حیدرآباداردوسمینار، کمپیوٹر لِٹریسی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بی بی سی اردو ڈاٹ کام کی انڈیا آن لائن کیمپین کا دوسرا پروگرام ’اردو اور نیو میڈیا‘ کے عنوان سے آج حیدرآباد کے جوبلی ہال میں منعقد کیا گیا۔ پروگرام کا افتتاح ریاست آندھرا پردیش کے وزیر اعلی ڈاکٹر راج شیکھر ریڈی نے کیا، جبکہ پروگرام کی صدارت آندھرا پردیش ہائی کورٹ کے سابق قائم مقام چیف جسٹس، جسٹس بلال نازکی نے کی۔ حیدرآباد میں بی بی سی کے نامہ نگار عمر فاروق نے پروگرام کی میزبانی کی۔ آندھرا پردیش کے وزیر اطلاعات علی شبیر نے بھی پروگرام میں شمولیت کی۔ پروگرام میں مولانا آزاد اردو یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر پٹھان، رہنمائے دکن کے حسن فرخ، پروفیسر یوسف کمال، ڈیکن کرانیکل کے ایوب خان، روزنامہ سیاست کے مینیجنگ ایڈیٹر ظہرالدین علی خان، روزنامہ اعتماد کے مدیر نسیم عارفی، پروفیسر انور معظم جو اردو کی کمپیوٹرآئیزیشن پر کام کر رہے ہیں اور آئی ٹی ایکسپرٹ رحمت یوسف زئی نے بطور پینلسٹس حصہ لیا۔
’اردو اور نیو میڈیا‘ پر ہونے والے اس مباحثے میں شہر کے سرکردہ دانشور، صحافی اور پروفیسر شامل تھے۔ تیرہ معزز شخصیات پر مشتمل پینل نے نیو میڈیا اور اردو کے حوالے سے بات کی اور موضوع کے کئی پہلووں پر روشنی ڈالی۔
پروگرام شروع ہونے سے پہلے ہی ہال لوگوں سے بھر گیا۔ حاضرین میں بڑی تعداد میں اردو دان، طالب علم شامل تھے۔ ڈاکٹر راج شیکھر ریڈی نے اپنے افتتاحی خطاب میں کہا کہ ان کی حکومت اردو کے فروغ کے لیے پوری کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کی حکومت اردو بولنے والوں میں کمپیوٹر لٹریسی بڑھانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے اور یہ ان کی پالیسیوں کی لِسٹ میں سر فہرست ہے۔ پروفیسر انور معظم نے اپنے خطاب میں کہا کہ اردو کو جدید دور سے جوڑنا نہایت ہی ضروری ہو گیا ہے۔ انہوں نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کی ویب سائٹ پر آپ کی آواز کا خاص طور پر ذکر کرتے ہوا کہا کہ، ’انٹرنیٹ پر موجود نیوز ویب سائٹس صرف خبریں دینے کے حوالے سے ہی اہم نہیں بلکہ وہ لوگوں کو ایک دوسرے سے جوڑتی ہیں اور قریب لاتی ہیں۔‘ رہنمائے دکن کے سینئیر صحافی حسن فرخ نے اپنے خطاب میں اردو ویب سائٹس آئی ٹی ایکسپرٹ پروفیسر رحمت یوسف زئی اس وقت اردو کو ہندی میں اور ہندی کو اردو میں تبدیل کرنے کے لیے سافٹ وئیر پر کام کر رہے ہیں۔ دیگر مقررین نے اردو زبان کی موجودہ صورت حال سے لے کر انٹرنیٹ کے دور میں اردو کو درپیش مسائل پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ کئی مقررین کے خیال میں فونٹ کے حوالے سے اگر انٹرنیٹ پر نستالیق رسم الخط میں پریشانی ہے تو نسخ استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ بعد میں سوال جواب کا ایک سلسلہ بھی ہوا جس کے دوران پروگرام میں حصہ لینے والوں نے بہت دلچسپی کے ساتھ بی بی سی اردو ڈاٹ کام اور انٹرنیٹ کے بارے میں کئی مرتب سوالات پوچھے جن کے جوابات بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے مظہر زیدی نے دیے۔ بی بی سی اردو ڈاٹ کی انڈیا آن لائن کیمپین کا اگلا پروگرام بارہ فروری کو ممبئی میں ہوگا۔ | اسی بارے میں میرا انڈیا: ’میں ریڈیو پر جوکی نہیں ہوں؟‘01 February, 2006 | Blog دلی: ’اردو اور نیو میڈیا‘ سیمینار01 February, 2006 | انڈیا حیدرآباد: انڈیا آن لائن کی تیاری مکمل04 February, 2006 | انڈیا ’بولے تو‘ یہ حیدرآباد ہے04 February, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||