BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 11 February, 2006, 19:35 GMT 00:35 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستانی اشیاء نے دکن کا دل جیت لیا

ماربل کا آرائشی نمونہ
پاکستانی مصنوعات کی بھارت میں مانگ بڑھ رہی ہے
حیدرآباد دکن کی تاریخی ’کل ہند صنعتی نمائش‘ کا یہ چھسٹواں سال ہے- لیکن اس کی چمک دمک اور کشش اب بھی اپنے شباب پر ہے- اب تک کوئی پندرہ لاکھ حیدرآبادی اس نمائش کی سیر کرچکے ہیں۔

اس میں ملک و بیرون ملک کی دو ہزار سے زیادہ کمپنیوں نے اپنے سٹال لگائے ہیں لیکن اب کی بار اس نمائش میں جو چیز سب کی نگاہوں کامرکز بنی ہوئی ہے وہ ہے ایک وسیع و عریض پاکستانی سٹال جو سرحد پار سے آئی خوبصورت مصنوعات سے بھرا پڑا ہے اور نمائش میں آنے والا ہر شخص اس سٹال کی سمت کھنچا چلا آتا ہے-

اس سے یہ بات ظاہر ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان بڑھتی ہوئی قربت اور ان کے تعلقات میں بڑھتی ہوئی گرمجوشی کے ساتھ ساتھ ہندوستان میں پاکستانی مصنوعات اور ’میڈ اِن پَاکستان‘ کے لیبل سے دلچسپی بھی بڑھتی جارھی ہے- اس نمائش میں پَاکستان کا سٹال دوسرے ڈیڑھ ہزار سے ‏زیادہ سٹالوں اور دوسری دلچسپیوں پر مکمل طور پر چھا گیا ہے-

یہ سٹال لگانے والے کراچی کے تاجر محمد اقبال کا کہنا ہے کہ ’یہاں آنے والوں میں ہر مذہب اور ہر فرقے کے لوگ شامل ہیں اور الحمد لاللہ بے حد و حساب لوگ آئے ہیں اور ہر شخص پیار و محبت کے جذبے کے ساتھ یہاں آتا ہے‘-

محمد اقبال اب ایک جانا پہچانا چہرہ بن گئے ہیں کیونکہ وہ اس وقت سے یہاں آ رہے ہیں جبکھ دونوں پڑوسیوں کی سرحد بند اور تعلقات کشیدہ تھے- وہ گزشتہ چار برسوں سے اس نمائش میں آرہے ہیں لیکن اب کی بار ان کا یہ سٹال اب تک کا سب سے بڑا سٹال ہے اور اس میں ‌خریداروں کی تعداد سب سے زیادہ ہے-

پاکستان میں بننے والی جو اشیاء خریداروں کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں ان میں اونیکس پتھر سے تیار بڑے بڑے گلدان اور دوسری آرائشی اشیاء شامل ہیں- محمد اقبال کا کہنا ہے کھ اونیکس پتھر صرف پاکستان میں ہوتا ہے- اس لیے بھی لوگ اِس میں زیادہ دلچسپی لے رہے ہیں حالانکہ اِس پتھر سے بنی بعض اشیاء کی قیمت ایک لاکھ روپے سے بھی زیادہ ہے-

اس پتھر کے حوالے سے اقبال نے ایک دلچسپ بات بتائی کہ ’یوں تو یہاں آنے والے ہر شخص سے ہمیں دلچسپ ردعمل ملتا ہے لیکن سب سے زیاد ہ جذباتی ردعمل ان خاندانوں کا ہوتا ہے جو تقسیم کے وقت یہاں آگئے تھے- یہ لوگ اونیکس پتھر کی چیزیں خصوصیت سے خریدتے ہیں- اُن کا کہنا ہے کہ یہ پتھر اس دھرتی کا ہے جہاں ہم پیدا ہوئے تھے-

اِس کے علاوہ پشاور کی سینڈلوں اور فرنیچر، بھاولپور کی چپلوں، جناح کیپس اور سندھی ٹوپیوں کی بھی زبردست مانگ ہے- لیکن حیدرآبادی خواتین خصوصیت سے جو چیز خریدتی ہیں وہ پاکستانی مصالحے ہیں-

ایک ایسی ہی خریدار مبینہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے پاکستانی مصالحوں کی بڑی تعریف سنی تھی اور اب انہیں آزمانے کے لیے لے جارہی ہیں اور جن لوگوں نے انہیں آزمایا ہے وہ دوبارہ انہیں خریدنے کے لیے آرہے ہیں-

