’بولے تو‘ یہ حیدرآباد ہے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
خوبصورت جھیلوں اور پر فضا پہاڑیوں سے گھرا شہر حیدرآباد تہذیب و شائستگی میں ایک مقام رکھتا ہے۔ اس کی روایات بہت شاندار ہیں اور خوشگوار موسم کے سبب ہوا میں ایک اعتدال ہے اور اس سب کی جھلک لوگوں کے مزاج میں دکھتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اردو زبان حیدرآباد میں پیدا ہوئی تھی ، دلی میں پلی بڑھی اور لکھنؤ میں سجی سنوری ہے۔ لیکن بھارت میں اس زبان کی آبیاری صرف حیدرآباد میں ہورہی ہے۔ یہاں کے باشندے اس کی قدر دان ہیں اور اس کی بقا کے لئے ہر ممکن کوشش کررہے ہیں۔ حیدرآباد میں اردو زبان کا ایک خاص لہجہ ہے جو شمالی ہندوستان سے قدرے مختلف ہے مثلاً ’کہنے‘ کی جگہ ’بولنے‘ کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ ’انہو بولے‘ یعنی انہوں نے کہا۔ ’انہو بولے ان کو بولو میں بولا بول کے بولے۔‘ یعنی انہوں نے کہا کہ یہ انہوں نے کہا ہے۔ ایک اور لفظ ’نکو‘ کثرت سے استعمال ہوتا ہے۔ ’نہیں چاہئیے‘ ، مت کیجئیے‘ ، رہنے دیجئیے‘ یعنی کہ تمام منفی جملے اسی ایک لفظ سے اداہوجاتے ہیں۔ حیدرآباد میں لفظ ’بنِداس‘ بہت مقبول ہے اور مختلف معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ یہ لفظ یہاں کی طرز ِ زندی کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ یعنی بہت ساری محنت ، تھوڑا لاابالی پن ، روایات سے وابستگی لیکن پھر بھی سب کچھ چلتا ہے۔ اور ہاں یاد رکھئیے اگر حیدرآباد میں کوئی آپ سے ’پرسوں‘ کہے تو اس مطلب صرف دو دن پہلے کی بات نہیں بلکہ اس سے مراد ماضی قریب ہے۔ چاہے وہ دو ماہ قبل ہو یا صرف دو دن پہلے کی بات۔ حیدرآباد کا یہ دلچسپ لہجہ اور زبان کا خاص انداز باہر سے آنے والے ہر شخص کو نہ صرف بہت دلچسپ محسوس ہوتا ہے بلکہ اس بات کا احساس بھی دلاتا ہے کہ ہندوستان کا یہی وہ شہر ہے جہاں اردو ایک زندہ زبان کے طور پر پنپ رہی ہے۔ | اسی بارے میں حیدرآباد: انڈیا آن لائن کی تیاری مکمل04 February, 2006 | انڈیا حیدرآباد کا فخر04 February, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||