بالی وڈ کی اداکارہ نادرہ انتقال کر گئیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بولی وڈ کی مشہور اداکارہ اور فلم ’آن‘ میں یادگار کردار ادا کرنے والی نادرہ کا طویل علالت کے بعد ممبئی کے بھاٹیہ اسپتال میں انتقال ہو گیا۔ تقریباً چالیس دنوں سے نادرہ انتہائی نگہداشت والے کمرے میں زیر علاج تھیں۔ اطلاعات کے مطابق ادارکارہ نادرہ نے جمعرات کی صبح ساڑھے چار بجے آخری سانسیں لیں۔ان کا جسد خاکی لینے کے لیے ان کی منہ بولی بیٹی نینا چین والا ہسپتال پہنچیں تھیں اور صبح ساڑھے گیارہ بجے ان کی آخری رسومات ادا بھی کر دی گئیں ۔ نادرہ کے سگے بھائی اس وقت اسرائیل میں ہیں اور بتایا جاتا ہے کہ وہ اپنی بیماری کی وجہ سے بہن کی عیادت کے لیے نہیں آسکے۔ بھاٹیہ ہسپتال کی ڈاکٹر ارپیتاکافی عرصہ سے نادرہ کا علاج کر رہی تھیں۔ انہوں نے بی بی سی اردو ڈاٹ کوم کو بتایا کہ نادرہ کو دیگر بیماریوں کے علاوہ تپ دق کی شکایت تھی جو جان لیوا ثابت ہوئی۔ شراب کی زیادتی کی وجہ سے نادرہ کے گردے ناکارہ ہو گئے تھے اور وہ اعصابی کشیدگی کا شکار تھیں علاج کے دوران ہی وہ کوما میں چلی گئی تھیں ۔ ڈاکٹر کے مطابق ماضی کی ان کی عیادت کے لیے اداکارہ دیپتی نول ہمیشہ آتی رہیں حالانکہ نادرہ کوما میں تھیں لیکن پھر بھیوہ گھنٹوں ان کے ساتھ وقت گزارتی تھیں۔ ان سے ملنے کے لیے ایک مرتبہ دلیپ کمار اپنی بیگم کے ساتھ بھی آئے تھے لیکن اس کے بعد انہوں نے کسی اور کو نہیں دیکھا ۔
نادرہ بالی وڈ کی بے حسی کا شکار ہوئیں ۔اتنے عرصہ سے بیماری سے لڑ رہی نادرہ کا بالی وڈ میں کوئی پرسان حال نہیں تھا اس سے پہلے بھی وہ تنہائی کا عذاب جھیل رہی تھیں ۔ پچھتہر سالہ نادرہ کو ممبئی کے بھاٹیہ ہسپتال میں گزشتہ برس ستائیس دسمبر کو داخل کیا گیا تھا ۔انیس سو پچاس اور ساٹھ کی دہائی کی مشہور اداکارہ نادرہ کا اصلی نام فلورنس ازاکیل تھا۔ وہ فلموں میں کام کرنے کے لیے مشرق وسچطی سے بھارت آئی تھیں۔ فلمساز محبوب خان نے فلم ’آن‘ میں انہیں ان کی زندگی کا یادگار رول دیا۔ خوبصورت اداکارہ نے ایسے وقت میں ویمپ کا کردار کرنا شروع کیا جب ہیروئین شرمیلی گھریلو خواتین کا کردار کرنا پسند کرتیں تھیں ۔ وقت کے رخ کو اپنے انداز میں موڑنے والی نادرہ کو فلم ’جولی‘ میں فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا تھا۔ شہنشاہ جذبات دلیپ کمار کے ساتھ فلم ’آن‘ راج کپور کے ساتھ فلم ’شری چار سو بیس‘ ، ’دل اپنا‘ اور ’پریت پرائی‘ ، ’پاکیزہ‘، ’جولی‘ ، ’تمنا‘ اور ٹی وی سیرئیل ’مارگریٹا‘ میں ان کی اداکاری کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ۔ ان کی موت کی خبر ملتے ہی وہاں پہنچنے والوں میں دیپتی نول پہلی فرد تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے نادرہ کے دونوں بھائیوں کو ان کی موت کی اطلاع دے دی ہے ۔ نادرہ کے بارے میں نم آنکھوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ ایک خوبصورت دل والی خاتون تھیں جنہیں زندگی نے کچھ نہیں دیا بلکہ ان سے بہت کچھ وصول کر لیا اور وہ ایک نیک انسان تھیں ۔اپنے آخری وقتوں میں انہوں نے کتابوں اور شراب کو اپنا دوست بنا لیا تھا وہ ایک شوقین مزاج خاتون تھیں جنہیں زیورات کا بھی بہت شوق تھا۔ نادرہ کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے مہیش بھٹ، اشوک پنڈت، مدھر بھنڈارکر، علی رضا، نمی ،اور چندر شیکھر موجود تھے۔ فلمساز مہیش بھٹ نے فلم نگری کی کڑوی سچائی کے پس منظر میں نادرہ کو خراج عقیدت پیش کیا انہوں نے کہا کہ ’ہماری فلم نگری میں مرجھائے ہوئے پھولوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے اور میں بھی اس کا ایک حصہ ہوں اس لیے اپنے احساس جرم کو کم کرنے کے لیے میں آج یہاں پہنچا ہوں ۔نادرہ دراصل عرصہ قبل لوگوں کے ذہنوں میں مر چکی تھیں آج ان کی جسمانی موت ہوئی ہے۔‘ مہیش بھٹ ان دنوں کو یاد کیا کیا جب ان کی فلم ’ تمنا‘ بن رہی تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ نادرہ کا کردار ایسا ادکارہ کا تھا جو ماضی کی اداکارہ ہیں وہ فرسٹیرشن کا شکار ہیں کیونکہ دوبارہ فلموں میں آنے کی تمنا کرتی ہیں۔ ان میں وہ تڑپ اور پیاس حقیقی دکھائی دی ۔ |
اسی بارے میں 1965 فلمی دنیا کا فیصلہ کُن سال23 January, 2006 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||