یوں تو اقبال نے کاروبار کی تفصیل بتانے سے انکار کردیا لیکن کہا کہ ہر خریدار کی خواہش پورا کرنے کے لیے جتنا سامان لے کر آئے تھے وہ سب فروخت ہوچکا ہے اور انہوں نے مزید سامان منگوایا ہے-

پاکستانی اشیاء کی اتنی ‏زبردست مانگ کا ہی نتیجہ ہے کہ ان کا کاروبار بڑھتا جا رہا ہے- پاکستان کے نیشنل فوڈ کے مصالحے جن بیاسی ملکوں میں فروخت ہوتے ہیں ان میں اب ہندوستان بھی شامل ہوگیا ہے- اِس کے علاوہ شان پراڈکٹس کی ایجنسی بھی ہندوستان میں قائم ہوگئی۔ ہاشمی سرمے کی ایسی ہی کوئی چالیس ایجنسیاں بھی ہندوستان میں قائم ہوگئی ہے-

پاکستان میں بننے والے کپڑوں اور ڈریس مٹیریل کی مانگ میں بھی ‏زبردست اِضافہ ہوگیا ہے- اقبال کا کہنا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ہندوستانی ٹیلی ویژن چینلوں اور ‌خصوصیت سے سٹار پلس کے مشہور پروگرام میں لیے جانے والے چالیس فیصد کپڑے پاکستانی ہوتے ہیں اور اِن میں لوگوں کی دلچسپی بڑھ رھی ہے-
ا
ِقبال کا کہنا تھا کہ دو ہزار پانچ میں ہندوستان میں پاکستانی اشیاء کا جتنا کاروبار ہوا ہے اُتنا گزشتہ پچپن برس میں کبھی نہیں ہوا تھا- یہ کاروبار صرف ایسی اشیاء تک محدود نہیں ہے بلکہ جہاں ہندوستان سے بکرے اور دوسرے مویشی پاکستان بھیجے جارہے ہیں وہیں پاکستان سے پیاز ہندوستان منگوائی جارہے ہیں-

اب جیسے جیسے کھوکرا پار موناباؤ راستہ کھلنے اور ممبئی کراچی میں قونصل خانوں کی بحالی کے دن قریب آرہے ہیں محمد اِقبال جیسے تاجروں کے حوصلے بلند ہورہے ہیں-

لیکن اِس وقت دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کرنے والوں کو کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑرھا ہے- محمد اِقبال کو اپنا سَامان بحری راستے سے براستہ دوبئی منگوانا پڑتا ہے جس سے پاکستانی اشیاء کی قیمت اور بھی بڑھ جاتی ہے- اُن کا کہنا تھا کہ اگر سیدھا راستہ کھل جاتا ہے تو یہ قیمتیں کافی کم ہوجائیں گی-

اِقبال کا کہنا تھا کہ ’مجھے اُمید ہے کہ ایک ایسا وقت آ‏ئے گا جب ایک غریب آدمی بھی تین سو روپے میں کراچی سے دلی تک سفر کرسکے گا‘- ایسی اُمید کرنے والوں میں عام لوگ بھی شامل ہیں-

رجنیش مہتا اور اُن کی بیگم کومل کا کہنا تھا کہ’اُنہیں ہندوستان کے اِس حصے میں پاکستانی سٹال اور پاکستانی پراڈکٹس دیکھ کر بہت خوشی ہوئی‘-

رجنیش کا کہنا تھا کہ ’ایک ایسے وقت جبکہ ہندو پاک کرکٹ میچ چل رہے ہیں اُنہیں یہ خیال آیا کہ چل کر پاکستانی سٹال بھی دیکھنا چاہئیں‘-

کومل نے کہا کہ ’پاکستانی نمائش ہمیں بہت سندر اور الگ لگی‘ پاکستانی اشیاء کی اس بے پناہ مقبولیت کا ایک نتیجہ یہ نکلا ہے کہ محمد اِقبال کو آندھراپردیش کے دوسرے بڑے شہروں میں ہونے والی نمائش میں بھی مدعو کیا جارھا ہے-

وجے واڑہ ایگزیبیشن سوسائٹی کے پرساد بابو کا کہنا تھا ’ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان کا یہ اسٹال ان کے شہر میں بھی لگے کیونکہ یہ ہمارے بہتر ہوتے ہوئے رشتوں اور خوشگوار تعلقات کی ایک علامت ہے‘۔

اسی بارے میں
لیہ: بدھ مت، مسلم کشیدگی
09 February, 2006 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد