BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 01 February, 2006, 13:14 GMT 18:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
میرا انڈیا: ’میں جوکی نہیں ہوں؟‘

ہما خان
ہما خان
’کیا آپ ایف ایم ریڈیو پر جوکی ہیں؟‘ یہ سوال ہفتے میں نہ صحیح تو پندرہ دن میں تو ایک آدھ بار مجھ سے ضرور پوچھا جاتا ہے۔ میرا قصور صرف اتنا ہے کہ میں ریڈیو جرنلسٹ ہوں۔

ہندوستان میں ان دنوں ریڈیو ایف ایم کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے اور اکثر لوگ ریڈیو صحافی کو ریڈیو جوکی سمجھ بیٹھتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لئے میں ریڈیو صحافت پر اپنی پندرہ منٹ کی تقریر ہمیشہ تیار رکھتی ہوں۔

کچھ تو یہ بھی پوچھنے کی ہمت کر بیٹھتے ہیں کہ کیا غیر ملکی ریڈیو چینلز کو ممبئی میں سنا جا سکتا ہے۔ اب کیا سمجھایا جائے کہ ریڈیو چینلز کو سننے کے لیے ویزے کی نہیں بلکہ تھوڑی سی سمجھ کی ضرورت ہوتی ہے۔ مختصراً یہ کہ جب بات خبروں کی آتی ہے تو شہر کے لوگ ریڈیو کی جگہ ٹی وی کو ترجیح دیتے ہیں اور انہیں ریڈیو کے مختلف چینلز کے بارے میں اتنا معلوم بھی نہیں ہوتا۔

ریڈیو کی اہمیت ایک شہری کی زندگی میں کتنی ہے؟ اس کے جواب میں اتنا کہنا ہی کافی ہوگا کہ آج کل ریڈیو والے موبائل فون کی فروخت میں کافی اضافہ ہوا ہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ سامعین ریڈیو کی خبروں سے اپنے آپ کو کافی دور رکھتے ہیں۔ شہروں میں اخبار، ٹی وی، انٹرنیٹ اور موبائل فون کے ہوتے ہوئے ریڈیو کا استعمال محض فلمی نغموں کو سننے کی حد تک محدود ہوگیا ہے۔ یہی ریڈیو دیہی اور پچھڑے ہوئے علاقوں میں خبریں حاصل کرنے کا واحد اور سستا ذریعہ ہے۔ ہندوستان کے دیہی علاقوں میں بجلی کی شدید قلت نے ریڈیو کو دنیا کی خبریں حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ بنایا۔ گاؤں اور شہر میں ریڈیو کی مقبولیت میں اتنا تضاد اس لیے بھی ہے کہ ریڈیو پچھڑے ہوئے علاقوں کے لوگوں کی ضرورت ہے۔ چار سال قبل میرے لئے یہ بے حد حیرت کی بات تھی کہ میری تیار کی گئی ایک ریڈیو رپورٹ کو اتر پردیش کے ایک چھوٹے سے گاؤں ’اسیا‘ کے لوگوں نے سنا۔

ریڈیو صحافت پر تقریر
 ہندوستان میں ان دنوں ریڈیو ایف ایم کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے اور اکثر لوگ ریڈیو صحافی کو ریڈیو جوکی سمجھ بیٹھتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لئے میں ریڈیو صحافت پر اپنی دن منٹ کی تقریر ہمیشہ تیار رکھتی ہوں۔

اب ممبئی جیسے شہر کی مثال ہی لے لیجئے۔ اگر ہم راہ چلتے نظریں دوڑائیں تو ایسے کئی لوگ دکھائی دیں گے جو کانوں میں ہیڈفون لگائے اپنی بھاگتی دوڑتی زندگی کی ہر صبح کا آغاز ایف ایم ریڈیو پر نغمے سنتے ہوئے کرتے ہیں۔ پچھلے دو تین سالوں میں ریڈیو کی مقبولیت نے اپنے تمام پچھلے ریکارڈ توڑ دیئے ہیں۔ مبصرین کی مانیں تو ریڈیو کی دنیا میں فی الوقت ایک انقلاب آیا ہوا ہے جس نے ہر عام وخاص آدمی کی زندگی کو چھوا ہے۔ مانا کہ شہروں میں لوگ ایف ایم پر نئی پرانی فلموں کے گانے اور بالی وڈ کے ستاروں کی بات چیت سن کر خوش ہیں لیکن مجھے پورا یقین ہے کہ اگر حکومت ایف ایم چینلز کو خبریں نشر کرنے کی اجازت دے دیتی تو عوام اسے یقیناً پسند کرتے۔

ٹی وی کی طرح اگر ریڈیو سے بھی خبریں نشر ہوں تو ایک صحت مند مقابلے کا آغاز ہوگا اور سامعین کو خبروں کے لئے اپنی پسند کے چینل کا انتخاب بھی ملے گا۔ ایف ایم چینلز بھی چاہتے ہیں کہ ریڈیو پر خبریں نشر کرنے کا حق آل انڈیا ریڈیو کے ساتھ انہیں بھی ملے لیکن ایسا کبھی ہوگا؟ آج ممبئی جیسے شہر میں ریڈیو پر خبریں سننے کا چلن اتنا عام نہیں ہے لیکن اب بھی ایک مخصوص طبقے کے لوگ ہیں جو بی بی سی یا وائس آف امریکہ کے ریڈیو پر اردو خبریں سنے بنا نہیں رہ سکتے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ ان کا تناسب اب آٹے میں نمک کے برابر ہے۔


نوجوان نسل اب اردو کو ذریعہِ تعلیم بنانے سے گھبراتی ہے۔ ممبئی میں کئی ایسے نوجوان ہیں جنہوں نے اردو، عربی یا فارسی میں ماسٹرز کی ہے لیکن جب بات روٹی روّی کی آتی ہے تو نتیجہ صفر نکلتا ہے۔ پیشہ ور زندگی میں انگریزی پر عبور نہ ہونے کی وجہ سے عمر کا بیشتر حصہ نوکری ڈھونڈنے میں گزر جاتا ہے۔

یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ اردو جس نے ہندوستان کو ’انقلاب زندہ باد‘ جیسا نعرہ دیا، آج ہندوستان کی کئی ریاستوں میں آخری سانس لے رہی ہے۔ اردو زبان لکھنے اور پڑھنے کی تعداد بتدریج گھٹ رہی ہے۔ اس میں کچھ قصور گلوبلائزیشن کا ہے تو کچھ زبان کے پاسبان بنے بیٹھے دانشوروں کا بھی۔ ایک طرف سرکاری سکولوں میں بچوں کی تعداد کم ہورہی ہے تو دوسری طرف حکومت کو یہ شکایت ہے کہ اردو سکول کے نتائج معیاری اور حوصلہ بخش نہیں ہیں اسلئے ان پر تالا لگا دیا جائے۔


نوٹ: ان دنوں انڈیا میں بی بی سی اردو ڈاٹ کام کی کیمپین ’اردو آن لائن‘ جاری ہے۔ ہما خان ایک ریڈیو صحافی ہیں۔ اگر آپ بھی انڈیا کے حوالے سے کسی موضوع پر اپنے خیالات کا اظہار کرنا چاہیں، آپ بیتی، تصاویر یا رائے بھیجنا چاہیں تو بائیں ہاتھ دیئے گئے ای میل فارم کے ذریعے بھیج سکتے ہیں۔ آپکی آواز میں شائع کی جانے والی تحریریں لکھنے والوں کے اپنے خیالات کی ترجمانی کرتی ہیں اور ان سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد