جب پہلی بامقصد فلم بنی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
قیامِ پاکستان کے بعد تین برس تک کوئی قابلِ ذِکر فلم بنائی نہ جا سکی۔ اس دور کی واحد کامیاب فلم پھیرے (پنجابی) تھی جسکا احوال ہم نے پچھلی بار پیش کر دیا تھا۔ آج ہم 1950 اور اسکے بعد کے برسوں کا حال بیان کرنا چاہتے ہیں۔ میرے بچپن میں ریڈیو سے دو گانے بڑی کثرت سے بجا کرتے تھے: دِل کو لگا کے کہیں ٹھوکر نہ کھانا اور انھی گلوکاروں کی آواز میں ایک اور دوگانا بھی مشہور تھا: او پردیسیا بُھول نہ جانا میں عرصہ دراز تک انھیں کسی بھولی بسری ہندوستانی فلم کے گیت سمجھتا رہا لیکن کالج کے زمانے میں پہنچ کر پتہ چلا کہ گانے والے علی بخش ظہور اور منّور سلطانہ ہیں اور یہ پاکستانی فلم ’ بے قرار ‘ کے گانے ہیں جو کہ 1950 میں بنی تھی۔ آج فلم بے قرار کے بارے میں سوچتا ہوں تو بلا خوفِ تردید کہہ سکتا ہوں کہ یہ پاکستان کی پہلی بامقصد فلم تھی اور اسکا مقصد ملک کے کسانوں کو یہ باور کرانا تھا کہ زیادہ اناج اگانا اس وقت مُلک کی اہم ترین ضرورت ہے۔
فلم میں ایک غریب کاشتکار گندم کی بہتر پیداوار حاصل کر کے حکومت کے انعام واکرام کا حق دار ٹھہرتا ہے اور اسطرح زمیندار کے عیاش بیٹے کی دُشمنی مول لے لیتا ہے۔ یہ دشمنی بعد میں رانی نام کی لڑکی تک رسائی حاصل کرنے کے لئے ایک چیلنج کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ فلم کے مصنف اور ہدایت کار نذیر اجمیری تھے جنھوں نے خاموش دور میں ایک اداکار کے طور پر اپنے کیرئر کا آغاز کیا تھا اور بعد میں ایک سکرپٹ رائٹر کے طور پر فلم انڈسٹری میں اپنا مقام مستحکم کر لیا تھا۔ پاکستان آنے سے پہلے انھوں نے بمبئی میں فلم ’ مجبور‘ بنائی تھی جِس میں پہلی بار لتا منگیشکر کو واحد آواز میں گانے کا موقع ملا تھا ( اس سے پہلے وہ صرف کورس میں گاتی رہی تھیں )۔ نذیر اجمیری کے ساتھ ماسٹر غلام حیدر بھی پاکستان آگئے تھے اور دونوں نے ایس گُل کے اشتراک سے ایک فلم کمپنی شروع کی اور یوں فلم ’ بے قرار ‘ وجود میں آئی جسکے ہیرو خود ایس گُل تھے اور موسیقی ماسٹر غلام حیدر نے مرتب کی تھی۔ اس فلم کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ اپنے وقت سے بہت آگے تھی۔ شاید اسی لئے اچھے موضوع اور دلکش موسیقی کے باوجود یہ کاروباری طور پر نا کام رہی۔ البتہ اس کے ایک برس بعد بننے والی پنجابی فلم ’چن وے‘ نے کاروباری سطح پر تہلکہ مچا دیا۔ چن وے 24 مارچ 1951 کو لاہور کے ریجنٹ سنیما میں ریلیز ہوئی اور عوام نے عرصہ دراز کے بعد کسی سینما پر لمبی قطاروں اور دھینگا مُشتی کی مناظر دیکھے ’ جُگنو‘ کے چار برس بعد نورجہاں کی کوئی فِلم سامنے آئی تھی اور لوگ اسکی ایک جھلک دیکھنے کے لئے بے قرار تھے۔ چن وے کی سب سے اہم بات یہ تھی کہ اسے خود نورجہاں نے ڈائریکٹ کیا تھا اور اساطیرِ لالی وُڈ میں تو یہاں تک کہا جاتا ہے کہ اسکا میوزک بھی نورجہاں نے خود ہی دیا تھا اور فیروز نظامی محض نام کے موسیقارتھے۔
تاہم وفات سے کچھ عرصہ قبل لندن میں اپنے ایک طویل انٹرویو کے دوران نورجہاں نے ان قصّوں کی تردید کرتے ہوئے راقم کو بتایا کہ فیروزنظامی اپنے فن کے ماہر تھے، وہ موسیقی کے تمام اسرارو رموز سے واقف تھے اور چن وے کی ساری دُھنیں انکے ذاتی کمالِ فن کا نتیجہ تھیں۔ چن وے کی کامیابی میں اسکے گیتوں کا بڑا دخل تھا۔ اور گیت بھی ایک سے بڑھ کر ایک تھے: تیرے مکُھڑے دا کالا کالا تِل وے پنجاب کی سڑکوں پہ ہر من چلا یہ گیت گنگناتا پھرتا تھا۔ لیکن نورجہاں کے فن کی پُختگی اور گلے کا ریاض اُس گانے میں نظر آتا ہے جس کے بول ہیں: ’تان پلٹے‘ کے جو کرتب نورجہاں نے اس گیت میں دکھائے شاید انھی کے پیش نظر یہ افوّاہ اڑی تھی کہ اس فلم کا میوزک بھی نورجہاں نے خود دیا ہے۔ چن وے کے گیت پاپولر شاعر ایف۔ ڈی شرف نے لکھے تھے جو قریبی حلقوں میں ’ بھا شرف ‘ کے نام سے معروف تھے اور قبل ازیں کلکتے میں بننے والی کئی پنجابی فلموں کے گانے اور مکالمے لکھ چُکے تھے۔ آج یہ فلم دیکھیے تو احساس ہوتا ہے کہ سنسر بورڈ کا شکنجہ اُس زمانے میں اتنا سخت نہ تھا۔ مثلاً اِس فلم میں لڑکا اپنی سوتیلی بہن پر بُری نظر رکھتا ہے اور لڑکے کا باپ بھی اس بدمعاشی میں اسکی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ سنسر کی بات چلی ہے تو اس زمانے میں بننے والی نورجہاں کی فلم’دوپٹہ ‘ ہماری فلمی دُنیا سنسر کی سختیوں کو کس طرح جھیلتی رہی اور کس کس طرح سے اسے جُل دینے کی کوشش کرتی رہی، اسکا احوال آپ آئندہ قسطوں میں دیکھتے رہیں گے |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||