1965 فلمی دنیا کا فیصلہ کُن سال | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
1965 کا سال اس لحاظ سے بڑا فیصلہ کن ثابت ہوا کہ بھارتی فلموں کی نمائش پر مکمل پابندی لگ گئی۔ اگرچہ اس سے پہلے بھی کئی بار انڈین فلمیں عارضی پابندی کی زد میں آئی تھیں لیکن فلم سازوں اور تقسیم کاروں کی باہمی چپقلش اور مُتضاد مالی مفادات کے باعث اسطرح کی پابندیاں کبھی مستقل شکل اختیار نہ کر سکیں۔ تاہم سن 65 میں چونکہ معاملہ قومی غیرت و حمیت کا تھا اس لئے تقسیم کاروں کو بھی اپنے مالی مفادات قربان کر کے فلم سازوں کی صفوں میں شامل ہونا پڑا۔ پاک بھارت جنگ تو سترہ دِنوں میں ختم ہو گئی تھی لیکن انڈین فلموں پر لگی پابندی اب تک جاری ہے۔ اُن دِنوں یہ خیال عام تھا کہ اس سے پاکستان کی فلم انڈسٹری کو ایک ناروا قسم کے کاروباری مقابلے سے چھُٹکارا مِل جائے گا اور یہ صنعت مضبوط قدموں پر کھڑی ہو کر پاکستانی ناظرین کے لئے خوبصورت اور معیاری فلمیں تخلیق کرے گی۔ یہ توقع محض جزوی طور پر پوری ہو سکی کیونکہ کاروباری سطح پر واقعی ہماری فلم انڈسٹری نے خوب رنگ جمایا لیکن معیاری فلموں کا خواب پوری طرح شرمندہء تعبیر نہ ہو سکا کیونکہ سن ساٹھ کے عشرے میں بننے والی چھ سو سے زیادہ فلموں میں سے صرف دو درجن فلمیں ایسی تھیں جنھیں فنکارانہ طور پر یا کاروباری لحاظ سے کامیاب قرار دیا گیا۔ یہ الگ بات ہے کہ آج کے فلمی کل یُگ میں ہمیں ماضی کی وہ نیم کامیاب فلمیں بھی غنیمت دکھائی دیتی ہیں۔
’سلمٰی‘ (جسکا تفصیلی حال ہم نے گزشتہ مضمون میں بیان کیا تھا) سہیلی، شہید، موسیقار، گھونگھٹ، عشق پر زور نہیں، باجی، دامن، خاموش رہو، فرنگی، ہیرا اور پتھر، نائلہ، کنیز، آگ کا دریا، ارمان، بدنام، آئینہ، انسانیت، لاکھوں میں ایک، دیور بھابھی، ہمراز، آگ، سنگ دِل، بہن بھائی، صاعقہ، سالگرہ، بزدل، دیا اور طوفان، زرقا۔ اِن کے ساتھ ساتھ مشرقی پاکستان میں ساگر، سراج الدولہ، درشن اور چکوری جیسی فلمیں بھی اسی زمانے کی یاد گار ہیں۔ ہیرا اور پتھر نے وحید مُراد کو بطور ہیرو مستحکم کر دیا اور چکوری نے ہماری انڈسٹری کو ندیم جیسا اداکار دیا۔ یہ دونوں نوجوان پاکستانی فلم انڈسٹری کے لئے بیش بہا سرمایہ ثابت ہوئے اور انھوں نے ربع صدی تک پاکستانی سکرین پر حکومت کی۔ پنجابی فلموں میں۔ ’ بہروپیا‘ مٹی دیاں مورتاں، مفت بر، چوڑیاں، تیس مار خان، چاچا خواہ مخواہ، وارث شاہ، ہتھ جوڑی، ہڈ حرام، پھنے خان، جی دار، ملنگی، مسٹر اللہ دِتہ، ابا جی، مرزا جٹ، چن مکھنا، جنابِ عالی، باؤجی، وریام اور دِلاں دے سودے سن ساٹھ کی دہائی کے شہکار تھے۔ بُنیادی طور پر بلاشبہ یہ اُردو فلموں کا دور تھا لیکن انھی دِنوں میں لالی وُڈ کی پنجابی فلم انڈسٹری بھی مُستحکم ہوئی۔
حزین قادری نے پنجاب کے دیہات کی زندگی کو دیکھا اور برتا ہوا تھا۔ انھیں جلد ہی وہ ڈھنگ بھی آگئے جن سے دیہاتی زندگی کے براہ راست تجربے کو ایک کمرشل پراڈکٹ میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ چناچہ ظالم جاگیردار اور مظلوم مزارع کے ساتھ ساتھ انھیں گاؤں کے میراثی، دھوبی، نائی، ماشکی یا کسی اور کمّی کمین کی شکل میں مزاحیہ کرداروں کی ضرورت بھی پڑتی رہی اور اِس ضرورت کو اداکار منّور ظریف اور رنگیلا بھرپور طریقے سے پورا کرتے رہے۔ اس عشرے کے آخر میں اداکار رنگیلا نے اپنی ذاتی فلم ’دیا اور طوفان‘ نمائش کے لئے پیش کی۔ جس کے ذریعے اداکاری کی تنگنائے سے نکل کر وہ سکرپٹ نگاری، گیت نگاری، گلوکاری اور ہدایتکاری کے گہرے سمندر میں غوطہ زن ہوئے اور گوہرِ مُراد لے کر ہی لوٹے۔ اسی دہائی میں ایس سلمان اور حسن طارق بطور ہدایتکار مستحکم ہوئے اور ریاض شاہد کے قلم کا جادو بھی یوں سر چڑھ کے بولا کہ خاموش رہو، شہید، فرنگی اور زرقا نے ہر طرف اُن کی دھاک بٹھا دی۔
زندہ لاش میں اداکار ریحان نے ڈریکولا سےملتا جُلتا ایک کردار ادا کیا تھا – ایک پروفیسر جو آبِ حیات بناتا ہے لیکن فارمولے میں گڑ بڑ ہو جانے کے باعث، یہ مشروب اسے حیاتِ جاودانی بخشنے کی بجائے ایک بدروح میں تبدیل کر دیتا ہے اور باقی ساری فلم اسی بدروح کے خوفناک کارناموں پر مشتمل ہے۔ تکنیکی طور پر اس فلم کی سب سے بڑی خوبی اسکی شاندار فوٹوگرافی تھی۔ بلیک اینڈ وائٹ فوٹوگرافی کا فریضہ دو ماہرینِ فن بنی احمد اور رضا میر نے انجام دیا تھا اور روشنی اور سائے کے ایسے اِمتزاجات قائم کئے تھے جِن سے کہانی کا سسپینس کئی گنا بڑھ گیا تھا۔ بہر حال اِن ضمنی کامیابیوں کے باوجود سن ساٹھ کے عشرے کا اصل کمال کمرشل سینما کو مُستحکم کرنا تھا۔ اِس استحکام میں پاکستان کی پہلی پلاٹینم جوبلی فلم ’ارمان‘ کے مصنّف، اداکار، ہدایتکار اور فلم ساز وحید مُراد کا کیا کردار تھا، ہماری اگلی نشست کا موضوع یہی رہے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||