات 2007 میں آٹھ ارب ڈالر سے بھی بڑھ جائینگی جبکہ حیدرآباد اس سے بہت پیچھے تین ارب ڈالر پر ہی ہوگا-

تمل ناڈو کا انتخابی دنگل
مئی کے مہینے میں تمل ناڈو اور کیرالا کی ریاستی اسمبلیوں کے انتخابات ہونے والے ہیں اور وہاں میدان جنگ کا نقشہ آہستہ آہستہ واضح ہونے لگا ہے۔ گزشتہ ہفتے وزیراعلیٰ جیہ للیتا اور ان کے رقیب ایم ڈی ایم کے لیڈر وائیکو کے درمیان غیر متوقع سمجھوتے کے بعد اب اصل اپوزیشن جماعت ڈی یم کے اور کانگریس کے درمیان بھی سمجھوتہ ہوگیا ہے اور کانگریس کو دو سو چونتیس میں سے اڑتالیس سیٹیں ملی ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس میں سے کتنی سیٹیں وہ جیت پاتی ہے۔ ڈی یم کے کے محاذ میں بائیں بازو کی جماعتیں اور دوسری چھوٹی پارٹیاں بھی شامل ہیں لیکن جیہ للیتا انا ڈی یم کے اور ایم ڈی ایم کے کے بیچ سمجھوتے کے دو نتیجے نکلے ہیں۔ ایک تو جیہ للیتا کے خیمے میں حوصلے بلند ہوگئے ہیں اور دوسری طرف سری لنکا کے علیحدگی پسند تمل ٹائیگر بہت خوش ہیں کہ انہیں تمل ناڈو میں دوبارہ دوستانہ ماحول میسر آئے گا کیونکہ وائیکو ان کے دوست ہیں لیکن مبصرین کا کھنا ہے کہ تمل ناڈو کے انتخابات کی اصل اہمیت یہ ہے کہ اگر وہاں جیہ للیتا دوبارہ جیت جاتی ہیں تودِلّی میں کانگریس کی زیر قیادت یو پی اے حکومت کیلۓ ایک بری خبر ہوگی اور اس کے ساتھ ہی ملکی سیاست میں سیاسی جماعتوں کی ایک نئی صف بندی بھی شروع ہوسکتی ہے۔

کیرالا بھی پیچھےنہیں
جنوبی ہند کی خوبصورت اور سرسبز و شاداب ریاست کیرالا کے اسمبلی انتخابات کی دوڑ میں توجہ حکمران کانگریس کے اندرونی خلفشار پر مرکوز ہے۔ سابق وزیراعلیٰ اور ضعیف لیڈر کے کروناکرن نے کچھ مہینے قبل کانگریس چھوڑ دی تھی اور اپنی ایک علیحدہ پارٹی قائم کرلی تھی اور کانگریس کی صدر سونیا گاندھی پر سخت تنقیدیں بھی کی تھیں کیونکہ کانگریس نے کروناکرن اور ان کے ‌خاندان کو نظر انداز کردیا تھا لیکن کروناکرن کی کانگریس میں واپسی کے چرچے زوروں پر ہیں لیکن کانگریس کے ریاستی قائدین اس سے خوش نہیں ہیں کیونکہ وہ کروناکرن کو اپنے لۓ خطرہ سمجھتے ہیں اس لۓ وہ اب کہہ رہے ہیں کہ کروناکرن کو پارٹی میں واپس آنے کیلۓ سونیا گاندھی کی قیادت قبول کرنی ہوگی لیکن دوسری طرف کانگریس پارٹی کو یہ احساس بھی ہے کہ بائیں بازو کے محاذ کے مقابلے میں کامیابی کیلۓ اسے جتنے مددگار ملے کم ہیں۔

بہرحال کیرالا میں ایک بہت ہی سخت لیکن دلچسپ مقابلے کی امید کی جاسکتی ہے-

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد